فکر و خیالات

پہلی بار حکومت کی شکست فاش، اپوزیشن اتحاد کی جیت...سہیل انجم

پارلیمنٹ میں حدبندی ترمیمی بل کی ناکامی نے ثابت کیا کہ متحد اپوزیشن حکومت کو چیلنج دے سکتی ہے، جس پر خواتین ریزرویشن کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے اور حدبندی سے وفاقی توازن متاثر کرنے کا الزام ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 
IANS

سترہ اپریل کو پارلیمنٹ میں جو کچھ ہوا اور جس طرح حدبندی سے متعلق حکومت کے ترمیمی بل کی شکست فاش ہوئی اس سے یہ حقیقت بہت واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ یہ حکومت ناقابل شکست نہیں ہے۔ اگر حزب اختلاف کی جماعتیں متحد ہو جائیں تو اسے بڑی آسانی سے ہرایا جا سکتا ہے۔ صرف پارلیمنٹ کے ایوانوں میں نہیں بلکہ انتخابات کے میدانوں میں بھی۔ اگر ہم لوک سبھا انتخابات میں حکمراں جماعت بی جے پی کو ملنے والے ووٹ شیئر پر نظر ڈالیں تو اس سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس حکومت کو عوام کا اکثریتی ووٹ حاصل نہیں ہے۔ چونکہ اپوزیشن جماعتیں متحد نہیں ہو پاتیں اور بی جے پی مخالف ووٹ الگ الگ پارٹیوں میں تقسیم ہو جاتا ہے اس لیے وہ کم ووٹ شیئر لے کر بھی حکومت سازی کی پوزیشن میں آ جاتی ہے۔ اسی طرح جب بھی پارلیمنٹ میں کسی بل پر ووٹنگ ہوتی ہے تو اپوزیشن جماعتوں میں انتشار اور کراس ووٹنگ کے سبب حکومت کی جیت ہو جاتی ہے۔ لیکن ایسا شاید پہلی بار ہوا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں متحد ہو گئیں لہٰذا ترمیمی بل کو دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہو سکی اور وہ منہ کے بل گر گیا۔

Published: undefined

حکومت نے بہت ہی چالاکی کے ساتھ حد بندی بل کو خواتین ریزرویشن بل سے نتھی کر دیا تھا۔ خواتین ریزرویشن بل، جس کا مقصد پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینا ہے، پارلیمنٹ میں پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔ حکومت اگر چاہے تو اسے ابھی اور اسی وقت نافذ کر سکتی ہے۔ لیکن وہ ایسا کرنا نہیں چاہتی۔ اس کی وجہ بہت صاف ہے کہ وہ خواتین کو ریزرویشن دینے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس کا ایک سیاسی اسٹنٹ ہے۔ وہ اسی بہانے خود کو خواتین کے حقوق کی چمپئن ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت میں خواتین کا جس طرح استحصال ہوتا ہے دوسری حکومتوں میں نہیں ہوتا تھا۔ اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ جن سیاست دانوں کے خلاف خواتین کے جنسی استحصال کا الزام ہے ان میں سے بیشتر کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ لہٰذا حکومت کا یہ دعویٰ کہ وہ خواتین کے حقوق کے تئیں بہت سنجیدہ ہے، کھوکھلا ہے۔

Published: undefined

جہاں تک حد بندی بل کا معاملہ ہے تو حکومت چاہتی ہے کہ لوک سبھا کی 543 نشستوں کی تعداد بڑھاکر تقریباً 850 کر دی جائے تاکہ خواتین کے ریزرویشن کا معاملہ حل کیا جا سکے۔ ویسے دیکھا جائے تو نشستوں کی تعداد بڑھائے بغیر بھی خواتین کو ریزرویشن دیا جا سکتا ہے۔ لیکن حکومت نئی حدبندی کرکے اس کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے۔ اپوزیشن کا خیال ہے کہ وہ ایسا اس لیے چاہتی ہے کہ تاکہ تادیر اقتدار میں برقرار رہنے کا اس کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے۔ جس طرح اس حکومت کی مقبولیت کم ہوتی جا رہی اور بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی کا نام نہاد جادو اپنا اثر کھوتا جا رہا ہے اس کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں اس کا جیتنا مشکل ہے۔ لیکن حکومت شکست کے لیے تیار نہیں ہے۔ لہٰذا وہ جہاں الیکشن کمیشن کے استحصال سمیت بہت سے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے وہیں وہ حدبندی کا بھی سہارا لے رہی ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر نئی حدبندی کرکے نئے حلقے بنائے بغیر انتخابات ہوئے تو اس کا جیتنا محال ہے۔ اپوزیشن کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہے اس لیے وہ حکومت کی یہ چال کامیاب ہونے دینا نہیں چاہتا۔

Published: undefined

ماہرین کے مطابق حکومت نے جو پلان بنایا ہے اگر اس پر عمل آوری ہو گئی تو وفاقی جمہوریت کو شدید نقصان پہنچے گا اور چھوٹی ریاستوں کے ساتھ زبردست ناانصافی ہوگی۔ بل کے مطابق 2011 کی مردم شماری کی رُو سے حدبندی ہوگی۔ جبکہ 2021 ہی میں نئی مردم شماری ہو جانی چاہیے تھی۔ لیکن یہ حکومت نئی مردم شماری کرانے سے اس لیے بھاگتی رہی کہ اس کو ذات برادری پر مبنی مردم شماری بھی کرانی پڑے گی جو وہ کرانا نہیں چاہتی۔ ویسے ملک میں نئی مردم شماری کا آغاز ہو چکا ہے۔ لیکن حکومت اس کی بنیاد پر حدبندی کرانے کے حق میں نہیں ہے۔ بل کے مطابق آبادی کے اعتبار سے نئے حلقے بنائے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوب کی ریاستیں اس کی شدید مخالفت کر رہی ہیں۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے تو بل کی کاپی نذر آتش کی ہے۔ جنوبی ریاستوں نے آبادی کو کنٹرول کرنے کی اسکیموں پر سنجیدگی سے عمل کیا ہے جس کی وجہ سے ان ریاستوں میں آبادی میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔ اگر آبادی کے لحاظ سے حلقے بنائے گئے تو یقینی طور پر ان ریاستوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

Published: undefined

اعداد و شمار کے مطابق اگر موجودہ آبادی کے اعتبار سے حدبندی ہوتی ہے تو لوک سبھا کی 543 سیٹیں بڑھ کر 753 ہو جائیں گی۔ اس وقت جنوبی ریاستوں کی لوک سبھا سیٹیں 129 ہیں۔ 753 کی مجموعی تعداد میں ان کی سیٹیں بڑھ کر 144 ہو جائیں گی۔ یعنی ان کا مجموعی شیئر تقریباً24 فیصد سے گر کر 19 فیصد تک آجائے گا۔ جبکہ شمالی ریاستوں میں لوک سبھا کی سیٹیں بڑھ کر 357 ہو جائیں گی۔ یعنی ہندی بھاشی ریاستوں کی سیٹوں کی تعداد میں 60 فیصد کا اضافہ ہو جائے گا۔

اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ تمل ناڈو، کرناٹک اور مہاراشٹر جیسی ریاستیں مرکزی خزانے میں سب سے زیادہ جمع کراتی ہیں اور انھیں بدلے میں صرف 30 فیصد ملتا ہے۔ جبکہ ان کے مقابلے میں بہار اور اترپردیش جیسی ہندی بھاشی ریاستوں کو ڈھائی سو سے ساڑھے تین سو فیصد تک ریٹرن ملتا ہے۔ اگر موجودہ بل منظور ہو جاتا تو آندھرا پردیش کو پانچ سیٹوں کا اور تمل ناڈو کو 11 سیٹوں کا نقصان ہوتا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس سے سیاسی طاقت میں تبدیلی آجائے گی۔ ساز باز کرکے اس انداز میں حدبندی کی جائے گی جس سے ایک ہی سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچے۔ جس کی وجہ سے شفافیت، غیر جانبداری اور عوامی اعتماد کو زبردست نقصان پہنے گا۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ایوان کے اندر بھی اور عوام میں بھی وسیع پیمانے پر بحث ہونی چاہیے۔ لیکن حکومت جس طرح عجلت میں یہ کام کرانا چاہتی تھی وہ اس کے پس پردہ عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔

Published: undefined

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بل کی منظوری کی صورت میں چھوٹی اور بڑی ریاستوں میں عدم توازن پیدا ہوگا۔ تمل ناڈو اور کیرالہ جیسی ریاستوں اور اترپردیش جیسی ریاستوں کے درمیان توازن نہیں رہے گا۔ جو ریاستیں آبادی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں انھیں انعام کے طور پر زیادہ سیٹیں ملیں گی جبکہ آبادی پر قابو پانے والی ریاستوں کا خسارہ ہوگا۔ یہ بھی ایک معاملہ ہے کہ جب 543 رکنی لوک سبھا میں سب کو اظہار خیال کا موقع نہیں ملتا تو 800 سے زائد ارکان کو اظہار خیال کا موقع کیسے ملے گا۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ خواتین ریزرویشن اور حدبندی کو ایک دوسرے کے ساتھ نتھی نہ کرتی۔ بلکہ خواتین کو ریزرویشن دینے کے بل پر عمل آوری کرتی۔ لیکن اس نے بہت چالاکی کے ساتھ دونوں کو ایک ساتھ جوڑ کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔

دراصل حکومت کا مقصد یہ تھا کہ اگر بل منظور ہو جاتا ہے تو وہ مستقبل میں سیاسی فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ عوام میں جا کر اپنی پیٹھ تھپتھپائے گی اور خود کو خواتین کے حقوق کی چمپئن بتائے گی اور اپوزیشن کو خواتین مخالف ثابت کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر بل نامنظور ہو جاتا ہے تو اس صورت میں بھی اپوزیشن کو خواتین مخالف بتایا جائے گا۔ لیکن اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر اس کی یہ چال ناکام بنا دی۔ اپوزیشن کے اتحاد نے حکومت کو ہی بے نقاب کر دیا۔ اگر اپوزیشن جماعتیں اسی طرح اتحاد کا مظاہرہ کریں تو حکومت کی کوئی بھی چال کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ 2029 کے انتخابات میں اسے آسانی کے ساتھ ہرایا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined