
تصویر اے آئی
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی دو ججوں پر مشتمل بنچ نے 15 مئی کو اندور کے قریب دھار میں واقع 700 سال پرانی مسجد کو ہندو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ بنیادی طور پر عدالت کے حکم پر آثار قدیمہ سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی جانب سے کیے گئے جی پی آر (گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار) سروے پر مبنی تھا۔
سروے کے مطابق، 14ویں صدی کی ستونوں والی عمارت — کمال مولا مسجد (جو دھار کی پہلی جامع مسجد بھی تھی) — کو 11ویں صدی کے پہلے سے موجود ایک مندر کے اوپر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس مندر کو آج ’بھوج شالہ‘ (11ویں صدی کے پرمار راجا بھوج کے نام پر) کہا جاتا ہے۔ تاہم اے ایس آئی کی آثار قدیمہ سے متعلق تشریح اور عدالت کا فیصلہ — دونوں ہی تاریخی ذرائع، تعمیراتی اجزا کے دوبارہ استعمال کے عمل اور مذاہب کی تاریخی ترقی کو سمجھنے کے معاملے میں مسائل سے دوچار ہیں۔
Published: undefined
سروے کے مختصر نتائج، جیسا کہ عدالتی حکم میں درج ہیں، مسجد کے نیچے پہلے سے موجود ایک ایسے ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو ’شاید عوامی مقاصد کے لحاظ سے بہت وسیع‘ تھا (صفحہ 186)۔ اس میں کہا گیا کہ اس ڈھانچے کو ’توڑا گیا اور اسے دوبارہ استعمال کے لیے تبدیل کیا گیا‘۔ تاہم صفحہ 189 پر اے ایس آئی اپنی ہی بات کی نفی کرتا ہے، جب وہ کہتا ہے کہ ’ستونوں اور ذیلی ستونوں کی فن کاری اور تعمیراتی طرز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصل میں مندروں کا حصہ تھے‘۔ یعنی یہ باقیات کسی ایک ڈھانچے کی نہیں بلکہ کئی مندروں سے آئی تھیں (صفحہ 189)۔
نیچے موجود ساخت کو مندر قرار دینے کی بنیاد اس میں استعمال شدہ مواد کو بنایا گیا۔ اے ایس آئی کے مطابق، دوبارہ استعمال کیے گئے ستونوں پر چار بازوؤں والے دیوتاؤں کے ساتھ ساتھ گنیش جیسے دیگر اساطیری کرداروں کی تصویریں ملی ہیں، اگرچہ اسلامی مجسمہ شکنی کی روایت کے مطابق انہیں بگاڑ دیا گیا تھا۔
سروے اس امکان پر غور نہیں کرتا کہ نیچے موجود ڈھانچہ کوئی محل بھی ہو سکتا ہے، اور یہ کہ مسجد کی تعمیر کے لیے دوبارہ استعمال کیا گیا سامان کسی محل سے بھی لیا گیا ہو سکتا تھا۔ دیوی دیوتاؤں کی نقش کاری محلوں کے ستونوں، کنگوروں اور دروازوں کی عام خصوصیت ہوا کرتی تھی۔
Published: undefined
اے ایس آئی اپنی اس بات کو بھی نظر انداز کرتا ہے کہ مسجد میں دوبارہ استعمال کیا گیا مواد کئی مختلف ذرائع سے آیا تھا (صفحہ 189)۔ اس کے علاوہ، سروے اپنے اس دعوے کے حق میں بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کرتا کہ پہلے سے موجود وہی عمارت منہدم کی گئی تھی اور پھر اسی کو مسجد میں دوبارہ استعمال کیا گیا۔
2019 کے ایودھیا فیصلے (صفحہ 906-907) نے دکھایا تھا کہ غیر قانونی طور پر شہید کی گئی بابری مسجد کے نیچے مکمل کھدائی بھی یہ ثابت نہیں کر پائی تھی کہ اس کے نیچے موجود عمارت کو تباہ کیا گیا تھا۔ تو پھر اے ایس آئی جی پی آر سروے کے ذریعے کسی قدیم عمارت کی تباہی کیسے ثابت کر سکتا ہے؟
اس امکان کو کہ پہلے سے موجود ڈھانچہ شاید ایک محل تھا، ’واگ دیوی‘ کی مورتی کی ’دریافت‘ سے مزید تقویت ملتی ہے۔ اس کا ذکر پہلی بار صفحہ 12 پر آتا ہے، جہاں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ’دیوی واگ دیوی (ماں سرسوتی) کی مورتی ہے، جسے مسلم حکمرانوں نے زمین میں دفن کر دیا تھا‘۔ اس دعوے کے بعد ایک ٹوٹا ہوا ویب لنک دیا گیا ہے، جس میں ’برٹش میوزیم‘ کی اسپیلنگ بھی غلط لکھی گئی ہے۔
Published: undefined
یہ مورتی دوبارہ صفحہ 44 پر زیر بحث آتی ہے، اور وہاں دیا گیا ویب لنک بھی کہیں نہیں پہنچتا، شاید اس لیے کہ ’برٹش میوزیم‘ کی ہجے دوبارہ غلط لکھی گئی ہیں۔
صحیح ویب لنک ایک دلچسپ تصویر پیش کرتا ہے۔ اس میں اس مورتی کو ’موٹے سفید سنگ مرمر سے تراشی گئی جین یکشنی امبیکا کی کھڑی مورتی‘ قرار دیا گیا ہے۔ برٹش میوزیم کی ویب سائٹ پر کہیں بھی اس مورتی کی شناخت دیوی سرسوتی کے طور پر نہیں کی گئی۔
اس مورتی کی شناخت جین یکشنی امبیکا کے طور پر اس کے ساتھ موجود ایک کتبے کی بنیاد پر کی گئی، جس میں اسے 1034 عیسوی کا بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ورروچی نے واگ دیوی سمیت تین مورتیاں بنانے کے بعد امبا کی یہ مورتی تیار کی۔
ورروچی اس کتبے میں خود کو چندرنگری اور ودیادھری کے مذہب سے وابستہ بتاتے ہیں، اور یہ دونوں جین دھرم کی شاخیں ہیں۔ یہ مورتی نہ صرف ایک جین یکشنی کی ہے، بلکہ اسے ایک جین فرد نے ہی تیار کیا تھا۔ اس معلومات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا، اور صفحہ 12 پر واگ دیوی اور امبا، دونوں کو دیوی سرسوتی کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت بھی نہیں دیا گیا۔
Published: undefined
یہ فیصلہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز کرتا ہے کہ جین یکشنی کی مورتی 1875 میں دھار کے ایک شہری محل کے کھنڈرات میں نوآبادیاتی دور کے سروے کار ولیم کنکیڈ کو ملی تھی۔ یہ معلومات برٹش میوزیم کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، لیکن عدالتی حکم میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ جین یکشنی امبیکا کو جان بوجھ کر سرسوتی کی مورتی کے طور پر پیش کرنا ہی وہ واحد بنیاد ہے، جس کے ذریعے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہاں پرمار راجا بھوج کی تعمیر کردہ سرسوتی مندر موجود تھا اور اسے 1034 عیسوی میں بنایا گیا تھا۔
پہلے سے موجود ڈھانچے کے بنیادی طور پر جین ہونے کے امکان کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ اسی اے ایس آئی سروے میں مسجد کے احاطے کے اندر ایک جین تیرتھنکر کی مورتی ملنے کا ذکر ہے۔ فیصلہ (صفحہ 234) اس بات کو یہ دعویٰ کرکے مسترد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ ‘ہندوستان میں جین دھرم اور ہندو دھرم الگ الگ وجود نہیں رکھتے۔ اگرچہ ان دونوں کے پوجا پاٹھ کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن دونوں دھرم ساتھ ساتھ ترقی کرتے رہے اور دونوں ایک ہی اعلیٰ طاقت کی عبادت کرتے ہیں۔‘ یہ دعویٰ تاریخی طور پر درست نہیں ہے۔
تمل ناڈو کے چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے مندروں پر اپنی 1975 کی تحقیق میں ماہر آثار قدیمہ کے آر سری نواسن نے دکھایا ہے کہ آٹھویں اور نویں صدی میں جین دھرم کے کئی چٹانی مندروں کو شیو یا وشنو مندروں میں تبدیل کیا گیا تھا۔
Published: undefined
جین دھرم اور ہندو دھرم کے درمیان فرق نہ کرنا، ہندو دھرم کی اس نوآبادیاتی تعریف کو بھی دہراتا ہے، جس کے مطابق ہندو دھرم کا مطلب تھا ’نہ مسلمان، نہ عیسائی‘۔ ہندو دھرم کی اس غلط تفہیم کی پیروی نوآبادیاتی دور کے سروے کاروں نے بھی کی تھی، جن میں خاص طور پر تعمیراتی تاریخ کے ماہر جیمس فرگوسن شامل تھے۔ انہوں نے ہندوستانی فن تعمیر پر اپنی 1876 کی تصنیف میں جین بسدیوں اور بدھ اسٹوپوں کو ’ہندو فن تعمیر‘ کے زمرے میں رکھا تھا۔
یہ حکم نہ صرف ہندو دھرم کی برطانوی تعریف پر مبنی ہے، بلکہ مسجد کے اندر پائے گئے سنسکرت کتبوں کو سمجھنے کے لیے بھی نوآبادیاتی ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔ ایسا کوئی سنسکرت ماخذ پیش نہیں کیا گیا، جس میں مسجد کے آس پاس کسی مندر کی موجودگی کا ذکر ہو۔
جس طرح محل میں ملی جین یکشنی امبیکا کی مورتی کو سرسوتی قرار دے دیا گیا، اسی طرح متنازع مقام سے تین کلومیٹر دور صوفی بزرگ عبداللہ شاہ چنگل کے مزار میں ملنے والے ایک کتبے کو بھی وہاں پہلے سے موجود کسی عمارت کے توڑے جانے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اے ایس آئی نے کمال مولا مسجد کے مقام پر مبینہ طور پر منہدم کیے گئے مندر اور چنگل کے مزار سے ملنے والے کتبے کے درمیان تعلق کیسے قائم کیا، اس کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
Published: undefined
اس بات کو تسلیم کر لینے کے علاوہ کہ اس ڈھانچے کی اصل شکل مندر تھی، اس میں استعمال شدہ سامان پہلے سے موجود مندر کا تھا، اس میں موجود جین مورتی سرسوتی کی تھی، اور ہندو دھرم اور جین دھرم الگ الگ نہیں ہیں، جس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا، وہ یہ ہے کہ یہ عمارت گزشتہ 700 برسوں سے ایک مسجد رہی ہے۔
اس مقام پر ملنے والا ایک کتبہ (جس کا ذکر اے ایس آئی سروے میں بھی ہے) بتاتا ہے کہ مالوا کے گورنر دل آور خان غوری نے 1392-93 میں دھار کی مسجدوں کی مرمت کروائی تھی۔ اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ کمال مولا مسجد 13ویں صدی کے آغاز میں تعمیر کی گئی تھی، غالباً سلطان علاء الدین خلجی کے گورنر عین الملک ملتانی کے ذریعے۔
اس مسجد میں ایک ’محراب‘ موجود ہے، جس پر قرآن کی آیات درج ہیں۔ اس میں ایک ’منبر‘ (خطبہ دینے کا مقام) اور ایک ’زنانہ‘ (خواتین کے لیے مخصوص جگہ) بھی موجود ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف اس مقام اور پورے خطے کی جین تاریخ کو مٹاتا ہے، بلکہ اس عمارت کی مسجد کے طور پر طویل تاریخ کو بھی نظر انداز کرتا ہے — وہ تاریخ جو چشتی صوفی بزرگ کمال مالوی کے مزار سے جڑی ہوئی ہے۔
(روچیکا شرما دہلی میں مقیم مورخ اور پروفیسر ہیں)
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined