
علامتی تصویر / اے آئی
سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) کے تازہ اعداد و شمار پالیسی سازوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ سال 2024 میں ملک میں درج ہونے والی مجموعی اموات میں تقریباً نصف ایسے افراد کی تھیں جنہیں وفات سے پہلے کسی تربیت یافتہ طبی ماہر کی نگرانی میں علاج میسر نہیں آ سکا۔ 2020 میں یہ شرح 18 فیصد تھی۔ دیہی علاقوں میں یہ تناسب اس سے بھی زیادہ رہا، جبکہ بہار جیسی ریاستوں میں یہ تعداد تقریباً دو تہائی تک پہنچ گئی۔ یہ صرف اموات کے اعداد و شمار نہیں، بلکہ اس حقیقت کا پیمانہ ہیں کہ عام ہندوستانیوں کی پہنچ سے باقاعدہ صحت خدمات آج بھی کتنی دور ہیں۔
اسی پس منظر میں ہمیں ملازمین ریاستی بیمہ کارپوریشن (ای ایس آئی سی) کا جائزہ لینا چاہیے۔ اگرچہ اس ادارے میں اصلاحات کی ضرورت ایک طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نجکاری، آؤٹ سورسنگ یا سماجی تحفظ کے ایک بہترین ادارے کو نجی بیمہ کمپنیوں اور کارپوریٹ اسپتالوں کے حوالے کر دیا جائے۔
Published: undefined
ای ایس آئی سی کو اکثر محض ایک طبی بیمہ اسکیم سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں اس کا دائرۂ کار اس سے کہیں وسیع ہے۔ یہ رسمی معیشت میں کام کرنے والے کم آمدنی والے مزدوروں کے لیے ایک سماجی بیمہ نظام ہے جو علاج کے ساتھ ساتھ آمدنی کے تحفظ کی بھی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے تحت بیماری، زچگی، معذوری، کام کی جگہ پر پیش آنے والے حادثات، زیر کفالت افراد کے لیے فوائد، بے روزگاری امداد اور مستقل معذوری کی صورت میں تاحیات پنشن جیسی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ 15 ہزار روپے ماہانہ کمانے والے ایک مزدور کے لیے آجر اور ملازم دونوں کی جانب سے مجموعی سالانہ شراکت تقریباً 7,200 روپے بنتی ہے۔ اتنی کم رقم میں مزدور اور اس کے پورے خاندان کو علاج کی سہولت بغیر کسی بالائی مالی حد کے حاصل ہوتی ہے، ساتھ ہی نقد فوائد بھی ملتے ہیں، جو عام نجی بیمہ مصنوعات فراہم نہیں کرتیں۔
یہ معاملہ صرف سماجی انصاف کا نہیں بلکہ صنعتی مستقبل کا بھی ہے۔ ہندوستان دنیا کی بڑی مینوفیکچرنگ معیشتوں میں شامل ہے، لیکن یہاں کام کی جگہوں پر ہونے والے حادثات کی نہ تو مکمل رپورٹنگ ہوتی ہے اور نہ ہی ان پر خاطر خواہ توجہ دی جاتی ہے۔ ایک مؤثر اور فعال ای ایس آئی سی نظام فوری علاج، اجرت کے معاوضے، بحالی اور معذوری امداد کے ذریعے زخمی مزدوروں کو غربت کے چکر میں پھنسنے سے بچا سکتا ہے۔ مزدوروں کی صحت ہی ملک کا پیداواری سرمایہ ہے۔ اس لیے ای ایس آئی سی میں اصلاحات صرف فلاحی اصلاحات نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت سے جڑی ایسی اصلاحات ہیں جنہیں صنعتی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر سمجھا جانا چاہیے۔
Published: undefined
ای ایس آئی سی کے تحت تقریباً 3.84 کروڑ بیمہ شدہ افراد شامل ہیں اور ان کے اہل خانہ کو ملا لیا جائے تو مستفید ہونے والوں کی تعداد 14.91 کروڑ تک پہنچ جاتی ہے، جو ملک کی کل آبادی کا تقریباً دسواں حصہ ہے۔ اس ادارے کے پاس اسپتالوں کا وسیع نیٹ ورک، میڈیکل کالج، قیمتی اراضی اور ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد کا محفوظ فنڈ موجود ہے۔ کسی بھی پیمانے سے دیکھا جائے تو یہ ہندوستان کے سب سے کم استعمال ہونے والے عوامی سماجی بنیادی ڈھانچے کے اثاثوں میں شمار ہوتا ہے۔
اس کے نظریاتی پس منظر کو یاد کرنا بھی ضروری ہے۔ برطانیہ کی قومی صحت خدمات (این ایچ ایس) کی بنیاد سماجی تحفظ کے "بیوریج وژن" پر رکھی گئی تھی۔ ہندوستان میں پروفیسر بی پی ادلکر نے 1940 کی دہائی میں صنعتی مزدوروں کے لیے اسی نوعیت کا ایک خاکہ تیار کیا تھا۔ 1948 کا ای ایس آئی ایکٹ اسی دور اندیش سوچ کا نتیجہ تھا۔ بعد میں این ایچ ایس دنیا بھر میں ایک قابل احترام عوامی ادارہ بن گیا، اگرچہ اس وقت وہ بجٹ میں کٹوتیوں اور عملے کی کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ یہ درست ہے کہ ای ایس آئی سی طویل عرصے سے غفلت، کمزور انتظامیہ اور ناقص صارف تجربے کا شکار رہا ہے، لیکن یہ اصولوں کی نہیں بلکہ ان کے نفاذ کی ناکامی ہے۔
Published: undefined
اس کی خامیاں حقیقی ہیں۔ مزدور اکثر طویل قطاروں، معلومات کی کمی، دواؤں کی قلت، ریفرل میں تاخیر، عملے کے غیر سنجیدہ رویے اور نقد فوائد کے حصول میں ہفتوں کی تاخیر کی شکایت کرتے ہیں۔ ہریانہ اور مہاراشٹر میں زخمی مزدوروں کے ساتھ کام کرنے والی تنظیم "سیف اِن انڈیا" (ایس آئی آئی) فاؤنڈیشن کے زمینی تجربات اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ تنظیم نے جن آٹھ ہزار سے زائد زخمی مزدوروں کی مدد کی، ان میں سے 73 فیصد کو عارضی معذوری کے فوائد حاصل کرنے کے لیے چھ ماہ سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔ مانیسر میں کئی مزدوروں کو الٹراساؤنڈ جیسے بنیادی طبی ٹیسٹ بھی اپنی جیب سے خرچ کرکے نجی مراکز سے کرانے پڑے۔
لیکن اس کا حل ای ایس آئی سی کو ترک کرنا نہیں بلکہ اسے بہتر بنانا ہے۔ کم اجرت پانے والے مزدوروں کے لیے "انتخاب" کا تصور اکثر ایک دھوکا ثابت ہوتا ہے۔ بہت سے مزدور مہاجر ہوتے ہیں، مختصر مدت کے معاہدوں پر کام کرتے ہیں، معلومات سے محروم ہوتے ہیں اور رجسٹریشن کے لیے مکمل طور پر آجروں پر انحصار کرتے ہیں۔ "سیف اِن انڈیا" کے تجربے کے مطابق مدد حاصل کرنے والے زخمی مزدوروں میں سے 16 فیصد کا اندراج حادثے کے بعد کیا گیا، جبکہ 64 فیصد کو ای ایس آئی کارڈ چوٹ لگنے کے بعد ملا۔ جب لازمی رجسٹریشن ہی مؤثر انداز میں نافذ نہیں ہو رہی تو محض "انتخاب" فراہم کر دینے سے مزدوروں کی حالت بہتر نہیں ہو سکتی۔
Published: undefined
اس کے علاوہ نجی بیمہ کمپنیاں کبھی بھی ای ایس آئی سی کے جامع فوائد کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ پانچ لاکھ روپے کے ایک نجی فیملی فلوٹر پلان پر سالانہ 15 ہزار سے 30 ہزار روپے تک خرچ آ سکتا ہے، اور اس میں بھی صرف اسپتال میں داخلے کے اخراجات (وہ بھی متعدد شرائط، انتظار کی مدت اور مخصوص حدود کے ساتھ) شامل ہوتے ہیں۔ ایسے منصوبوں میں او پی ڈی، اجرت کے نقصان، زچگی کی رخصت کے دوران تنخواہ کی ادائیگی، معذوری پنشن یا کام کے دوران لاحق ہونے والی بیماریوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ 28 سال کی عمر میں معذور ہونے والے ایک مزدور کو آئندہ 40 سال تک مالی سہارے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اسی طرح سلیکوسس جیسی بیماریاں کام کے ماحول کے اثرات کے نتیجے میں کئی دہائیوں بعد ظاہر ہو سکتی ہیں۔ نجی بیمہ کمپنیاں ایسے خطرات کو کبھی بھی مناسب پریمیم پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گی۔ اس کے لیے ایک قانونی، لازمی اور اجتماعی نظام ہی درکار ہے۔
اصلاحات کا ایجنڈا عملی ہونا چاہیے۔ پہلی بات یہ کہ مزدوروں سے متعلق ہر عمل کو آسان بنایا جائے۔ حادثات کی رپورٹنگ، دعووں، ریفرلز، معذوری کے تعین اور فوائد کی نگرانی کے نظام کو فائلوں کے بجائے مزدور کو مرکز میں رکھ کر ازسر نو ترتیب دیا جائے۔ دوسری بات یہ کہ خدمات کے واضح اور سخت معیارات مقرر کرکے انہیں عوامی بنایا جائے، مثلاً دعوے سے ادائیگی تک کا وقت، دواؤں کی دستیابی، انتظار کا دورانیہ اور ریفرل کی مدت۔ تیسری بات یہ کہ ہر بڑے صنعتی کلسٹر میں بنیادی طبی سہولتوں کو مضبوط کیا جائے تاکہ مزدور مایوس ہو کر نظام سے باہر نکلنے پر مجبور نہ ہوں۔ چوتھی بات یہ کہ انسانی وسائل کی کمی دور کی جائے اور جہاں مزدور حقیقتاً رہتے اور کام کرتے ہیں وہاں ڈاکٹروں، ماہرین، نرسوں اور اسپتال منتظمین کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ پانچویں، اپائنٹمنٹ، صحت کے ریکارڈ اور ٹیلی میڈیسن کے لیے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کیے جائیں، بشرطیکہ ڈیجیٹل خواندگی مزدوروں کے لیے کوئی نئی رکاوٹ نہ بنے۔
Published: undefined
انتظامی اصلاحات بھی بے حد اہم ہیں۔ ای ایس آئی سی کو مزدوروں اور آجروں، خصوصاً ایم ایس ایم ای شعبے، کے لیے زیادہ جواب دہ بنانا ہوگا۔ اس کے بورڈ اور ریاستی اداروں میں کنٹریکٹ مزدوروں سمیت عام مزدوروں، آجروں، حکومت اور آزاد طبی ماہرین کی مؤثر نمائندگی ہونی چاہیے۔ اجرت کی بالائی حد میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے۔ اسے بڑھایا جانا چاہیے اور وقتاً فوقتاً مہنگائی کے مطابق اس میں تبدیلی کی جانی چاہیے۔ اس کا دائرہ بتدریج تعمیراتی مزدوروں، گگ ورکرز اور پلیٹ فارم ورکرز تک بھی وسیع کیا جانا چاہیے۔ ای ایس آئی سی کے فنڈز کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
ای ایس آئی سی کی اپنی ایک منفرد اہمیت ہے۔ یہ صرف اسپتال میں داخلے کے اخراجات کی کوئی عام اسکیم نہیں ہے۔ یہ صحت کی دیکھ بھال کو کام کے دوران پیش آنے والی چوٹوں، اجرت کے نقصان، زچگی کے تحفظ، معذوری پنشن اور پیشہ ورانہ بیماریوں کی نگرانی سے جوڑتی ہے۔ اس ادارہ جاتی صلاحیت کو تشکیل دینے میں کئی دہائیاں صرف ہوئی ہیں، اس لیے اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ہندوستان کے صحت کے شعبے کا بحران عوامی نظام کی زیادتی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مؤثر عوامی نظام کی شدید کمی کا نتیجہ ہے۔ جب ملک میں تقریباً نصف اموات کسی تربیت یافتہ طبی نگرانی کے بغیر ہو رہی ہوں تو اس کا حل ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ مزدوروں کو ان کے لیے بنائے گئے واحد قانونی نظام سے محروم کر دیا جائے۔ حل صرف ایک ہے: اس نظام کو درست کیا جائے۔ اس کا پیشہ ورانہ انداز میں انتظام کیا جائے اور اس میں شفافیت لائی جائے۔ جہاں ضرورت ہو وہاں نجی شعبے کی مہارت سے فائدہ ضرور اٹھایا جائے، لیکن شرائط ای ایس آئی سی کی ہونی چاہئیں۔ اس منصوبے کے عوامی کردار کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ایک مضبوط اور ازسر نو فعال ای ایس آئی سی ہندوستان میں جامع سماجی صحت تحفظ کے لیے ایک مثالی نمونہ بن سکتی ہے۔
(اجیت راناڈے، معروف ماہرِ معاشیات، بشکریہ: دی بلین پریس)
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined