
علامتی تصویر / اے آئی
کاشفہ وصال
مونا کی آنکھیں بند ہیں۔ ایک ہاتھ میں وہ گرم لوہے کی سلاخ تھامے ہوئے ہیں اور دوسرے ہاتھ میں کھوکھلی بانس کی ڈنڈی۔ کمرہ دھوئیں سے بھرا ہوا ہے۔ آنکھیں بند رکھتے ہوئے وہ سلاخ سے بانس میں ایک سوراخ بناتی ہیں، پھر دوسرا، اور پھر ایک اور۔ یوں کل چھ سوراخ بن جاتے ہیں۔
آنکھیں کھول کر وہ کہتی ہیں، ’’بانسری بنانے کے لیے ہنر چاہیے اور زیادہ بانسریاں بنانے کے لیے تیزی۔‘‘ پھر ہنستے ہوئے کہتی ہیں، ’’یہ کام مرد نہیں کر سکتے، یہ بہت مشکل ہے۔‘‘
Published: undefined
مونا، جو اسی نام سے پہچانی جاتی ہیں، بانسری بنانے والے خاندان کی تیسری نسل سے تعلق رکھتی ہیں۔ تقریباً 35 سالہ مونا کہتی ہیں، ’’بانسری ایک سادہ مگر پیچیدہ ساز ہے۔ بغیر سوراخ کے یہ صرف بانس کی ڈنڈی ہے لیکن درست جگہ پر سوراخ ہوں تو اس میں سارے سُر اتر آتے ہیں۔‘‘
وہ ایک بنا پلاستر والے کمرے کے درمیان بیٹھی ہیں جہاں قریب ہی مٹی کا چولہا جل رہا ہے۔ چھت میں بنی ایک چھوٹی سی کھڑکی سے سورج کی روشنی اندر آ رہی ہے اور باہر آسمان پر پتنگیں اڑ رہی ہیں۔
مونا اتر پردیش کے شمالی کنارے پر واقع پیلی بھیت شہر میں رہتی ہیں۔ ان جیسے بانسری بنانے والے کاریگروں کی تاریخ یہاں صدیوں پرانی ہے۔ ہمالیہ کی ترائی میں واقع یہ شہر ہندوستان کی تقریباً 90 فیصد بانسریاں تیار کرتا ہے۔ اس کام کے لیے بانس آسام سے منگوایا جاتا ہے۔
Published: undefined
مونا کہتی ہیں، ’’جب سے مجھے یاد ہے، میں نے ہمیشہ بانسری بنتی دیکھی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ ہنر اپنی ماں سے سیکھا۔ ’’جب میں بہت چھوٹی تھی، میں اپنی ماں کو آگ کے سامنے بیٹھ کر بانس میں سوراخ کرتے دیکھتی تھی۔‘‘ اسی مشاہدے اور مسلسل مشق نے ایک بچی کو ماہر کاریگر بنا دیا۔
صبح کے نو بجے ہیں۔ اپریل کی گرمی اپنے عروج پر ہے۔ مونا اپنے گھر کی چھت پر بنے کام کے مقام پر پہنچتی ہیں۔ جلد ہی ان کی پڑوسن شبنم اور بھتیجی سونم، جن کی عمر 20 برس کے قریب ہے، بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتی ہیں۔ دوپہر دو بجے تک تینوں مل کر تقریباً 500 بانسریاں تیار کر لیتی ہیں، اور اس محنت کے بدلے انہیں مجموعی طور پر تقریباً 300 روپے ملتے ہیں۔ سال بھر میں یہ تعداد تقریباً دو لاکھ بانسریوں تک پہنچ جاتی ہے۔
Published: undefined
اتنی بڑی تعداد میں بانسریاں بنانے کے باوجود مونا کہتی ہیں، ’’میں نے کبھی خود بانسری بجانے کے بارے میں نہیں سوچا، کیونکہ عورتیں بانسری نہیں بجاتیں۔ میرے شوہر بہت اچھی بانسری بجاتے ہیں، مجھے انہیں سننا اچھا لگتا ہے۔‘‘
مونا ایک ٹوٹی ہوئی بانس کی ڈنڈی دکھاتے ہوئے سمجھاتی ہیں، ’’اگر سوراخ کرتے وقت دباؤ زیادہ یا کم ہو جائے تو بانس اندر سے پھٹ جاتا ہے اور پورا ٹکڑا خراب ہو جاتا ہے۔‘‘
یہ خواتین آری، بلیڈ، چھینی اور چاقو جیسے تیز اوزار استعمال کرتی ہیں۔ اس کے بعد سطح کو ہموار کرنے کے لیے ریگ مال کاغذ استعمال کیا جاتا ہے۔ مونا بتاتی ہیں کہ آری سے بانس کاٹا جاتا ہے، جبکہ بلیڈ اور چاقو سے اسے چھیل کر شکل دی جاتی ہے۔ سوراخ بنانے کے لیے ٹیونر چاقو اور گرم سلاخ استعمال ہوتی ہے۔
Published: undefined
وہ کہتی ہیں، ’’ہاتھ جلنا یا زخمی ہونا عام بات ہے۔ اگر چوٹ گہری ہو جائے تو ایک ہفتے تک کام نہیں ہو پاتا اور روزی بھی رک جاتی ہے۔‘‘ بانس کو خشک کرنے کے عمل میں نکلنے والے دھوئیں کے مسلسل اثر سے کئی کاریگر سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مونا خود بھی آنکھوں کی کمزوری اور کمر درد کا شکار ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’اب تو آنکھوں کی حالت یہ ہے کہ میں سوئی میں دھاگا بھی نہیں ڈال سکتی۔‘‘
مونا شیخ منصوری برادری سے تعلق رکھتی ہیں، جو ریاست میں او بی سی کے طور پر درج ہے۔ وہ بتاتی ہیں، ’’پہلے یہ کام صرف ہمارے ہی لوگوں تک محدود تھا لیکن اب دوسری ذاتیں بھی اس پیشے میں آ گئی ہیں۔‘‘
مونا کے اندازے کے مطابق پورے شہر میں تقریباً 100 سے 150 خواتین اس کام سے وابستہ ہیں۔ ان کی محنت اہم ہے مگر بانسری کی فراہمی اور فروخت پر تھوک بیوپاریوں اور خوردہ تاجروں کا کنٹرول ہے۔ یہی لوگ قیمت اور مزدوری طے کرتے ہیں اور عام طور پر متھرا جیسے شہروں میں خریداروں سے سودا کرتے ہیں۔
Published: undefined
مرد مزدور، جو عموماً بانس کو شکل دیتے ہیں، 500 ٹکڑوں کے عوض تقریباً 300 سے 350 روپے کماتے ہیں، جو ریاست کی طے شدہ کم از کم اجرت سے بھی کم ہے۔ مونا کی روزانہ کی 300 روپے آمدنی شبنم اور سونم کے ساتھ تقسیم ہوتی ہے، جس کے بعد فی کس آمدنی نہایت کم رہ جاتی ہے۔
مونا کاشکاروں (تھوک بیوپاری) کے ماتحت دیہاڑی مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں۔ یہ کاشکار خام مال خریدنے، مزدور رکھنے اور بانسریوں کو بازار تک پہنچانے کے لیے سرمایہ رکھتے ہیں۔ مونا کے شوہر شکیل احمد کہتے ہیں، ’’کاشکاروں کی بیویاں بانسری نہیں بناتیں، کیونکہ انہیں اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘
مونا ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’پانچ سال پہلے ہم نے یونین بینک سے 50 ہزار روپے کا قرض لیا تھا تاکہ اپنا کام شروع کریں۔” ان کی آواز میں امید کے ساتھ ہلکی سی اداسی بھی جھلکتی ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں، ’’ہم نے 3–4 لاکھ روپے قرض لینے کا بھی سوچا تھا مگر ضمانت نہ ہونے کی وجہ سے منع کر دیا گیا۔‘‘
Published: undefined
مونا جیسے کاریگر آسام سے آنے والے بانس کو مقامی بیوپاریوں سے مہنگے داموں خریدتے ہیں، جس سے ان کا منافع بہت کم رہ جاتا ہے۔
وہ بتاتی ہیں، ’’چھوٹی بانسری پانچ سے دس روپے میں اور بڑی تقریباً بیس روپے میں بکتی ہے۔‘‘ لیکن یہی بانسری بازار میں 50 روپے تک فروخت ہوتی ہے۔
مونا کے شوہر شکیل ہر ماہ امرتسر جا کر میلوں میں بانسری بیچتے ہیں مگر یہ آمدنی غیر مستقل ہے اور مالی مشکلات دور کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اکثر وہ تیار شدہ بانسریاں اسی بیوپاری کو کم قیمت پر واپس بیچ دیتے ہیں جس سے انہوں نے بانس خریدا ہوتا ہے۔
یوں وہ قرض اور انحصار کے ایک ایسے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے نکلنا آسان نہیں۔ وہ آج بھی 6.4 فیصد شرح سود پر لیے گئے قرض کی ہر ماہ ایک ہزار روپے قسط ادا کر رہے ہیں مگر مسلسل خسارے کے باعث قرض ابھی تک ختم نہیں ہو سکا۔
(بشکریہ ruralindiaonline.org)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined