فکر و خیالات

ووٹر لسٹ سے نام خارج کر مجھے اذیت کے اگلے مرحلہ کی طرف بڑھا دیا جائے تو شاید زیادہ دلچسپ ہوگا... آکار پٹیل

میرے پاس اب بھی کچھ دستاویزات تھیں (بینک اسٹیٹمنٹ، جائیداد کے کاغذات وغیرہ) جو جمع کرائے اور انہیں قبول کر لیا گیا۔ شاید یہ کافی ہوں، یا شاید نہ ہوں۔ خیر، ہمیں پتہ چل ہی جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

علامتی تصویر، اے آئی

 

’’سماعت میں حاضری لازمی ہے۔ براہ کرم اسے فوری نوعیت کا معاملہ سمجھیں اور ہر حال میں شرکت کے لیے ضروری عمل انجام دیں۔‘‘

میرا ارادہ تھا کہ واٹس ایپ پر آنے والے اس ’ایس آئی آر نوٹس‘ کو نظر انداز کر دوں اور میں نے وہاں جانے کا ارادہ ترک بھی کر دیا تھا۔ لیکن پھر میری اہلیہ مجھ سے ایک دن پہلے وہاں چلی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوٹس جاری کرنے والے افسر ناراض نظر آ رہے تھے کہ میں نے ان کے واٹس ایپ پیغام کا جواب تک نہیں دیا تھا۔

ضروری تھا، اس لیے میں بھی کاغذات کی اس خستہ حال فائل کے ساتھ ان کے سامنے حاضر ہو گیا، جن کے ذریعہ مجھے یہ ثابت کرنا تھا کہ میرا وجود ہے اور میں ان لوگوں کو منتخب کرنے کا اہل ہوں جنہیں ہم خوش فہمی میں عوامی خدمت گار کہتے ہیں۔ وہ جگہ پریشان حال لوگوں سے بھری ہوئی تھی، جیسا کہ ایسی جگہ پر توقع کی جا سکتی ہے جہاں غیر یقینی اور افراتفری عموماً معمول کا حصہ ہوتی ہے اور جس میں اس حکومت نے بلاوجہ مزید غیر یقینی پیدا کر دی ہے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا کے لوگ ’ڈسرپشن‘ (خلل) کا لفظ بہت پسند کرتے ہیں اور اسے مثبت معنی میں استعمال کرتے ہیں، لیکن دراصل یہ ایک پُرتشدد اصطلاح ہے۔ کس کی زندگی میں خلل اور کس مقصد کے لیے؟ اگر اس بارے میں سوچا بھی جاتا ہے تو اس پر غور نہیں کیا جاتا۔ غریب اور حاشیے پر موجود لوگوں کا اس بات میں کوئی حقیقی اختیار نہیں کہ ان کے وجود کو کس طرح بے سکون کیا جائے۔

بہرحال، افسر ایک استاد نکلے، جو پڑھانے کے بجائے اکتوبر تک یہ کام کرتے رہیں گے۔ وہ خوش اخلاق، شائستہ اور ماہر تھے اور انہوں نے چند منٹ میں یہ کارروائی مکمل کر دی۔ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے اور میں نے پایا ہے کہ حکومت کے کام کے آخری سرے پر موجود لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ان میں وہ بہت سے افسر بھی شامل ہیں جنہوں نے ہمارے دفتر پر چھاپہ مارا ہے اور جنہیں مجھے گرفتار کرنے وغیرہ کے لیے کہا گیا ہے۔ بدنیتی اور نااہلی ’چین آف کمانڈ‘ (حکمراں سلسلہ) میں اوپر کی جانب ہے اور موجودہ دور میں اس کے ساتھ ایک خاص قسم کی مضحکہ خیزی بھی شامل ہو گئی ہے۔

قدرتی آفات اور انسانی اعمال کی وجہ سے میرے کاغذات کی فائل خستہ حال ہے۔ زیادہ درست طور پر کہیں تو ایسے انسان کے اعمال کی وجہ سے جو خود کو خدا سمجھتا ہے۔ پیدائش کا سرٹیفکیٹ (ناناوتی اسپتال، بمبئی) اور اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ (سر جے جے انگلش اسکول) 2006 کے سورت سیلاب میں بہہ گئے تھے۔ ’کم از کم حکومت‘ نے ڈیم کے اوپر پانی جمع ہونے دیا تھا اور پھر ’زیادہ سے زیادہ حکومت‘ نے اسے بغیر کسی انتباہ یا تیاری کے چھوڑ دیا، جس سے شہر کے کنارے زیر آب آ گئے۔

میرے والدین نے 4 دن اپنی چھت پر اکیلے اور بغیر کسی مدد کے گزارے اور ان کے پاس جو کچھ تھا، اس کا بیشتر حصہ گنوا دیا۔ اب مزید کیا پیش کیا جا سکتا ہے؟ میرا پاسپورٹ ضبط (ظاہر ہے، عدالت کے پاس) ہے۔ مجھے خیال آتا ہے کہ ریاست ٹیکس وصول کرتے اور میرے خلاف مقدمات دائر کرتے وقت اصرار کرتی ہے کہ میں ہندوستانی ہوں، لیکن جب ووٹ دینے کی بات آتی ہے تو اسے شبہ ہوتا ہے کہ میں ہندوستانی نہیں ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ ملک بھر میں میرے ساتھی مجرم اس تضاد سے کیسے نمٹ رہے ہوں گے۔

بہرحال، میرے پاس اب بھی کچھ دستاویزات تھیں (بینک اسٹیٹمنٹ، جائیداد کے کاغذات وغیرہ) جو جمع کرائے اور انہیں قبول کر لیا گیا۔ شاید یہ کافی ہوں، یا شاید نہ ہوں۔ خیر، ہمیں پتہ چل ہی جائے گا۔ ووٹر فہرست سے نام خارج کر کے مجھے اذیت کے اگلے مرحلے کی طرف بڑھا دیا جائے تو شاید زیادہ دلچسپ ہوگا۔ آسام میں جو لوگ بدنیتی پر مبنی حکومت کو مطمئن کرنے کے لیے اپنی شہریت ثابت نہیں کر سکے، انہیں حق رائے دہی سے محروم کیے جانے کے علاوہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ ذرا سوچیں کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا جنہیں ایک دن بتایا جائے کہ ان کے بینک اکاؤنٹس، لائسنس اور پاسپورٹ اب کارآمد نہیں رہے۔

ظاہر ہے، یہ تمام ملک بدری کی کہانیاں ہیں۔ مجھے امید ہے کہ مجھے کسی مہذب ملک بھیج دیا جائے گا، شاید جنوب مشرقی ایشیا کے کسی ملک میں۔ مجھے چین جانے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا، جو انسانیت کا ابھرتا ہوا ستارہ ہے، اگرچہ سچ کہوں تو ثقافت اور خوراک کے لحاظ سے جنوبی ایشیا کے ہی ایک اور ملک میں مجھے واقعی گھر جیسا محسوس ہوگا۔

اپنی قسمت اور اس حکومت کو جانتے ہوئے، غالباً ایسا نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے مجھے یہیں رکھا جائے گا۔ حق رائے دہی سے محروم کر دیا جائے گا، لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ وندے ماترم کے 6 بند کھڑے ہو کر سناؤں۔ جمہوریت کی ماں احترام اور عقیدت کا مطالبہ کرتی ہے، لیکن یہ یک طرفہ تعلق ہے۔ آپ کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ اس کی اولاد ہیں، اگر ہم اس کے بارے میں سوچیں تو یہ ایک عجیب صورت حال ہے۔

نئے ہندوستان میں بہت سے قوانین میں جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی قصوروار ہونے کا مفروضہ شامل کر دیا گیا ہے۔ دہشت گردی اور منشیات سے متعلق قوانین میں یہ پہلے سے موجود تھا۔ 2015 میں اسے گائے کے گوشت رکھنے تک توسیع دے دی گئی۔ ملزم کو یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ قصوروار نہیں ہے۔ 2018 میں اسے ’لو جہاد‘ کے قوانین تک بڑھا دیا گیا۔ شہریت کے معاملے میں آسام نے ہمیں راستہ دکھایا اور اب ہم یہاں ہیں۔

کیا بی جے پی کچھ ہی عرصہ پہلے لازمی ووٹنگ کا قانون منظور کرنے کی بات نہیں کر رہی تھی؟ حیرت ہے کہ اس کا کیا ہوا اور موقف ’ہر شخص کو ووٹ دینا ہوگا‘ سے بدل کر ’کوئی ووٹ نہیں دے سکتا جب تک کہ وہ طہارت کا یہ امتحان پاس نہ کرے‘ کیسے ہو گیا۔ ان سے اصولی مستقل مزاجی کی توقع کرنا ایسا ہی ہے جیسے انسانیت یا شائستگی کی توقع کرنا۔

میں کسی پہلے کے زمانے میں اس عمل اور ووٹ دینے کے حق سے محروم کیے جانے کے خیال، دونوں سے گہری پریشانی محسوس کرتا (میں صبح سویرے ہی پولنگ بوتھ پر قطار میں لگ جایا کرتا تھا)۔ اب میں اس بارے میں زیادہ پرسکون ہوں اور سچ کہوں تو مجھے کوئی پروا نہیں۔ مجھے ان لوگوں سے بہت محبت ہے جو اس ملک کو تشکیل دیتے ہیں۔ باقی جو کچھ اسے تشکیل دیتا ہے، اس کے لیے میرے دل میں بہت کم، شاید بالکل بھی محبت نہیں ہے۔

نیو یارک شہر کے میئر نے گزشتہ سال اپنی جادوئی انتخابی مہم کے دوران ایک ایسے ووٹر سے ملاقات کا ذکر کیا تھا جس کے لیے گھر سے متعلق تمام رومانوی جذبات ختم ہو چکے تھے۔ اس نے ان سے کہا تھا کہ ’’مجھے نیو یارک سے محبت تھی، اب یہ صرف وہ جگہ ہے جہاں میں رہتی ہوں۔‘‘

یہ بالکل درست ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔