
بالیندر شاہ، تصویر سوشل میڈیا
کنچن جھا
حال ہی میں جب نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے یہ کہتے ہوئے ہندوستان کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا کہ ان کا ’درجہ‘ برابر کا نہیں ہے، تو نہ صرف کھٹمنڈو اور دہلی بلکہ دور امریکہ تک ایک چھوٹا سا سفارتی ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ وجہ یہ تھی کہ اس سے چند ہی دن پہلے شاہ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے خصوصی ایلچی سرجیو گور سے ملنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ وزیر خارجہ ششیِر کھنال اور وزیر خزانہ سورنِم واگلے سمیت کابینہ کے ان کے کئی ساتھیوں نے مبینہ طور پر شاہ سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی، لیکن وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔
نئی دہلی نے اس کے بعد یہی کہا کہ وکرم مسری کے دورے کا وقت ’دونوں فریقوں کی سہولت‘ کے مطابق دوبارہ طے کیا جائے گا۔ یہ واقعہ صرف سفارتی آداب یا سیاسی شخصیتوں کی وجہ سے اہم نہیں ہے، بلکہ اس لیے بھی معنی رکھتا ہے کہ یہ جنوبی ایشیا میں ابھرتی ہوئی ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے: یعنی پرانی ’برابر فاصلے‘ کی سیاست کا کمزور پڑنا، اور نیپال جیسے چھوٹے ممالک پر یہ بڑھتا ہوا دباؤ کہ وہ اس تیزی سے مسابقتی بنتے خطے میں زیادہ حکمت عملی پر مبنی اور اپنے مفادات کے مطابق خارجہ پالیسی اختیار کریں۔
Published: undefined
سوال یہ نہیں ہے کہ نیپال مختلف طاقتوں کے درمیان توازن قائم کر سکتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی جغرافیائی حیثیت کو عدم تحفظ کے بجائے اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے والی اسٹریٹجک سوچ رکھتا ہے؟
’درجے‘ کا اصول علامتی سیاست اور سیاسی نمائش سے زیادہ متاثر دکھائی دیتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ اندرونِ ملک سیاسی طور پر فائدہ مند ہو، لیکن سفارت کاری کی دنیا مختلف ہوتی ہے۔ روایت کے مطابق، خارجہ سکریٹری پڑوسی ممالک کے وزرائے اعظم سے ملاقات کرتے ہیں۔ یہ کوئی ماتحتی نہیں بلکہ سفارتی ہم آہنگی کا حصہ ہے۔ ایسی ملاقاتوں سے انکار فاصلے پیدا کرتا ہے، اور بین الاقوامی تعلقات میں فاصلے شاذ و نادر ہی غیر جانبدار ہوتے ہیں۔
تھیوسیڈائڈز سے لے کر ہانس مورگینتھاؤ تک کے کلاسیکی حقیقت پسند مفکرین، اور کینتھ والٹز سے لے کر جان میرشائمر تک کے نو-حقیقت پسند نظریہ ساز بین الاقوامی نظام کے بارے میں ایک مشترک نقطۂ نظر رکھتے ہیں: یہ کہ عالمی نظام انتشار پر مبنی، ساختی طور پر غیر مساوی اور بنیادی طور پر جذبات سے عاری ہے۔ آئیڈیلزم کبھی کبھار ابھرتا ہے، مگر حقیقت پسندی ہمیشہ واپس آ جاتی ہے۔ ممالک اسی وقت تعاون کرتے ہیں جب اس سے ان کے مفادات پورے ہوتے ہوں۔ نیپال جیسے ملک کے لیے — جو چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا ہے، جس کی منڈی محدود ہے اور جو اپنے دو بڑے پڑوسیوں پر انحصار کرتا ہے — یہ دراصل جغرافیہ ہے جو نظریے کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے۔ نتیجہ واضح ہے: نیپال کی خارجہ پالیسی اب گٹ نرپیکشیتا یا ’برابر فاصلے‘ جیسے پرانے نعروں پر قائم نہیں رہ سکتی۔ اب اسے ’ریئل پولیٹک‘ کی طرف بڑھنا ہوگا، یعنی قومی مفادات کا واضح اور عملی تعاقب۔
Published: undefined
نیپال کے سب سے معزز رہنماؤں میں شمار کیے جانے والے بی۔ پی۔ کوئرالا نے 1970 کی دہائی میں ’برابر فاصلے‘ کی پالیسی کو ’اعداد و شمار کا کھیل‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ اس سوچ کے مطابق دہلی کے ساتھ ہونے والے ہر معاہدے کا توازن بیجنگ کے ساتھ ایک نئے معاہدے سے قائم کرنا ضروری سمجھا جاتا تھا۔ اس کے بجائے انہوں نے ایسی پالیسی کی وکالت کی جو مصنوعی توازن کے بجائے حقیقی قومی مفادات پر مبنی ہو۔
موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے دو دیگر نظریات بھی اہم ہیں۔ پہلا، نو-کلاسیکی حقیقت پسندی، جو کہتی ہے کہ کسی ریاست کا خارجی رویہ صرف عالمی دباؤ سے نہیں بلکہ اس کی داخلی ادارہ جاتی کیفیت، قیادت کے تصورات اور سیاسی ثقافت سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو نیپال کی خارجہ پالیسی اُس وقت تک غیر مستحکم رہے گی جب تک اس کے ادارے مستحکم نہیں ہو جاتے۔ دوسرا نظریہ ’اسٹریٹجک ہیجنگ‘ کا ہے، جس کا مطلب ہے کسی ایک طاقت کے ساتھ مکمل ٹکراؤ سے بچتے ہوئے متعدد قابلِ اعتماد متبادل راستے کھلے رکھنا۔ ہیجنگ ایک موقع پرستانہ اور سخت مفاداتی حکمت عملی ہوتی ہے۔ آسیان ممالک اس پر عمل کرتے ہیں۔ ویتنام، واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کے ساتھ یہی طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہے۔ بنگلہ دیش اپنے حالیہ سیاسی ڈھانچے کی تبدیلی کے بعد یہ طریقہ سیکھ رہا ہے۔ سری لنکا کولمبو پورٹ سٹی اور ترینکومالی کے درمیان اسی حکمت عملی کا دوبارہ تجربہ کر رہا ہے۔ نیپال کو بھی یہ سبق جلد سیکھنا ہوگا۔
پہلی بات یہ ہے کہ نیپال کو اپنی خارجہ پالیسی کو قومی سرمایہ کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ موسمی سیاسی کرنسی کے طور پر۔ ہر وہ حکومت جو قلیل مدتی داخلی سیاسی نمائش کے لیے سفارتی فوائد کو قربان کرتی ہے، دراصل اُس سرمایہ کو ضائع کر رہی ہوتی ہے جسے پچھلی نسلوں نے بڑی محنت سے تیار کیا تھا۔ ملک کو ایسی ادارہ جاتی تسلسل کی ضرورت ہے جو حکومتوں کی تبدیلی کے بعد بھی برقرار رہے۔
Published: undefined
دوسری بات یہ کہ پارلیمنٹ کو خارجہ پالیسی پر اپنا اختیار دوبارہ حاصل کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی تعلقات اور ریاستی امور سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کو معاہدوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے، اسٹریٹجک ترجیحات پر بحث کرنی چاہیے اور حکومت کو عوامی طور پر طے کیے گئے اہداف کے تئیں جواب دہ بنانا چاہیے۔
تیسری بات: نیپال اور ہندوستان کو طویل عرصے سے زیر التوا سرحدی تنازعات کے حل کی طرف آگے بڑھنا ہوگا۔ لپولیکھ، کالاپانی اور لمپیادھورا ایسے حساس مقامات ہیں جو 1750 کلومیٹر سے زیادہ طویل کھلی سرحد پر وقتاً فوقتاً کشیدگی کا سبب بنتے رہتے ہیں۔ یہی سرحد بہار کو بیرگنج سے، اتر پردیش کو لمبنی سے اور مغربی بنگال کو میچی سے جوڑتی ہے۔ اگر سرحدی تنازعات حل ہو جائیں تو یہ ایک مضبوط پیغام ہوگا کہ دو جمہوری ممالک بات چیت، صبر اور حوصلے کے ذریعے وراثت میں ملنے والے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ سرحدی انتظام کو ترجیح بنانا چاہیے۔
یہ ماننا ہوگا کہ بڑی ذمہ داری بڑے ملک کی ہوتی ہے۔ ہندوستان کی ’پڑوسی پہلے‘ پالیسی اہم رہی ہے۔ سرحد پار بجلی تجارت، موتیہاری-املیکھ گنج پٹرولیم پائپ لائن، جے نگر-جنکپور ریل رابطہ اور زلزلے کے بعد تعمیر نو میں مدد — ان سب نے علاقائی روابط کو مضبوط کیا ہے۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ تحمل، فراخ دلی اور اس اعتماد کے ساتھ پیش آنا چاہیے کہ چھوٹے شراکت دار اپنی بات کھل کر رکھ سکیں، اور ان کی ہر چھوٹی ہچکچاہٹ یا لغزش کو منفی انداز میں نہ دیکھا جائے۔
Published: undefined
اٹل بہاری واجپئی نے کہا تھا، ’’آپ دوست بدل سکتے ہیں، لیکن پڑوسی نہیں۔‘‘ نیپال، دہلی کے لیے کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے حل کرنا ہو، بلکہ ایک ایسا شراکت دار ہے جس کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہے۔ وکرم مسری معاملے کو صرف ایک جھٹکے کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے — ہندوستان کے لیے یہ دکھانے کا موقع کہ بالغ اور مضبوط طاقتیں بغیر غیر ضروری ردعمل کے مشکلات کو قبول کرتی ہیں اور اسٹریٹجک صبر کے ساتھ بات چیت جاری رکھتی ہیں۔
وزیر اعظم اور صدر ملک کا چہرہ ہوتے ہیں۔ جب دنیا سفیروں، خصوصی ایلچیوں یا خارجہ سکریٹریوں کے ذریعے بات چیت کے لیے آتی ہے تو حکومت کے سربراہ کا ہر ملاقات میں موجود ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ لیکن دروازہ کبھی بند دکھائی نہیں دینا چاہیے۔ ہندوستان کے خارجہ سکریٹری کے پیچھے پوری ہندوستانی ریاست کا سیاسی وزن موجود ہوتا ہے۔ جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکہ کا خصوصی ایلچی اوول آفس کی نمائندگی کرتا ہے۔ ’قد‘ یا ’مرتبے‘ کے نام پر ایسی ملاقاتوں سے انکار کرنا اسٹریٹجک اعتماد نہیں بلکہ محض دکھاوا ہے۔ اصل طاقت اس میں ہوتی ہے کہ ہم اپنے ہم منصبوں کا خیر مقدم کریں، ان کی بات توجہ سے سنیں، جہاں ضرورت ہو مضبوط جواب دیں اور ٹھوس نتائج کے ساتھ واپس آئیں۔ یہی حقیقی سفارت کاری ہے۔ آئیڈیلزم صرف سرخیاں بناتا ہے، جبکہ حقیقی سفارت کاری ہائی ویز، ٹرانزٹ کوریڈور، توانائی کے معاہدے، سرمایہ کاری کے بہاؤ اور سرحدی تنازعات کے حل تک پہنچتی ہے۔
بیجنگ جنوبی ایشیا کے ساتھ واضح شرائط پر معاملہ کرتا ہے: پہلے تبت، پھر رابطہ کاری، اور ہمیشہ اپنا بیانیہ۔ خود جنوبی ایشیا بھی ایک خاموش نئی ترتیب کے مرحلے سے گزر رہا ہے، اور وہی ممالک اس تبدیلی کی رفتار طے کریں گے جو اپنے اداروں کو منظم کریں گے، اپنی سمت واضح کریں گے اور خارجہ پالیسی کو ایک طویل مدتی اسٹریٹجک اثاثے کے طور پر دیکھیں گے۔
Published: undefined
’دو چٹانوں کے درمیان پھنسی شکر قندی‘ والی نیپالی کہاوت آج بھی معنی رکھتی ہے، لیکن شاید اسے صحیح طور پر سمجھا نہیں گیا۔ شکر قندی ایک جگہ ساکت رہنے سے زندہ نہیں رہتی، بلکہ یہ جان کر زندہ رہتی ہے کہ کب جھکنا ہے، کب آگے بڑھنا ہے اور کب چٹانوں سے اپنے لیے جگہ مانگنی ہے۔ دوسری طرف چٹانیں بھی تبھی دانشمند سمجھی جائیں گی جب وہ یہ سمجھ لیں کہ ایک پھلتی پھولتی شکر قندی ایک صحت مند پہاڑ کی نشانی ہے۔
آج نیپال کے سامنے انتخاب دہلی اور بیجنگ کے درمیان نہیں، بلکہ ہچکچاہٹ اور اسٹریٹجک وضاحت کے درمیان ہے۔ ہندوستان کے سامنے انتخاب اثر و رسوخ اور تحمل کے درمیان نہیں، بلکہ اپنے پڑوس کو صرف سنبھالنے اور اسے پختہ و مستحکم بنانے کے درمیان ہے۔ جیسا کہ رابرٹ فراسٹ نے کہا تھا، راستہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ آئیے، ہم مضبوط قدموں، لچکدار سوچ اور اُس عاجزی کے ساتھ اس راستے پر ساتھ چلیں، جسے کھونے کا خطرہ نہ نیپال اٹھا سکتا ہے اور نہ ہی ہندوستان۔
(کنچن جھا نیپالی کانگریس پارٹی کے رہنما اور ایمی ایوارڈ کے لیے نامزد سابق صحافی ہیں)
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined