فکر و خیالات

مولانا قاسم نانوتوی: 1857ء کے مجاہدِ آزادی اور علمی و دینی تحریک کے معمار

قاسم نانوتوی 1857ء کے مجاہد، جید عالم اور دارالعلوم دیوبند کے معمار تھے۔ انہوں نے علمی و عملی میدان میں اسلام کا دفاع کیا اور آزادی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر شاہد صدیقی علیگ</p></div>

تصویر شاہد صدیقی علیگ

 

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ برصغیر میں آزادی کی تحریک کو جلا بخشنے میں دینی مدارس اور ان سے وابستہ علماء نے کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ ان اہلِ علم نے نہ صرف تاجرِ فرنگ کی عیاری و مکاری کو بروقت پہچانا بلکہ سب سے پہلے اس کے خلاف آوازِ بغاوت بلند کی۔ اس فکری اور عملی جدوجہد کی بنیاد حضرت شاہ ولی اللہؒ کے انقلابی نظریہ سے پڑی، جسے شاہ عبدالعزیزؒ نے مزید قوت عطا کی۔ بعد ازاں سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیلؒ کی قربانیوں نے اس تحریک کو عملی میدان تک پہنچایا، جس کا نقطۂ عروج 1857ء کی پہلی ملک گیر جنگِ آزادی کی صورت میں سامنے آیا۔

Published: undefined

اسی عظیم جدوجہد کے سرکردہ رہنماؤں میں مولانا قاسم نانوتویؒ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کی ولادت 1832ء میں سہارنپور کے قصبہ نانوتا میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے چچا مولانا مہتاب علیؒ دیوبندی اور محمد نوازؒ سہارنپوری سے حاصل کی۔ بعد ازاں 1844ء میں دہلی کا رخ کیا جہاں مولانا مملوک علیؒ نانوتوی اور مفتی صدر الدینؒ دہلوی جیسے جلیل القدر اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ اس کے علاوہ شاہ عبدالغنیؒ مجددی اور احمد علیؒ محدث سہارنپوری سے بھی استفادہ کیا، جس نے آپ کی علمی شخصیت کو جلا بخشی۔

تعلیم سے فراغت کے بعد کچھ عرصہ مکتبہ احمدی دہلی میں ادارت کے فرائض انجام دیے، مگر درس و تدریس کا سلسلہ ہمیشہ جاری رکھا۔ تاہم جب 1857ء میں میرٹھ سے انقلابی سپاہیوں نے انگریزوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا تو مولانا قاسم نانوتویؒ نے بھی میدانِ عمل میں قدم رکھا اور عملی جہاد میں شریک ہوگئے۔

Published: undefined

2 جولائی 1857ء کو تھانہ بھون میں حاجی امداد اللہؒ کی قیادت میں ایک اہم مجلسِ شوریٰ منعقد ہوئی، جس میں آزادی کی فیصلہ کن جدوجہد کا اعلان کیا گیا۔ اس مجلس میں حاجی امداد اللہؒ کو امیر اور مولانا قاسم نانوتویؒ کو سپہ سالار منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد شیر علی باغ میں انگریزی فوج کے خلاف پہلا معرکہ پیش آیا، جہاں مجاہدین نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں 14 ستمبر 1857ء کو ایک اور شدید مقابلہ ہوا جس میں ابتدا میں مجاہدین کو برتری حاصل رہی، لیکن گورکھوں اور سکھ افواج کی مداخلت کے باعث حالات کا رخ بدل گیا۔

اس جنگ کے بعد انگریز حکومت نے مولانا کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا اور ان کے سر پر انعام رکھا، مگر وہ اپنی حکمت اور بصیرت سے گرفتاری سے محفوظ رہے۔ کچھ عرصہ روپوشی کے بعد کراچی پہنچے اور وہاں سے حج کے لیے روانہ ہوگئے۔ ملکہ وکٹوریہ کی عام معافی کے بعد وطن واپس آئے اور میرٹھ میں علمی خدمات کا آغاز کیا۔

Published: undefined

مولانا قاسم نانوتویؒ نے نہ صرف میدانِ جنگ میں بلکہ فکری محاذ پر بھی اسلام کا دفاع کیا۔ انہوں نے پنڈت دیانند سرسوتی اور پادری تارا چند کے ساتھ مناظرے کیے اور اسلام کے خلاف اٹھنے والے شبہات کا مدلل جواب دیا۔ ان کی علمی بصیرت اور استدلال نے انہیں اپنے دور کا ممتاز عالم بنا دیا۔

آپ کی زندگی کا سب سے درخشاں کارنامہ دارالعلوم دیوبند کی ترقی اور استحکام ہے۔ اگرچہ اس ادارے کی بنیاد 1866ء میں رکھی گئی، مگر مولانا کی تنظیمی صلاحیتوں اور علمی قیادت نے اسے عالمی شہرت عطا کی۔ انہوں نے نہایت سادہ زندگی گزاری اور اپنی تنخواہ بھی محدود رکھی، جو ان کے زہد اور اخلاص کا واضح ثبوت ہے۔ آج دارالعلوم دیوبند کے فارغین دنیا بھر میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں، جو مولانا کی بصیرت کا نتیجہ ہے۔

Published: undefined

15 اپریل 1880ء کو محض 48 برس کی عمر میں یہ عظیم شخصیت اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ آپ کو قاسمیہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ سر سید احمد خاںؒ نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کا خلا آسانی سے پُر نہیں ہوتا۔

مولانا قاسم نانوتویؒ کی حیاتِ مبارکہ جہاد، علم، تقویٰ اور اخلاص کا حسین امتزاج تھی۔ انہوں نے نہ صرف اپنے عہد میں دین کی حفاظت کی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مضبوط فکری و تعلیمی بنیاد فراہم کی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined