
وزیر اعظم نریندر مودی (ویڈیو گریپ)
وزیراعظم نریندر مودی نے 31 جولائی کی رات انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے ان نوجوان مظاہرین کو ’معاف‘ کرنے کا اعلان کیا جنہوں نے احتجاج کے دوران ان کے اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔ وزیراعظم نے ان مظاہرین کو ’گمراہ بچے‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں صحیح راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔
اس بیان سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ ایک جمہوری ملک میں آخر وہ کون سا جرم تھا جسے معاف کرنے کا اختیار وزیراعظم نے اپنے لیے مناسب سمجھا؟ اگر کسی سے معافی مانگی جانی چاہیے تھی تو پہلے حکومت کو اپنی ان پالیسیوں اور اقدامات پر معذرت کرنی چاہیے تھی جنہوں نے ہزاروں نوجوانوں کو ملک بھر سے جنتر منتر تک احتجاج کے لیے پہنچنے پر مجبور کیا۔
احتجاج کے دوران بعض افراد کی زبان نامناسب اور غیر شائستہ تھی، لیکن بدذوق یا سخت زبان کا استعمال بذاتِ خود کوئی فوجداری جرم نہیں بنتا۔ کہنا ہے کہ جمہوری معاشرے میں شہری وزیراعظم کے لیے محبت، عقیدت یا پارلیمانی زبان استعمال کرنے کے پابند نہیں ہوتے۔ جب تک کوئی بیان تشدد پر اکسانے، جان سے مارنے کی دھمکی دینے یا کسی واضح قانونی جرم کے دائرے میں نہ آتا ہو، اسے سیاسی اظہارِ رائے ہی تصور کیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ملک گیر احتجاج کے دباؤ کے باعث حکومت کو وزیر تعلیم کو ہٹانا پڑا تھا۔ 23 جولائی کو حکومت کے ساتھ مذاکرات اور ایف آئی آر واپس لینے کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم ہوا، لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد، خاص طور پر خاتون مظاہرین کو سوشل میڈیا پر منظم مہم، ذاتی معلومات عام کئے جانے، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
جب اس رویے پر تنقید بڑھنے لگی اور نوجوانوں نے دوبارہ احتجاج کی دھمکی دی تو وزیراعظم نے ’معافی‘ کا اعلان کرتے ہوئے پوری بحث کو حکومتی جوابدہی سے ہٹا کر اخلاقی مسئلہ بنانے کی کوشش کی۔ مظاہرین کو ’بچے‘ قرار دینا بھی ایک سیاسی حکمتِ عملی تھی تاکہ ان کی سیاسی حیثیت اور شعوری کردار کو کم تر دکھایا جا سکے، حالانکہ یہ سب بالغ شہری اور ووٹر ہیں جو حکومت سے بہتر کارکردگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
کسی سیاسی رہنما کے خلاف سخت یا نازیبا الفاظ استعمال کرنا اور دوسری جانب مظاہرین، خصوصاً خواتین، کو عصمت دری یا قتل کی دھمکیاں دینا دونوں کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ پہلی صورت اظہارِ رائے کے دائرے میں آ سکتی ہے، جبکہ دوسری صورت سنگین مجرمانہ کارروائی ہے۔
گزشتہ بارہ برسوں کے دوران راقم الحروف، اہلِ خانہ، ساتھیوں اور حتیٰ کہ میرے مرحوم والد کو بھی سوشل میڈیا پر گالیاں، جان سے مارنے اور عصمت دری کی دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں۔ میری جامعہ اور یونیسکو چیئر سے متعلق ذمہ داریوں کو بھی آن لائن مہمات کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاکہ حکومت پر تنقید کرنے کی قیمت بڑھائی جا سکے۔
ایسے مواقع پر نہ کبھی وزیراعظم نے اظہارِ افسوس کیا اور نہ ہی کسی سینئر بی جے پی رہنما نے ان حملوں کی مذمت کی۔ حکمران جماعت کی سیاسی مہم اور آن لائن نفرت انگیز مہمات کے درمیان حدِ فاصل اکثر دھندلا دی جاتی ہے، جس سے حکومت بظاہر خود کو الگ رکھتے ہوئے بھی اس ماحول سے فائدہ اٹھاتی ہے۔
فرانس میں ایک کارکن ہروے ایون کو اس لیے سزا سنائی گئی تھی کہ اس نے صدر نکولس سرکوزی کے خلاف ایک ایسا نعرہ لکھا تھا جو خود سرکوزی پہلے استعمال کر چکے تھے۔ بعد میں یورپی عدالتِ برائے انسانی حقوق نے اس سزا کو آزادیِ اظہار کے خلاف قرار دیا، جس کے بعد فرانس نے صدر کی توہین سے متعلق پرانا قانون ہی ختم کر دیا۔
اسی طرح اسپین میں بادشاہ خوان کارلوس اور ملکہ صوفیہ کی تصاویر نذرِ آتش کرنے والے مظاہرین کے حق میں بھی یورپی عدالت نے فیصلہ دیا کہ اشتعال انگیز سیاسی احتجاج کو محض اس بنیاد پر جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسپین میں باسک رہنما آرنالڈو اوٹیگی کے مقدمے اور پولینڈ میں یعقوب ژولچک کے کیس میں بھی عدالتوں نے یہی اصول اپنایا کہ سربراہِ مملکت کو تنقید سے بالاتر خصوصی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
ان عدالتی فیصلوں کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کی توہین یا نازیبا زبان قابلِ تحسین ہے، بلکہ وہ ایک زیادہ اہم اصول کو واضح کرتے ہیں کہ جمہوری آزادی کا اصل امتحان ایسے اظہارِ رائے سے ہوتا ہے جو لوگوں کو ناگوار گزرے، انہیں چونکا دے یا انہیں ناپسند ہو، نہ کہ صرف ایسی باتوں سے جن پر سب متفق ہوں۔ حکمرانوں کو ٹیلی ویژن، سیاسی جماعتوں، عوامی پلیٹ فارموں اور ریاستی اختیارات تک غیر معمولی رسائی حاصل ہوتی ہے، اس لیے وہ تنقید کا جواب فوجداری قوانین کا سہارا لیے بغیر بھی دے سکتے ہیں۔ چونکہ ان کے پاس وسیع اختیارات ہوتے ہیں، اس لیے انہیں عام شہریوں کے مقابلے میں زیادہ تنقید اور مخالفت برداشت کرنی چاہیے، نہ کہ اپنے لیے زیادہ قانونی تحفظ کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
وزیراعظم مودی کی جانب سے ’معافی‘ کا اعلان دراصل عوام کی توجہ اصل مسئلے اور ان وجوہات سے ہٹانے کی کوشش ہے جن کی بنا پر ان کا مذاق اڑایا گیا۔ ان کے مطابق ہندوستان کے نوجوان محض وزیراعظم کی توہین کرنے کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلے تھے، بلکہ وہ ایک ایسے تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جو ان کی نظر میں ناکام ہو چکا ہے، مسابقتی امتحانات میں بار بار ہونے والے پرچہ لیک کے واقعات نے ان کے مستقبل کو شدید نقصان پہنچایا، اور وہ حکمرانی کی ناکامیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے۔ غصہ کسی وجہ کے بغیر پیدا نہیں ہوا بلکہ مسلسل ناانصافیوں کے بعد سامنے آیا۔ ان کے خیال میں احتجاج کے دوران استعمال ہونے والے مبینہ نازیبا الفاظ کو پوری بحث کا مرکز بنا کر حکومت عوام سے یہ توقع کر رہی ہے کہ وہ امتحانی اسکینڈل، وزیرِ تعلیم کی برطرفی اور اس عوامی دباؤ کو فراموش کر دیں جس نے حکومت کو پسپائی پر مجبور کیا۔
حکومت کے اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس کی اصل دلچسپی نظام کی اصلاح میں نہیں بلکہ کسی نہ کسی طرح بحران کو ٹھنڈا کرنے میں ہے۔ پہلے احتجاج ختم کرانے کے لیے یقین دہانیاں کی گئیں، پھر نوجوان مظاہرین کے خلاف کارروائیاں کر کے ان کے دلوں میں خوف پیدا کرنے اور مستقبل میں دوبارہ احتجاج کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک فعال جمہوریت میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کی صورت میں ایک مظاہرے کے شریک کے خلاف درج ’زیرو ایف آئی آر‘ سمیت الزامات قانونی طور پر کمزور ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ اصل توجہ عصمت دری اور قتل کی دھمکیوں، ذاتی معلومات عام کرنے اور ہراساں کرنے کے واقعات کی سنجیدہ تحقیقات پر ہونی چاہیے۔
معافی ایک شخصی اور اخلاقی فیصلہ ہے، لیکن جب کوئی حکمران ایسے طرزِ عمل پر ’معاف‘ کرنے کا دعویٰ کرے جسے قانونی طور پر جرم قرار دینے کا اختیار ہی اسے حاصل نہ ہو، تو یہ سیاسی اعتبار سے تشویش ناک صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ہندوستان کے نوجوان مظاہرین کو وزیراعظم نریندر مودی کی پدرانہ معافی کی ضرورت نہیں، بلکہ انہیں اس ریاست سے آئینی تحفظ درکار ہے جس کی قیادت وزیراعظم کرتے ہیں، اور وہ اپنی حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں شعبۂ امن و تنازعات کی تحقیق کے پروفیسر ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔