
علامتی تصویر / اے آئی
ہندوستان میں امتحانات کے انعقاد سے جڑے تنازعات صرف نقل کے گھوٹالوں تک محدود نہیں ہیں۔ یہ ایک گہرے بدعنوان نظام اور انتظامی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، جو طبی تعلیم اور طلبہ کے مستقبل کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
2016 سے 2026 کے درمیان بڑی سطح کے امتحانات میں 89 مرتبہ پرچے لیک ہوئے اور 48 بار امتحانات دوبارہ کرانے پڑے۔ ان میں تازہ ترین معاملہ نیٹ-یو جی 2026 کا ہے، جس کا دوبارہ امتحان 21 جون کو ہونا ہے۔ اس کا اثر 23 لاکھ طلبہ پر پڑ رہا ہے، جنہیں ایک بار پھر ذہنی اور مالی طور پر تھکا دینے والے مشکل مرحلے سے گزرنا ہوگا۔ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ اس بار کوئی بے ضابطگی نہیں ہوگی۔ اسی دوران سی بی ایس ای کی 12ویں جماعت کے امتحان کی جانچ سے جڑا گھوٹالہ بھی ہندوستان کے امتحانی نظام کی کمزوریاں آشکار کر رہا ہے۔
Published: undefined
تادم تحریر، نیٹ-یو جی امتحان دینے والے کم از کم چار طلبہ خودکشی کر چکے ہیں۔ سیکر، لکھیم پور کھیری، دہلی اور گوا کے ان نوجوانوں نے دوبارہ امتحان کی تیاری کے دباؤ کو برداشت کرنے کے بجائے موت کو گلے لگانا بہتر سمجھا۔
کیریئرز 360 کے چیئرمین مہیشور پیری کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ طلب اور رسد کے درمیان شدید عدم توازن کا ہے۔ سرکاری میڈیکل کالجوں کی 30 ہزار نشستوں کے لیے 23 لاکھ طلبہ مقابلہ کرتے ہیں۔ جہاں سرکاری کالجوں میں فیس 5 سے 6 لاکھ روپے کے درمیان ہے، وہیں نجی میڈیکل کالجوں میں یہ 1 کروڑ سے 5 کروڑ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی سے اس مایوسی، بے بسی اور ناامیدی کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ پیری کہتے ہیں، ’’والدین پرچے کے سیٹ حاصل کرنے کے لیے 10 سے 15 لاکھ روپے خرچ کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے، بشرطیکہ انہیں یقین ہو کہ ان کے بچے کو کسی سرکاری میڈیکل کالج میں نشست مل جائے گی۔‘‘
Published: undefined
ایلن کیرئر کے سی ای او نتن ککریجا کا کہنا ہے، ’’میڈیکل کی ڈگری کو مالی طور پر محفوظ مستقبل کی کنجی سمجھا جاتا ہے لیکن کسی معتبر سرکاری ادارے میں داخلہ صرف نیٹ میں اچھا اسکور حاصل کرنے سے ہی ممکن ہے۔‘‘ انڈیا ٹوڈے کے تازہ ترین ’بیسٹ کالج سروے‘ کے مطابق سرکاری میڈیکل کالج میں سب سے کم ماہانہ فیس 1,628 روپے ہے، جبکہ نجی کالج میں یہ 1.9 لاکھ روپے ماہانہ تک پہنچ جاتی ہے۔
سی بی آئی نے اس سال نیٹ پرچہ لیک معاملے میں اب تک جے پور، گروگرام، ناسک، پونے، لاتور اور اہلیہ نگر سے 11 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں کوچنگ سینٹروں کے ڈائریکٹر، پرنسپل اور اساتذہ شامل ہیں۔ 2015 سے اب تک پرچہ لیک کے 15 معاملات کی تحقیقات کے باوجود سی بی آئی کا ریکارڈ خاصا مایوس کن رہا ہے۔ اب تک صرف ایک معاملے میں سزا سنائی جا سکی ہے۔ دوسری جانب، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ 11 معاملات کی جانچ کر رہا ہے لیکن وہ بھی کسی ایک کیس میں سزا دلوانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
Published: undefined
کوچنگ اداروں پر برسوں سے شکوک و شبہات کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ ایسے سیکڑوں ادارے طلبہ کو اپنی جانب راغب کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ان میں سے کئی ادارے اور ان سے وابستہ ’’فرضی اسکول‘‘ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سیاست دانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ سابق نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے کوچنگ مراکز کو ’صلاحیتوں پر قبضہ کرنے والے مراکز‘ اور ’صلاحیتوں کے لیے سیاہ گڑھے‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی تھی۔ ان کے مطابق یہ ایسے منظم گروہ ہیں جو طلبہ کی صلاحیتوں کو دبانے کا کام کرتے ہیں۔
سیاست اور کوچنگ سینٹروں کے اس گٹھ جوڑ کا انکشاف 2024 میں اس وقت ہوا جب نیٹ-یو جی امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے کئی طلبہ ہریانہ کے بہادر گڑھ میں واقع ایک ہی امتحانی مرکز سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں سے چھ طلبہ کے سیٹ نمبر مسلسل ترتیب میں تھے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس امتحانی مرکز کا انتظام مقامی بی جے پی یوا مورچہ کے سربراہ کی اہلیہ کر رہی تھیں۔ امتحان کے دن سوالیہ پرچوں میں بے ضابطگی سامنے آئی تھی، جس کی وجہ سے امتحان شروع ہونے میں تاخیر ہوئی۔
Published: undefined
مزید یہ کہ بعد میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض ’ٹاپرس‘ نے بورڈ امتحانات میں کوئی غیر معمولی کارکردگی نہیں دکھائی تھی، جس کے باعث نیٹ میں ان کے غیر معمولی بلند نمبروں پر سوالات اٹھنے لگے اور شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔
2024 میں سیکر کے ایک امتحانی مرکز سے 67 طلبہ نے 720 میں سے پورے 720 نمبر حاصل کیے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس مرکز کے راجستھان کے ایک سیاست دان سے گہرے روابط ہیں۔ اسی سال ایک اور گھوٹالہ گجرات کے گودھرا میں واقع ایک غیر معروف ’جے جلارام سینٹر‘ میں سامنے آیا، جہاں طلبہ کی جانب سے ادھورے چھوڑے گئے جوابات کو امتحان ختم ہونے کے بعد اور جوابی کلید جاری ہونے کے بعد اساتذہ نے مکمل کیا تھا۔ گجرات پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ملک بھر سے کم از کم 26 طلبہ نے اسی مرکز کے ذریعے نیٹ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے 10 لاکھ سے 66 لاکھ روپے تک ادا کیے تھے۔
اب ماہرین تعلیم سوال اٹھا رہے ہیں کہ نیٹ، جے ای ای کے نظام کو کیوں نہیں اپناتا، جہاں سوالات ایک وسیع اور خفیہ (انکرپٹڈ) سوالیہ بینک سے خودکار طریقے سے تیار کیے جاتے ہیں، جسے کئی برسوں کی محنت سے تشکیل دیا گیا ہے، اور انہیں صرف اسی وقت ڈی کرپٹ کیا جاتا ہے جب امیدوار امتحان شروع کرتا ہے۔ جے ای ای سال میں دو بار، پانچ سے چھ دن کے دوران منعقد ہوتا ہے اور اس میں تقریباً 14 لاکھ طلبہ شرکت کرتے ہیں۔ جے ای ای مین کے سوالات تیار کرنے میں آئی آئی ٹی کے سرکردہ پروفیسر شامل ہوتے ہیں، جبکہ نیٹ میں نہ تو انڈین میڈیکل بورڈ اور نہ ہی ممتاز میڈیکل کالجوں کے پروفیسر سوالات کی تیاری میں کوئی کردار ادا کرتے ہیں۔
Published: undefined
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اب کہا ہے کہ نیٹ بھی جے ای ای کی طرح قلم اور کاغذ والے طریقے سے ہٹ کر کمپیوٹر پر مبنی امتحان میں تبدیل کیا جائے گا۔ اگرچہ اس نظام میں بھی تکنیکی خرابیاں اور بعض اوقات کسی دوسرے شخص کے نام پر امتحان دینے جیسے معاملات سامنے آتے ہیں لیکن نیٹ کو درپیش مسائل کے مقابلے میں یہ نسبتاً کم سنگین ہیں۔
این ٹی اے کے قیام سے پہلے سی بی ایس ای ہی ریاستی امتحانات کے علاوہ آل انڈیا پری میڈیکل/پری ڈینٹل ٹیسٹ (اے آئی پی ایم ٹی) منعقد کرتا تھا۔ اے آئی پی ایم ٹی میں کامیاب ہونے والا طالب علم مرکزی حکومت کے تحت کسی بھی میڈیکل کالج میں براہِ راست داخلہ حاصل کر سکتا تھا، جبکہ ریاستی میڈیکل کالجوں میں غیر مقامی طلبہ کے لیے مختص 15 فیصد کوٹے سے بھی فائدہ اٹھا سکتا تھا۔
این ٹی اے کو امریکہ کی ایجوکیشنل ٹیسٹنگ سروس (ای ٹی ایس) کے ماڈل پر قائم کیا گیا، جو ایس اے ٹی، اے سی ٹی اور جی آر ای جیسے امتحانات منعقد کرتی ہے۔ تاہم ای ٹی ایس کے برعکس، جس کے پاس 200 سے زیادہ مستقل ملازمین ہیں، این ٹی اے دہلی میں واقع اپنے دفتر سے صرف دو درجن مستقل ملازمین کے ساتھ کام کرتا ہے۔
Published: undefined
عملے کی شدید کمی کے باعث ادارے کو سوالات کی تیاری، پرچوں کی ترسیل اور ڈیٹا سکیورٹی جیسے اہم کام نجی ایجنسیوں کے سپرد کرنے پڑے ہیں، جس سے پرچہ لیک ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے سابق سیکریٹری آر۔ سبرامنیم کے مطابق این ٹی اے کو آن لائن امتحانات کے انعقاد کے لیے بنایا گیا تھا اور وہ نیٹ جیسے بڑے پیمانے کے امتحان کو مؤثر انداز میں منعقد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، کیونکہ اس امتحان کے انتظام کے لیے دو لاکھ سے زیادہ افراد درکار ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر انیتا رامپال، جو دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تعلیم کی سابق ڈین ہیں، یونیورسٹیوں کے لیے مشترکہ داخلہ امتحان کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’کثیر الانتخابی سوالات کسی طالب علم کی فہم کی گہرائی کو نہیں جانچتے، نہ ہی یہ طے کرتے ہیں کہ اس میں ایک اچھا اور حساس ڈاکٹر بننے کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔‘‘
رامپال کے مطابق ایک ہی مرکزی نیٹ امتحان نے ریاستی تعلیمی بورڈوں کی اہمیت کم کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’’تمل ناڈو نے نیٹ کی مخالفت اس لیے کی تھی کہ وہ اپنے دیہی علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اچھے معالج چاہتے تھے لیکن یہ امتحان دیہات کے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا مناسب موقع نہیں دیتا۔ موجودہ نظام ایسے ڈاکٹر پیدا کر رہا ہے جو زیادہ تر اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، نہ کہ عوامی خدمت کو۔‘‘
Published: undefined
وہ این ٹی اے کی طلبہ کے تئیں دوراندیشی کی کمی اور تحقیقی صلاحیتوں کے فقدان پر بھی تنقید کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، ’’این ٹی اے کو ایک قانونی اور خودمختار ادارہ بنایا جانا چاہیے جو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہو۔ اگر اسے آئینی حیثیت دی جائے تو اسے ان منسلک اسکولوں اور مراکز کے خلاف براہِ راست کارروائی کا اختیار مل سکے گا جو امتحانات کے انعقاد میں بے ضابطگیوں یا غلط سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں۔ فی الحال وہ این ٹی اے کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں۔‘‘
نلسر (این اے ایل ایس اے آر) یونیورسٹی آف لا کے سابق وائس چانسلر فیضان مصطفیٰ کا کہنا ہے، ’’ہمارے جیسے بڑے ملک میں کم از کم تین، چار یا پانچ امتحانات ہونے چاہئیں، تاکہ اگر کوئی طالب علم ایک امتحان میں اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے تو اسے دوسرے امتحان میں بیٹھنے کا موقع ملے اور اس کا ایک سال ضائع نہ ہو۔‘‘
اس پورے امتحانی نظام میں جرائم پیشہ عناصر کی دراندازی کا خطرہ مسلسل موجود ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں بے حد بڑی رقم شامل ہے۔ سالانہ 60 ہزار کروڑ روپے کے کاروبار سے بڑھ کر کوچنگ صنعت کا حجم اب تقریباً 1.5 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس سے غیر اخلاقی اور مجرمانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث یہ بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور فی الحال اس کا کوئی آسان حل دکھائی نہیں دیتا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined