فکر و خیالات

مظلومین مالیگاؤں کب تک انصاف سے محروم رہیں گے؟...سہیل انجم

بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے سے 2006 مالیگاؤں دھماکہ کیس کے ملزمان بری ہو گئے، جس سے تفتیشی خامیوں، این آئی اے کی کارکردگی اور متاثرین کو انصاف نہ ملنے پر سنجیدہ سوالات دوبارہ اٹھ گئے

<div class="paragraphs"><p>مالیگاؤں دھماکہ کی فائل تصویر / Getty Images</p></div>

مالیگاؤں دھماکہ کی فائل تصویر / Getty Images

 

بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے جس میں مالیگاؤں بم دھماکہ کے تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے، یہ سوال ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ مالیگاؤں کے مظلوم مسلمان کب تک انصاف سے محروم رہیں گے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ جب تمام ملزموں کو بری کر دیا گیا تو پھر 2006 میں ہونے والے وہ دھماکے کس نے کیے تھے جن میں 31 مسلمان ہلاک ہوئے تھے۔ اس فیصلے سے تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھ رہا ہے۔ عدالت نے این آئی اے اور سابقہ جانچ ایجنسی کے موقف میں تضاد کا ذکر کیا اور این آئی اے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اکٹھا کیے گئے شواہد کو نظرانداز کیا۔ اس سے قبل بھی این آئی اے اور اے ٹی ایس کی تحقیقاتی کارروائیوں پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ جن ملزموں کو رہا کرانا مقصود ہوتا ہے ان کے خلاف ناقص جانچ کی جاتی ہے اور ثبوتوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ تاکہ عدالت ثبوتوں کے فقدان میں ملزموں کو بری کر دے۔

Published: undefined

یاد رہے کہ آٹھ ستمبر 2006 کو شب برات کے موقع پر رات میں پونے دو بجے مالیگاؤں کی حمیدیہ مسجد کے احاطے میں، بڑا قبرستان میں اور مشاورت چوک پر بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 31 مسلمان ہلاک اور 312 زخمی ہوئے تھے۔ انسداد دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) نے ان دھماکوں کے لیے 9 مسلمانوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔ وہ لوگ پانچ سال جیل میں رہے۔ 2011 میں عدالت نے ان کی ضمانت منظور کی تھی۔ اس دوران مکہ مسجد حیدرآباد میں بھی دھماکہ ہوا تھا اور اس میں بھی مسلمانوں کو ہی گرفتار کیا گیا تھا۔ جس جیل میں حیدرآباد کے مسلم نوجوان بند تھے اسی میں سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزم سوامی اسیمانند بھی بند تھے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق سوامی نے ان مسلم قیدیوں کے اخلاق سے متاثر ہو کر یہ اعتراف کیا تھا کہ یہ دھماکے ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے کیے تھے۔

Published: undefined

سوامی اسیمانند کے اس اعتراف کی بنیاد پر مکہ مسجد کے مسلم ملزموں کو رہا کیا گیا۔ اس کے بعد مالیگاو ¿ں معاملے نے بھی ایک موڑ لیا اور تمام 9 مسلم ملزموں کو ضمانت دے دی گئی۔ بعد میں عدالت نے سوامی اسیمانند کے اعتراف کو یہ کہتے ہوئے رد کر دیا تھا کہ وہ دباو میں دیا گیا بیان تھا۔ لیکن ایسی بھی خبریں تھیں کہ ان پر ہندو تنظیموں کا دباو تھا کہ وہ اپنا بیان واپس لے لیں۔ بہرحال ممبئی اے ٹی ایس کے علاوہ سی بی آئی نے بھی مالیگاؤں دھماکہ معاملے کی جانچ کی تھی اور کہا تھا کہ مسلمانوں نے ہی دھماکے کیے ہیں۔ لیکن جب یہ معاملہ اے این آئی کے ہاتھ میں آیا تو اس نے اس معاملے میں ’بھگوا دہشت گردوں‘ کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا اور اس نے منوہر نواریا، راجیندر چودھری، دھان سنگھ، شیو سنگھ، لوکیش شرما، سنیل جوشی، رام چندر کلا سنگرا، رمیش مہالکر اور سندیپ ڈانگے کو ملزم بنایا۔ بعد میں ان میں سے کئی ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔ کئی ملزم مفرور تھے اور ایک ملزم سنیل جوشی کا قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل میں جیل میں بند سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو مشکوک گردانا گیا۔

Published: undefined

اس انکشاف کے بعد این آئی اے نے کہا کہ اگر مسلم ملزمان الزامات سے بری کیے جانے کے درخواست عدالت میں داخل کرتے ہیں تو وہ اس کی مخالفت نہیں کرے گی۔ اس طرح ایک تو اسیمانند کا اعتراف اور دوسرے این آئی اے کی کارروائی کے سبب تمام 9 مسلمانوں کے بری کیے جانے کا راستہ صاف ہو سکا۔ اس کے بعد راجندر چودھری، دھان سنگھ، منوہر رام سنگھ نرواریا اور لوکیش شرما کو گرفتار کیا گیا۔ اس معاملے کی جانچ این آئی اے کے حوالے کی گئی۔ ان کے خلاف 19 الزامات عاید کیے اور یو اے پی اے کے تحت بھی کارروائی کی گئی۔ بعد میں ان چاروں نے عدالت میں خود کو بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا۔ انھوں نے بامبے ہائی کورٹ میں اپنے خلاف عاید الزامات کے خلاف اپیل کی جس پر عدالت نے اسی سال جنوری میں عدالتی کارروائی پر روک لگا دی۔ اور اب عدالت نے ان چاروں کو بری کر دیا۔

Published: undefined

مالیگاؤں میں ستمبر 2008 میں بھی بم دھماکے ہوئے تھے جن میں چھ مسلمان ہلاک ہوئے تھے۔ دھماکے کی جگہ پر ایک موٹر سائیکل ملی تھی جو کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے نام پر تھی۔ اس معاملے میں پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے علاوہ ایک ہندوتووادی تنظیم ’ابھینو بھارت‘ سے وابستہ ایک شخص کرنل شری کانت پرساد پروہت سمیت کئی لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ لوگ کئی سال تک جیل میں بند رہے۔ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر خود کو بیمار ہونے اور کینسر کی مریضہ ہونے کے نام پر عدالت سے فریاد کرتی رہیں جس کی بنیاد پر انھیں ضمانت دے دی گئی تھی۔ بعد میں انھیں بھوپال سے بی جے پی کی لوک سبھا امیدوار بنایا گیا اور وہ کامیاب ہو گئیں۔ گزشتہ سال جولائی میں ممبئی کی اسپیشل کورٹ نے ان لوگوں کو ثبوتوں کے فقدان میں تمام الزامات سے بری کر دیا۔

Published: undefined

اس وقت بھی یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ جب ان تمام لوگوں کو بری کر دیا گیا ہے تو پھر یہ دھماکے کس نے کیے تھے۔ اب جبکہ بامبے ہائی کورٹ نے 2006 کے دھماکوں کے معاملے میں ملزموں کو بری کر دیا تو یہ سوال ایک بار پھر اٹھ رہا ہے۔ لیکن اس سوال کا جواب دینے کے لیے کوئی بھی آگے نہیں آرہا ہے۔ عدالتیں ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے سناتی ہیں۔ اگر کسی ملزم کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں تو اس کے خلاف فیصلہ دیا جاتا ہے اور اگر ثبوتوں کا فقدان ہے تو اسے بری کر دیا جاتا ہے۔ ثبوت اکٹھا کرنے کی ذمہ داری جانچ ایجنسی کی ہوتی ہے۔ اگر وہ ٹھوس ثبوت اکٹھا نہیں کر پاتی تو اس کا مطلب اس نے اپنا کام ٹھیک سے نہیں کیا۔ ورنہ ایسے بھی معاملات سامنے آئے ہیں جن میں کئی کئی دہائیوں کے بعد بھی ثبوت اکٹھا ہوئے اور ملزموں کو سزا سنائی گئی۔ ایک ایکس مسلم سلیم واستک کا معاملہ بالکل سامنے کا ہے۔ اسے 1995 میں ایک بچے کے اغوا اور قتل کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گویا اگر ثبوت اکٹھا نہیں ہو پاتے تو اصل مجرم قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جانچ ایجنسیوں کی تحقیقات کسی ایک سمت میں چلتی ہے اور پھر اسی کی بنیاد پر فیصلہ دیا جاتا ہے۔ اس طرح بے قصوروں کو بھی سزا مل جاتی ہے۔

Published: undefined

مالیگاؤں بم دھماکوں کے معاملے میں چاروں غیر مسلم ملزموں کے بری کیے جانے پر قانون دانوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ 2008 کیس کی جانچ این آئی اے کی استغاثہ روہنی سالیان کر رہی تھیں۔ انھوں نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ ان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جانچ کے معاملے میں تیزی نہ دکھائیں۔ بلکہ ملزموں کے تئیں نرم رویہ اختیار کریں۔ رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے این آئی اے کی کارکردگی پر سوال اٹھایا ہے اور پوچھا ہے کہ کیا وہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرے گی۔ انھوں نے خود ہی جواب بھی دیا ہے کہ اس کا امکان بہت کم ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ دھماکوں کے شکار لوگوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ دھوکہ دہی ہے۔ دوسرے سیاست دانوں نے بھی این آئی اے کی کارکردگی کو سوالوں کے گھیرے میں رکھا ہے۔

Published: undefined

متاثرین کے اہل خانہ نے اس فیصلے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ کیا ان کو کبھی انصاف مل پائے گا۔ یاد رہے کہ پہلے 9 مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا جنھیں بالآخر رہا کیا گیا تھا۔ اس قسم کے بم دھماکہ معاملات میں پولیس پہلے مسلمانوں کو ہی پکڑتی رہی ہے۔ یعنی ہلاکتیں بھی مسلمانوں کی ہوتی تھیں اور گرفتاریاں بھی مسلمانوں کی ہی۔ بہرحال پہلے 2008 کے بم دھماکہ کیس میں مظلومین مالیگاؤں انصاف سے محروم رہے اور اب 2006 کے بم دھماکہ معاملے میں بھی محروم ہو گئے۔ یہ دونوں فیصلے ہندوستان کے نظام انصاف پر کسی سوالیہ نشان سے کم نہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined