فکر و خیالات

مودی کی معافی: ڈھونگ یا سیاسی چال؟...اشوک سوین

مودی کی جانب سے نوجوان مظاہرین کو ’معاف‘ کرنے کے اعلان پر سوال اٹھاتے ہوئے اشوک سوین اس مضمون میں کہتے ہیں کہ مظاہرین کو معافی نہیں، بلکہ حکومت سے جواب دہی اور آئینی تحفظ درکار ہے۔

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعظم نریندر مودی (ویڈیو گریپ)</p></div>

وزیر اعظم نریندر مودی (ویڈیو گریپ)

 

جمعہ، 31 جولائی کو وزیر اعظم نریندر مودی نے رات دیر گئے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ریل شیئر کی۔ اس میں وہ ایک سرپرست کی طرح ان نوجوان مظاہرین کو ’معاف‘ کرتے نظر آئے جنہوں نے ان کے اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی تھی۔ ان کے بقول یہ مظاہرین ’بہکے ہوئے بچے‘ ہیں، جنہیں صحیح راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔

لیکن اس جذباتی انداز کے پیچھے ایک بنیادی سوال چھپ جاتا ہے: آخر وہ ایک مبینہ جمہوریت میں کس قانونی جرم کو معاف کر رہے تھے؟ اس کے برعکس، کیا انہیں پہلے اپنی حکومت کی ان غلطیوں پر معافی نہیں مانگنی چاہیے جن کی وجہ سے ملک بھر کے نوجوانوں کو جنتر منتر پر جمع ہونا پڑا؟

فرض کر لیجیے کہ مظاہروں کے دوران بعض مواقع پر استعمال کی گئی زبان غیر مہذب اور ناشائستہ تھی، تب بھی خراب زبان کب سے ایک فوجداری جرم بن گئی؟ جمہوری نظام میں شہریوں پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ وزیر اعظم سے محبت، احترام یا عقیدت کا اظہار کریں یا لازماً پارلیمانی زبان ہی استعمال کریں۔ جب تک کسی بیان میں واضح خطرہ، تشدد پر اکسانے یا کسی متعین قانون کی خلاف ورزی شامل نہ ہو، سیاسی اظہار کے طور پر اسے تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ محض اس لیے کہ لوگوں نے اپنا غصہ غیر شائستہ انداز میں ظاہر کیا، ریاست کو انہیں سزا دینے کا اختیار حاصل نہیں ہوجاتا۔

وزیر اعظم کی جانب سے اس مداخلت کا وقت بھی بہت کچھ بیان کرتا ہے۔ انہوں نے یہ قدم ایسے وقت اٹھایا جب ملک بھر میں تیزی سے پھیلنے والے احتجاج کے دباؤ کے نتیجے میں وزیر تعلیم کو عہدے سے ہٹنا پڑا تھا۔ 23 جولائی کو حکومت کے ساتھ معاہدے اور تمام ایف آئی آر واپس لینے کی یقین دہانی کے بعد تحریک کو معطل کردیا گیا تھا۔ لیکن اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس مظاہرین، بالخصوص نوجوان خواتین، کو منظم آن لائن ٹرولنگ، ذاتی معلومات افشا کرنے، یعنی ڈوکسنگ، اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

مصروف بازاروں میں پولیس کی موجودگی کے باوجود حکومت کے حامی عناصر مظاہرین کو دھمکاتے ہوئے دیکھے گئے۔ جب اس کارروائی کے خلاف آواز بلند ہوئی اور نوجوانوں نے دوبارہ سڑکوں پر اترنے کا انتباہ دیا تو وزیر اعظم انسٹاگرام پر ’معافی‘ کا تحفہ بانٹتے ہوئے نمودار ہوگئے۔ یوں ریاست کی جواب دہی کے بنیادی سوال کو ایک طاقتور شخصیت کے مجروح جذبات کے ڈرامے میں تبدیل کردیا گیا۔

ان کی اس ’معافی‘ کے باوجود جنسی زیادتی اور قتل کی دھمکیاں رک نہیں گئی ہیں۔ ڈوکسنگ بھی جاری ہے: ذاتی معلومات، خاندانی تفصیلات اور گھروں کے پتے آن لائن عام کیے جارہے ہیں۔ مظاہرین کو ’بہکے ہوئے بچے‘ قرار دینا اور انہیں معاف کرنے کی بات کرنا اخلاقی برتری حاصل کرنے کی ایک سوچے سمجھے کوشش معلوم ہوتی ہے۔

یہ کوئی بچے نہیں ہیں؛ یہ بالغ شہری ہیں، جن میں سے بیشتر ووٹر ہیں اور اپنی حکومت سے بہتر حکمرانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں بچکانہ قرار دینا ان کی سیاسی بصیرت اور شہری حقوق کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش ہے۔

مظاہرین کی زبان اور ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے۔ کوئی بھی گالی، خواہ وہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو، جنسی زیادتی کی دھمکی، قتل کی دھمکی یا آن لائن کسی کی نجی معلومات افشا کرنے کے برابر نہیں ہوسکتی۔ یہ اقدامات اس ماحول میں تشدد بھڑکانے کے مترادف ہیں۔ کم از کم یہ نشانہ بنائے گئے مظاہرین اور دوسرے شہریوں میں ایک خاموش خوف پیدا کرنے کی کوشش ضرور ہے۔

تشویش کی بات یہ ہے کہ ریاست اور میڈیا کا سارا غصہ مودی کے خلاف کہے گئے ناشائستہ الفاظ پر مرکوز ہے، جبکہ نوجوان خواتین کو جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکیوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ یہ ہمارے جمہوری نظام کی موجودہ صورت حال کی ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے۔

مجھے اس ریاستی نظام کا ذاتی تجربہ ہے۔ گزشتہ بارہ برس سے مودی کے حامی مجھے، میرے خاندان، میرے ساتھیوں اور یہاں تک کہ میرے مرحوم والد کو بھی گالیاں دے رہے ہیں اور تشدد، جنسی زیادتی اور قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ سویڈن کی اوپسالا یونیورسٹی میں میری علمی ذمہ داری اور یونیسکو چیئر کی حیثیت سے میرے کردار کے خلاف آن لائن مہمات چلائی گئی ہیں۔ مقصد واضح ہے: مودی کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی ذاتی اور ادارہ جاتی قیمت اتنی بڑھا دی جائے کہ لوگ خوف زدہ ہوجائیں۔

ہمیں تو رات گئے تشویش ظاہر کرنے والا کوئی پیغام موصول نہیں ہوا! نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کسی بڑے رہنما نے حملہ آوروں کو زبان، شائستگی یا خاندانوں کے احترام کا درس دیا۔ اس کے برعکس، منظم سیاسی پیغامات اور بے قابو آن لائن نفرت انگیز مہمات کے درمیان لکیر کو اکثر جان بوجھ کر دھندلا رکھا جاتا ہے۔ اس سے اقتدار میں موجود لوگوں کو آسانی سے ذمہ داری سے دامن بچانے کا موقع ملتا ہے، جبکہ ناقدین کو اس کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔

رہنما خود کو پرتشدد ہجوم سے الگ دکھانے کا تاثر دیتے ہیں، حالاں کہ یہی ہجوم انہی کے نام پر تشدد پھیلاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حکمرانوں کی توہین کو قانونی جرم بنانے کی کوششیں ہمیشہ جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہیں۔ فرانس میں صدر نکولا سرکوزی کو ایک تختی دکھانے پر سماجی کارکن ہروے ایون کو سزا سنائی گئی تھی، جس پر وہی ناشائستہ جملہ لکھا تھا جو خود سرکوزی کبھی استعمال کرچکے تھے۔ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے فیصلہ دیا کہ یہ سزا آزادیٔ اظہار کی خلاف ورزی تھی اور اس عمل کو سیاسی طنز قرار دیا۔ اس کے بعد فرانس نے 1880 کی دہائی کے اس پرانے قانون کو ختم کردیا، یعنی فرانسیسی صدر کی توہین اب فوجداری جرم نہیں رہی۔

اسی طرح اسپین میں بادشاہ خوان کارلوس اور ملکہ صوفیا کی تصاویر جلانے پر دو مظاہرین کو سزا دی گئی تھی۔ یورپی عدالت نے قرار دیا کہ ان کی سزا آزادیٔ اظہار کی خلاف ورزی تھی۔ عدالت کے مطابق یہ ایک اشتعال انگیز سیاسی تنقید تھی، نہ کہ نفرت یا تشدد پھیلانے کی کوشش۔

اسپین ہی کے ایک دوسرے معاملے میں عدالت نے باسک سیاست دان ارنالڈو اوتےگی کو بادشاہ کی توہین کے الزام میں دی گئی سزا سے بری کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سربراہِ مملکت کو ایسا خصوصی تحفظ حاصل نہیں ہوسکتا جو اس ادارے کو سیاسی چیلنجز سے محفوظ رکھے۔ پولینڈ میں مصنف یاکوب ژولچک کے خلاف صدر آندریژ ڈوڈا کو ’احمق‘ کہنے پر مقدمہ چلایا گیا، لیکن عدالت نے بالآخر انہیں یہ کہتے ہوئے بری کردیا کہ فوجداری سزا سیاسی بحث کو غیر مناسب طور پر محدود کردے گی۔

یہ مقدمات ہر قسم کی توہین کو درست قرار نہیں دیتے۔ ان سے ایک زیادہ اہم اصول سامنے آتا ہے: جمہوری آزادی کا اصل امتحان ان خیالات سے ہوتا ہے جو آپ کو پریشان، حیران یا مجروح کرتے ہیں، نہ کہ ان خیالات سے جنہیں ہر شخص آسانی سے قبول کرلے۔

رہنماؤں کو ٹیلی ویژن، پارٹی تنظیم، عوامی پلیٹ فارم اور ریاستی اداروں تک براہ راست رسائی حاصل ہوتی ہے۔ وہ فوجداری قانون کا سہارا لیے بغیر بھی تنقید کا جواب دے سکتے ہیں۔ چونکہ وہ بے پناہ اختیارات استعمال کرتے ہیں، اس لیے انہیں عام شہریوں کے مقابلے میں زیادہ سخت تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ دکھانا چاہیے، نہ کہ اس سے بچنے کے لیے خصوصی قانونی تحفظ کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

مودی کی جانب سے ’معافی‘ کا یہ بڑا دعویٰ اس بنیادی اشتعال اور ان وجوہات سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہے جن کے نتیجے میں ان کے خلاف طنز کیا جارہا تھا۔ ہندوستان کے نوجوان کسی وزیر اعظم کی توہین کے ارادے سے سڑکوں پر نہیں نکلے تھے۔ وہ ایک بوسیدہ تعلیمی نظام اور مسابقتی امتحانات میں بار بار ہونے والے پرچے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف احتجاج کررہے تھے، جنہوں نے ان کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ وہ حکمرانی کی ناکامیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔

ناشائستہ زبان کو بحث کا مرکز بنا کر مودی حکومت عوام سے کہہ رہی ہے کہ وہ امتحانی گھوٹالے، وزیر تعلیم کے رسوا کن استعفے اور اس اجتماعی تحریک کو بھول جائیں جس نے حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا تھا۔

حکومت کی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی دلچسپی نظام کو درست کرنے میں نہیں بلکہ کسی طرح موجودہ بحران کو ٹالنے میں ہے۔ اس نے پہلے تحریک ختم کرانے کے لیے جھوٹی یقین دہانیاں کرائیں اور اب نوجوان مظاہرین کو خوف زدہ کرنے کے لیے ان کے پیچھے پڑی ہے تاکہ وہ دوبارہ متحد نہ ہوسکیں۔

اگر غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوتیں تو ایک مظاہرہ کرنے والے کے خلاف درج ’زیرو ایف آئی آر‘ کو قانونی طور پر نامناسب قرار دیا جاتا۔ توجہ جنسی زیادتی اور قتل کی دھمکیوں، ڈوکسنگ اور خوف و ہراس پھیلانے کے واقعات کی تحقیقات پر مرکوز ہوتی۔

معافی دینا کسی شخص کا ذاتی اخلاقی انتخاب ہے۔ لیکن یہ اس وقت سیاسی طور پر خطرناک ہوجاتا ہے جب کوئی حکمران ایسے عمل کو معاف کرنے کا اختیار جتانے لگے جسے جرم قرار دینے کا قانونی اختیار بھی اس کے پاس نہیں تھا۔

ہندوستان کے ان نوجوان مظاہرین کو نریندر مودی کی طرف سے کسی باپ کی طرح دی جانے والی معافی کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں اس ریاست کی طرف سے آئینی تحفظ درکار ہے جس کے سربراہِ حکومت مودی ہیں۔ اور یہ نوجوان دراصل ان کی حکومت سے اسی براہِ راست جواب دہی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

(مضمون نگار اشوک سوین، سویڈن کی اوپسلا یونیورسٹی میں پیس اینڈ کانفلکٹ ریسرچ کے پروفیسر ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔