فکر و خیالات

مدرسہ تجوید القرآن: دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج

مدرسہ تجوید القرآن کوئی نیا تعلیمی ادارہ نہیں ہے۔ اس کا قیام 1948 میں ہوا تھا، تب اس کا مقصد خالص مذہبی تعلیم تھا۔ مدرسہ کی ’نئی شکل‘ سرپرست و ڈائریکٹر مولانا محمود الحسن کی سوچ اور محنتوں کا ثمرہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مدرسہ تجوید القرآن میں کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرتے طلبا</p></div>

مدرسہ تجوید القرآن میں کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرتے طلبا

 

پُل بنگش میٹرو اسٹیشن (دہلی) سے اتر کر میں پا پیادہ آزاد مارکیٹ کی جانب بڑھا۔ لب سڑک موجود ایک تاریخی تعلیمی ادارہ میں داخل ہوا، جہاں پرنسپل ڈاکٹر محفوظ عالم ندوی سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے ادارہ کی سرگرمیوں کے بارے میں جانکاری لینی چاہی، تو وہ مجھے لے کر ایک کلاس روم میں گئے جہاں ’رحیم کے دوہے‘ پڑھائے جا رہے تھے۔ وہاں سے دوسری کلاس کی طرف بڑھے تو سائنس کی پڑھائی چل رہی تھی اور کئی بچے اپنی کاپی میں بتائی گئی چیزیں انگریزی میں لکھ رہے تھے۔ پھر ہم ایک ایسے کلاس میں پہنچے جہاں تقریباً 2 درجن کمپیوٹر رکھے ہوئے تھے اور ایک گوشہ میں بہت سارے بچوں کو ایک نوجوان استاد اسمارٹ بورڈ پر کچھ پڑھا رہے تھے۔ اسی طرح ایک دیگر کلاس میں پہنچا تو وہاں ’کلائمیٹ چینج‘ (موسمیاتی تبدیلی) کے بارے میں پڑھایا جا رہا تھا۔ میں یہ سب دیکھ کر حیران رہ گیا... کیونکہ یہ کوئی انگریزی میڈیم اسکول نہیں، بلکہ مدرسہ تجوید القرآن ہے۔ اس مدرسہ کے 4 منزلوں تک میں گیا اور انتظام و انصرام کے ساتھ ساتھ طریقۂ تعلیم دیکھ کر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گیا۔ بات ہی کچھ ایسی تھی، کیونکہ مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کی بات تو خوب ہوتی ہے، لیکن اسے عملی جامہ پہنانا، اور وہ بھی انتہائی منظم انداز میں، کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مدرسہ تجوید القرآن اس کی ایک بہترین مثال معلوم ہوا۔

Published: undefined

مدرسہ تجوید القرآن کوئی نیا تعلیمی ادارہ نہیں ہے۔ اس کا قیام 1948 میں ہوا تھا، تب اس کا مقصد خالص مذہبی تعلیم تھا۔ مدرسہ کی ’نئی شکل‘ سرپرست و ڈائریکٹر مولانا محمود الحسن کی سوچ اور محنتوں کا ثمرہ ہے۔ جب میری ملاقات مولانا محمود الحسن صاحب سے ہوئی تو انھوں نے باتوں باتوں میں بتایا کہ بہت عرصہ پہلے سے ہی وہ مدرسہ میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کی مضبوط بنیاد ڈالنا چاہتے تھے، لیکن حالات سازگار نہیں ہو رہے تھے۔ گزشتہ 6-5 سالوں میں اس سمت کوششیں کی گئیں اور الحمدللہ مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ وہ اُمید کر رہے ہیں کہ جس طرح یہ مدرسہ حفظ اور قرأت کے لیے اپنی مثال آپ ہے، اسی طرح عصری تعلیم میں بھی ایک الگ شناخت قائم کرے گا۔ اِس کوشش میں مولانا محمود الحسن کو پرنسپل ڈاکٹر محفوظ عالم ندوی کا بھرپور ساتھ مل رہا ہے، جنھوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء (لکھنؤ) اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی جیسے تاریخی و مشہور اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے۔ انھوں نے ’یوٹیوب‘ اور ’گوگل‘ جیسے کارپوریٹ سیکٹر کے لیے کام کرنے کے ساتھ ساتھ ڈنمارک کے ایک بینک میں کمپلائنس افسر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ یعنی ڈاکٹر محفوظ عالم نہ صرف دینی و عصری دونوں ہی طریقۂ تعلیم سے آشنا ہیں، بلکہ کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ اب وہ اپنے تجربات سے مدرسہ تجوید القرآن کو مستفید کرنا چاہتے ہیں۔

Published: undefined

ڈاکٹر محفوظ عالم ندوی بتاتے ہیں کہ وہ اس ادارہ سے منسلک ہوئے کیونکہ مولانا محمود الحسن کے مشن اور ویزن نے انھیں متاثر کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے مولانا محمود الحسن میں دور اندیش لیڈرشپ کو دیکھا۔ وہ دورِ حاضر کی ضرورتوں کو سمجھتے ہیں اور مدرسہ تجوید القرآن میں ایک بہترین نظام قائم کیا ہوا ہے۔ مجھے مدرسہ کا ڈسپلن، بچوں کی تربیت کا انداز، ٹائم ٹیبل دیکھ کر خوشی ہوئی اور میں نے محسوس کیا کہ اس ادارہ کے ساتھ جڑ کر قوم و ملت کے لیے بامقصد کام انجام دیا جا سکتا ہے۔‘‘

Published: undefined

جب میں نے مدرسہ تجوید القرآن کے تعلیمی نظام کو سمجھنے کی کوشش کی، تو ایک واضح اور بامقصد پیغام نظر آیا۔ یہاں دینی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے لیے کلاسز کو ’لیول-1‘ (پری پرائمری سے درجہ 5 تک)، ’لیول-2‘ (درجہ 6 سے 8 تک)، ’برج‘ (درجہ 9) اور ’X‘ (درجہ 10) میں تقسیم کیا گیا تھا۔ حفاظ کے لیے ایک منفرد جدید تعلیمی پروگرام بھی پیش کیا گیا ہے، جو 3 سالہ عصری تعلیمی نصاب پر محیط ہے۔ یہ کورس، جسے ’حفظ القرآن پلس‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، 2018 سے بحسن وخوبی اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ خوش کن بات یہ ہے کہ طلباء کی ایک بڑی تعداد اس سے فیضياب ہو کر عالمی شہرت یافتہ اداروں سے منسلک ہو چکى ہے۔

Published: undefined

جب میں نے ’حفظ القرآن پلس‘ کے بارے میں تفصیل جاننے کی کوشش کی تو ڈاکٹر محفوظ عالم ندوی نے بتایا کہ ’’حفظ القرآن پلس کم وقت میں تکمیل پانے والا ایک انتہائی اہم کورس ہے۔ حفاظ کرام کے لیے 3 سالہ مربوط یہ کورس موجودہ وقت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہے جسے حفاظ کی صلاحیت، محنت اور ذہانت کو دیکھتے ہوئے 12 سال کی عام اسکولی تعلیم (نرسری سے دسویں درجہ تک) کو کم وقت میں سمیٹ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں اسکولی نصاب کے تمام مضامین شامل ہیں۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’’اس کورس میں انگلش میڈیم کے مکمل سی بی ایس ای نصاب (انگریزی، اردو، ہندی، ریاضی، معاشرتی علوم اور کمپیوٹر سائنس وغیرہ) کے ساتھ ساتھ انگلش اسپیکنگ، ڈرائنگ اور آرٹس وغیرہ سکھائے جاتے ہیں۔ ایک طرح سے حفاظ کی صلاحیتوں کو نکھارا جاتا ہے اور 3 سال کی قليل مدت میں انہیں مختلف شعبوں میں کامیاب بننے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔‘‘ اس ادارہ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ بطور اساتذہ نوجوان نسل کو ذمہ داری سونپی گئی ہے، جو کہ جدید تکنیک سے اچھی طرح واقف ہیں۔ یہاں حفظ و قرأت کے لیے 15 اساتذہ ہیں، تو عصری تعلیم کے لیے بھی 15 اساتذہ رکھے گئے ہیں۔

Published: undefined

اس تعلیمی ادارہ میں جس طرح منصوبہ بندی کے ساتھ طلبا کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے اور رہنے و کھانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ مدرسہ تجوید القرآن کے ڈائریکٹر اور پرنسپل کی باتیں محض ’باتیں‘ نہیں ہیں، بلکہ انھوں نے اپنی سوچ کو زمین پر مضبوطی کے ساتھ کھڑا بھی کیا ہے۔ اس مدرسہ میں طلبا کی شخصیت سازی اور کردار سازی تو ہو ہی رہی ہے، انھیں ملک سے محبت کرنے والا اور انسان دوست شہری بھی بنایا جا رہا ہے۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ حفاظ بہت زیادہ محنتی اور ذہین ہوتے ہیں، لیکن ذہین اور باصلاحيت نوجوان کی بروقت رہنمائی مدرسہ تجوید القرآن کا نصب العین بن چکا ہے۔ مولانا محمود الحسن کی دلی خواہش اور خواب ہے کہ وہ اپنے ذہین طلبا کو تعلیم کے حقیقی احساس کے ساتھ جوڑ کر انھیں ڈاکٹر، انجینئر، ایڈمنسٹریٹر، صحافی، ماہر معاشيات، وکیل اور سماجى كاركن بنتا ہوا دیکھیں۔ انھوں نے اس خواب کی تکمیل کی طرف اپنا قدم مضبوطی کے ساتھ بڑھا دیا ہے۔

Published: undefined

مدرسہ تجوید القرآن کی تاریخ:

مدرسہ تجوید القرآن دہلی کا تقریباً 78 سال پرانا ادارہ ہے جس کی بنیاد 1948 میں اس وقت رکھی گئی تھی جب ملک تقسیم ہوا تھا۔ اس وقت آزاد مارکیٹ میں کسی طرح کی آبادی نہیں تھی۔ پہاڑی پر صرف ایک چھوٹی سی مسجد تھی، جس میں اس وقت کچھ لوگ آ جایا کرتے تھے۔ قریب میں ایک قبرستان بھی تھا۔ اسی زمانے میں مدرسہ تجوید القرآن کے بانی قاری محمد سلیمان صاحب (مولانا محمود الحسن کے والد) کا مذکورہ مسجد میں امامت کے غرض سے آنا ہوا، اور اپنے استاد محترم امام الوقت حضرت قبلہ قاری فتح محمد صاحبؒ کے حکم پر یہاں چند طلبا کے ساتھ قرآنی خدمت کا آغاز کیا۔ ابتدا 3 طلبا سے ہوئی تھی اور آج کم و بیش 325 طلبا یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مولانا محمود الحسن کہتے ہیں کہ ’’آزاد مارکیٹ قرآن کریم کی برکت سے آباد ہوا۔ یہاں جو سوناپن تھا، بے آبادی تھی، وہ ختم ہو گئی۔ آج الحمدللہ ادارہ دہلی کا ایک ممتاز اور باوقار ادارہ ہے۔‘‘

Published: undefined

بتایا جاتا ہے کہ 1948 میں یہ جگہ غیر آباد ضرور تھی، لیکن آس پاس کچھ فاصلوں پر مسلم علاقے ضرور تھے۔ یہاں آس پاس بازار وغیرہ کا تصور نہیں تھا۔ ایک نہر ضرور بہتی تھی، جو بھر دی گئی۔ اس بارے میں مولانا محمود الحسن کا کہنا ہے کہ جب 1950 کے بعد پاکستان سے رفیوجی ہندوستان آئے، تو ان کو آباد کرنے کے لیے حکومت دہلی نے آزاد مارکیٹ میں موجود نہر کو مٹی سے بھر کر دکانیں بنا دی تھیں۔ یہی وہ وقت تھا جب اس بازار کو ’آزاد مارکیٹ‘ نام دیا گیا۔ یہاں پاکستانی مہاجروں کو کاروبار کے لیے دکانیں الاٹ کی گئیں، اور پھر دھیرے دھیرے آبادی بڑھتی گئی۔ آج یہ علاقہ دہلی کی شان تصور کیا جاتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined