
علامتی تصویر / اے آئی
انسانی تاریخ کے طویل اور پیچیدہ سفر میں اگر کوئی حقیقت مسلسل روشن چراغ کی طرح جلوہ گر رہی ہے تو وہ یہ ہے کہ انسان کا دین بنیادی طور پر ایک ہی رہا ہے۔ یہ دین کسی خاص قوم، نسل یا کسی مخصوص دور کی پیداوار نہیں بلکہ وہ فطری راستہ ہے جو انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کے وجود میں ودیعت کر دیا گیا۔ اسی لیے مذہب کا سوال محض ایک رسمی شناخت یا ثقافتی روایت نہیں بلکہ انسانی فطرت، شعور اور تہذیب کا بنیادی ستون ہے۔
اگر انسانی تاریخ، تہذیبوں کے ارتقا اور فکری روایتوں کا جامع مطالعہ کیا جائے تو ایک نہایت اہم حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ انسان جغرافیے، نسل، زبان اور ثقافت کے اعتبار سے چاہے جتنا مختلف کیوں نہ ہو، اس کی فطرت، اس کی بنیادی نفسیات اور اس کے روحانی تقاضے ہمیشہ یکساں رہے ہیں۔ انسان کا درد، اس کی امید، اس کا خوف، اس کا ضمیر اور اس کی اخلاقی حس ہر دور میں کم و بیش ایک ہی رہی ہے۔ اور جب انسان اپنی اصل میں ایک ہے تو اس کے لیے زندگی گزارنے کا بنیادی طریقہ اور ہدایت کا راستہ بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔
Published: undefined
یہی وہ اصول ہے جس پر تمام آسمانی مذاہب کی فکری عمارت قائم ہے۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو نہایت وضاحت اور جامعیت کے ساتھ بیان کرتا ہے "فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا" (الروم: 30) یعنی اپنا رخ یکسو ہو کر اسی دین کی طرف کر لو جو اللہ کی فطرت ہے، جس پر اس نے تمام انسانوں کو پیدا کیا۔
یہاں ایک نہایت بنیادی اور منطقی اصول سامنے آتا ہے: جب خالق ایک ہے، انسان ایک ہیں اور انسانی فطرت یکساں ہے تو اخلاق، عقیدہ، عبادت اور مقصدِ زندگی کے بنیادی تصورات بھی ایک ہی ہونے چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام آسمانی مذاہب کے بنیادی عقائد ہمیشہ مشترک رہے ہیں: خدا کی وحدانیت، وحی پر ایمان، آخرت کا تصور اور اخلاقی ذمہ داری۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ یہی تصورِ وحدانیت ہمیں دیگر مذاہب کی اصل تعلیمات میں بھی نمایاں طور پر ملتا ہے۔ ہندو مت کی قدیم ویدک روایت میں ”ایکَم ست وِپرا بہودھا ودنتی" یعنی "سچ ایک ہے، اہلِ دانش اسے مختلف نام دیتے ہیں"کا تصور دراصل وحدتِ الٰہ کی ہی بازگشت ہے۔ اُپنشدوں میں "برہمن" کو واحد اور مطلق حقیقت کہا گیا جو کائنات کی اصل بنیاد ہے۔ یہودیت میں "شِماع اسرائیل" کا اعلان ہے: "سنو اے اسرائیل! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خدا ہے۔" مسیحیت میں اگرچہ بعد کے ادوار میں تثلیث کا تصور سامنے آیا، مگر حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات میں خدا کی وحدانیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے: "خداوند ہمارا خدا ایک ہی خدا ہے۔" زرتشت کی تعلیمات میں "اہورا مزدا" کو واحد، برتر اور خالقِ کائنات مانا گیا۔
Published: undefined
سکھ مت کے بنیادی منتر میں اعلان ہے: "اک اونکار" یعنی خدا ایک ہے۔ یوں تہذیبیں چاہے جتنی مختلف ہوں، اصل تصور ہمیشہ ایک ہی رہا: ایک خدا، ایک خالق، ایک حاکم۔ البتہ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مختلف علاقوں، مختلف زمانوں اور مختلف معاشرتی حالات میں انسانی ضروریات میں کچھ فرق ضرور پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے شریعت کے بعض عملی قوانین میں وقتی اور جغرافیائی اختلاف رکھا گیا۔ کہیں عبادات کے طریقوں میں جزوی فرق آیا، کہیں سماجی قوانین میں تبدیلی ہوئی، کہیں معاشرتی نظم مختلف صورتوں میں سامنے آیا۔ مگر یہ اختلاف اصل دین میں نہیں بلکہ عملی اطلاق میں تھا۔ اصول ہمیشہ ایک رہے، اطلاق کے طریقے حالات کے مطابق بدلتے رہے۔ قرآن اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے: "لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا" (المائدہ: 48) یوں انبیاء کسی نئے دین کے بانی نہیں تھے بلکہ ایک ہی ابدی دین کے مختلف ادوار کے نمائندے تھے۔ حضرت نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور دیگر انبیاء کی دعوت میں جو فرق دکھائی دیتا ہے وہ حالات اور زمانے کی ضرورت کے مطابق تھا، اصل پیغام میں نہیں۔ توحید، اخلاق اور آخرت ہر جگہ مشترک رہے۔ حضرت ابراہیمؑ کو قرآن نے اسی اصل دین کی علامت قرار دیا: "مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا" (آل عمران: 67)
یہاں "مسلمان" کسی خاص امت کا نام نہیں بلکہ وہ انسان ہے جو اپنے رب کے آگے سرِ تسلیم خم کر دے۔ اسی معنی میں تمام انبیاء اور ان کے سچے پیروکار دراصل مسلمان ہی تھے۔
Published: undefined
حضرت محمد ﷺ کی بعثت اسی مسلسل ہدایت کا آخری اور مکمل مرحلہ ہے۔ اب چونکہ انسانیت فکری اور تمدنی بلوغت کے ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی جہاں ایک آفاقی اور دائمی نظامِ ہدایت کی ضرورت تھی، اس لیے اسلام کو آخری دین اور محمد ﷺ کو آخری نبی قرار دیا گیا۔ قرآن اعلان کرتا ہے: "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ" (المائدہ: 3)۔ یہ تکمیل محض مذہبی نہیں بلکہ فکری اور عملی بھی ہے۔ اسلام نے وہ جامع نظام پیش کیا جس میں عقیدہ، اخلاق، قانون اور معاشرت ایک ہم آہنگ اکائی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
یہاں جدید سائنس کی شہادت بھی نہایت معنی خیز بن جاتی ہے۔ آج کائنات کی ابتداء کے بارے میں "بگ بینگ" نظریہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کائنات کا ایک آغاز ہے۔ طبیعیات کے قوانین میں غیر معمولی توازن، کائناتی مستقلات کی حیرت انگیز ترتیب اور زندگی کے لیے موزوں حالات اس امر کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ یہ نظام کسی اندھے اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک باخبر، حکیم اور واحد خالق کی تخلیق ہے۔
Published: undefined
جدید حیاتیات بتاتی ہے کہ زندگی کا نظام غیر معمولی ترتیب اور مقصدیت رکھتا ہے۔ نفسیات یہ واضح کرتی ہے کہ انسان کے اندر خیر و شر کی تمیز فطری طور پر موجود ہے۔ سماجیات اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ اخلاقی اصول کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ یوں سائنس، فلسفہ اور مذہب تینوں ایک ہی نتیجے پر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں: کائنات ایک نظم کے تحت ہے، انسان مقصد کے ساتھ پیدا ہوا ہے اور اس نظم کا ایک واحد خالق ہے۔
اسلام کو “دینِ فطرت” کہا جانا اسی لیے درست ہے کہ یہ انسانی سرشت، عقل اور اجتماعی تقاضوں سے پوری ہم آہنگی رکھتا ہے۔ یہ نہ عقل سے متصادم ہے، نہ فطرت سے، نہ سائنس سے، بلکہ ان سب کی تکمیل ہے۔ اسلام نسل، زبان اور جغرافیے کے تمام امتیازات ختم کر دیتا ہے: "إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ" (الحجرات: 13)۔ یوں اسلام انسان کو اس کی اصل پہچان عطا کرتا ہے: ایک خدا کا بندہ اور پوری انسانیت کا فرد۔ حضرت محمد ﷺ کی رسالت نے اسی ابدی پیغام کو آخری، محفوظ اور عالمی صورت میں انسانیت کے سامنے رکھ دیا۔ اب نہ کسی نئے نبی کی ضرورت باقی رہی، نہ کسی نئے دین کی۔ ہدایت کا راستہ مکمل ہو چکا، معیار واضح ہو چکا اور حق و باطل کی تمیز ہمیشہ کے لیے قائم کر دی گئی۔
Published: undefined
یہ محض ایک مذہبی اعلان نہیں بلکہ ایک تاریخی، فکری اور سائنسی حقیقت ہے کہ انسانیت کا اصل دین ہمیشہ ایک رہا ہے۔ اختلاف زمانوں نے پیدا کیے، فاصلے جغرافیے نے ڈالے اور تعبیرات انسان نے بدلیں، مگر خدا کا پیغام کبھی نہیں بدلا۔ آج جب دنیا فکری انتشار، مذہبی تصادم اور اخلاقی بحران کے دور سے گزر رہی ہے، انسان پہلے سے زیادہ شدت سے کسی مشترک بنیاد، کسی آفاقی اخلاق اور کسی وحدتِ فکر کا محتاج ہے۔ اور وہ بنیاد صرف اسی دین میں ملتی ہے جو فطرت، عقل، تاریخ اور سائنس سب کی گواہی کے مطابق ہو۔ آخرکار حقیقت نہایت واضح ہے کہ جب خالق ایک ہے، انسان ایک ہیں، فطرت ایک ہے تو ہدایت کا راستہ بھی ایک ہی ہوگا۔ اور وہ راستہ وہی ہے جو حضرت آدمؑ سے شروع ہوا، انبیاء کی طویل زنجیر سے گزرا اور حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہوا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined