
نیپال کے وزیر اعظم بالین شاہ حلف لیتے ہوئے / آئی اے این ایس
اُدھو پیاکوریل
نیپال کی نئی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی ہفتے میں ایسے فیصلے کیے ہیں جنہوں نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ 27 مارچ 2026 کو نیپال کے سب سے کم عمر وزیر اعظم بالیندر عرف بالین شاہ (36 سال) نے حلف اٹھایا اور اگلے ہی دن حکومت نے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ ان پر ستمبر 2025 کے نوجوانوں کے احتجاج کو دبانے کے دوران مجرمانہ لاپروائی اور اموات میں کردار ادا کرنے کے الزامات ہیں۔
گرفتاری کے اعلان کے وقت وزیر داخلہ سُدان گُرونگ نے سوشل میڈیا پر سخت پیغام دیتے ہوئے لکھا: “آپ نے غلط نسل سے ٹکر لے لی ہے۔” 29 مارچ کو ایک اور سابق وزیر کو منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا، جبکہ اولی سمیت تین سابق وزرائے اعظم کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات شروع کر دی گئیں۔
Published: undefined
اقتدار سنبھالتے ہی حکومت نے 100 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا بھی پیش کیا۔ اس کے تحت سرکاری اور نجی اسپتالوں کو فوری طور پر 10 فیصد بسترے غریب مریضوں کے لیے مخصوص کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے علاوہ احتجاج کے دوران جاں بحق ہونے والے تقریباً 70 افراد کے اہل خانہ کو قومی بجلی ادارے میں نوکری دینے کی پیشکش بھی کی گئی۔
حکومت نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے وابستہ تمام طلبہ تنظیموں کو ختم کرنے کا حکم دیا، جو کہ ایک نوجوان قیادت والی حکومت کے لیے حیران کن فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ سرکاری افسران، اساتذہ اور دیگر ریاستی ملازمین پر سیاسی جماعتوں سے براہ راست یا بالواسطہ وابستگی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مختلف بورڈز میں سیاسی بنیادوں پر تعینات افراد کو استعفیٰ دینے کے لیے کہا گیا ہے، اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو حکومت تقریباً 1200 افراد کو برطرف کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔
Published: undefined
ایک نیا بل بھی پیش کیا گیا ہے، جس میں نجی اسکولوں کو غیر منافع بخش اداروں کے طور پر تسلیم کرنے کی تجویز شامل ہے۔
2022 میں قائم ہونے والی نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی (آر ایس پی) کی زبردست کامیابی کے بعد عوامی جوش و خروش اس قدر بڑھ گیا ہے کہ نجی شعبے اور بیوروکریسی کی تنقید پس منظر میں چلی گئی ہے۔ نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج نے محض چھ ماہ میں حکومت کو اقتدار سے باہر کر دیا، اور آج نیپال اس کامیابی کے اثرات میں ڈوبا ہوا ہے۔
تاہم نئی حکومت کے سامنے بڑے چیلنجز بھی موجود ہیں۔ انتخابی وعدوں میں معیشت کی شرح نمو کو 7 فیصد تک لے جانا، 12 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنا، اور پانچ سال میں نیپال کو 100 ارب ڈالر کی معیشت اور آئی ٹی مرکز بنانا شامل ہے۔ ایک زمینی طور پر محدود اور جزوی طور پر بند معیشت رکھنے والے ملک کے لیے یہ اہداف حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ حکومت کو عوام کی بڑھتی توقعات، فوری تبدیلی کی خواہش اور نئے معاشی مواقع کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
Published: undefined
وزیر اعظم بالیندر شاہ اس عہدے پر پہنچنے والے پہلے مدھیسی رہنما بھی ہیں۔ انہیں ایک طرف طاقتور ‘کھس-آریہ’ گروہوں اور دوسری طرف مدھیسی، دلت اور دیگر پسماندہ طبقات کے مطالبات کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔
نیپال کی سیاست اور حکمرانی پر طویل عرصے سے ‘کھس-آریہ’ طبقے کا غلبہ رہا ہے، جو عدلیہ اور بیوروکریسی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ مدھیسی، جو آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں اور ثقافتی طور پر ہندوستان کے قریب سمجھے جاتے ہیں، اکثر شک کی نظر سے دیکھے جاتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے سیاسی نمائندگی اور وفاقی نظام کے ذریعے اختیارات کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔ اگرچہ ان مطالبات کو آئینی طور پر تسلیم کیا گیا، لیکن ان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔
Published: undefined
2015 کے آئین میں صوبوں کی تقسیم اور شہریت کے قوانین پر مدھیسیوں نے شدید احتجاج کیا، جبکہ حکمران طبقے نے ان مظاہروں کو بیرونی اثر، خاص طور پر ہندوستان، سے جوڑا۔
وزیر خارجہ شیشیر کھنال نے واضح کیا ہے کہ نیپال اپنی غیر جانبدار خارجہ پالیسی برقرار رکھے گا اور قومی خودمختاری کا تحفظ کرے گا۔ ان کے مطابق حکومت کی تبدیلی سے خارجہ پالیسی متاثر نہیں ہوگی۔
چونکہ وزیر اعظم اور کئی وزراء نے ہندوستان میں تعلیم حاصل کی ہے، اس لیے ماہرین کو امید ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں گے۔ ماضی میں شاہ کو یہ ثابت کرنے میں کافی محنت کرنا پڑی کہ وہ کسی ایک ملک کے جھکاؤ کے حامل نہیں۔ انہوں نے آر ایس ایس کے ‘اکھنڈ ہندوستان’ نقشے کے جواب میں اپنے دفتر میں ‘بڑا نیپال’ کا نقشہ بھی آویزاں کیا تھا۔
Published: undefined
بالیندر شاہ کا سیاسی سفر غیر معمولی رہا ہے۔ کھٹمنڈو کے میئر کے طور پر تین سال گزارنے کے بعد وہ جنوری 2026 میں آر ایس پی میں شامل ہوئے، اور مارچ میں پارٹی کو زبردست کامیابی دلائی۔ ایک گلوکار اور ریپر کے طور پر مقبول شاہ نے بنگلور سے اسٹرکچرل انجینئرنگ میں ماسٹرز کیا ہے۔
ان کی کابینہ میں 14 اراکین شامل ہیں، جن میں پانچ خواتین ہیں اور زیادہ تر پیشہ ورانہ پس منظر رکھتے ہیں۔ وزیر خزانہ ڈاکٹر سورنِم واگلے ایک معروف ماہر معاشیات ہیں، جبکہ زیادہ تر وزراء کی عمر 40 سال سے کم ہے۔
1959 کے بعد پہلی بار نیپال میں کسی پارٹی کو اتنی بڑی کامیابی ملی ہے۔ آر ایس پی نے 275 میں سے 182 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم اس بڑی کامیابی کے ساتھ ایک چیلنج بھی ہے—جذباتی اور پُرجوش حامیوں کو قابو میں رکھنا۔
Published: undefined
سوشل میڈیا پر ایک واقعہ میں جب امیشا پراجلولی نے اولی کی گرفتاری کو غیر آئینی قرار دیا تو انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتحال آزادی اظہار اور میڈیا کی خودمختاری کے حوالے سے سوالات اٹھاتی ہے۔
ماضی میں سخت پابندیوں کے باوجود میڈیا حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی ہمت رکھتا تھا، مگر آج کا میڈیا زیادہ محتاط دکھائی دیتا ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ کہیں اسے ‘اندھا حامی’ قرار دے کر نشانہ نہ بنایا جائے۔
نوجوانوں کی تحریک زیادہ تر سوشل میڈیا کے ذریعے چلائی گئی، جس میں روایتی میڈیا کو تقریباً نظر انداز کر دیا گیا۔ لیکن نیپال میں اب بھی تقریباً 40 فیصد افراد کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں، جس کی وجہ سے ڈیجیٹل طرز حکمرانی پر انحصار عوام میں تشویش پیدا کر رہا ہے۔
Published: undefined
کھٹمنڈو کے میئر کے طور پر شاہ کا انداز بعض اوقات سخت اور یکطرفہ سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں کیں، تجاوزات ہٹائیں اور مختلف طبقات کی مخالفت کا سامنا کیا۔
ان کے بعض پرانے سوشل میڈیا بیانات، جن میں سخت زبان استعمال کی گئی تھی، بھی زیر بحث رہے۔ اب ملک کو ایک مشکل دور میں رہنمائی کی ضرورت ہے، اور یہ ذمہ داری ایک سابق ریپر، ایک سابق ڈی جے اور ایک سابق ٹی وی میزبان پر ہے۔
جہاں لاکھوں افراد کو اس نئی قیادت سے امیدیں وابستہ ہیں، وہیں تجزیہ کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا بالیندر شاہ نریندر مودی کی طرز حکمرانی اپنائیں گے یا اروند کیجریوال کی۔
(ادھو پیاکوریل کھٹمنڈو یونیورسٹی میں سیاسی سماجیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined