فکر و خیالات

اسلام - انسانی فطرت، عقل اور اخلاقی شعور کی روشنی میں...ایف اے مجیب

اسلام انسانی فطرت، عقل اور اخلاقی شعور سے ہم آہنگ دین ہے۔ یہ انسان کو خالق کی پہچان، اخلاقی اقدار کی مضبوطی اور دنیا و روحانیت کے درمیان توازن کی ایسی رہنمائی دیتا ہے جو زندگی کو بامقصد بناتی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

انسانی تہذیب کی پوری تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انسان صرف مادی ضروریات کا اسیر نہیں رہا۔ اس نے ہمیشہ ایک ایسے نظامِ فکر کی تلاش کی ہے جو اس کی زندگی کو معنی دے، اس کے اخلاق کو سمت دے اور اس کے وجود کو مقصد عطا کرے۔ اسی جستجو کے نتیجے میں مختلف فلسفے، نظریات اور مذہبی نظام سامنے آتے رہے۔ لیکن تاریخ کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ وہ نظریات زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے جو انسانی فطرت سے متصادم تھے، جبکہ وہ اصول اور تعلیمات جو انسان کی بنیادی ساخت کے مطابق تھے، زمانے کے بدلنے کے باوجود اپنی تاثیر برقرار رکھتے رہے۔ اسلام کو دینِ فطرت اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی تعلیمات انسانی فطرت، عقل اور اخلاقی شعور کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتی ہیں۔

انسانی فطرت کا ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ وہ اس کائنات کے نظم کو دیکھ کر اس کے پس منظر میں کسی اعلیٰ اور حکیم ہستی کے وجود کو محسوس کرتا ہے۔ اگر تاریخ کے مختلف ادوار اور مختلف تہذیبوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً ہر معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں ایک اعلیٰ طاقت یا خالق کے وجود کا تصور موجود رہا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کے اندر اپنے خالق کو پہچاننے کا ایک فطری رجحان موجود ہے۔

Published: undefined

انسان جب کائنات پر غور کرتا ہے تو اسے ہر طرف ایک حیرت انگیز نظم دکھائی دیتا ہے۔ ستاروں کی گردش، زمین کی متوازن ساخت، موسموں کی ترتیب، زندگی کے پیچیدہ حیاتیاتی نظام اور فطرت کے قوانین — یہ سب کسی بے مقصد یا اتفاقی عمل کا نتیجہ محسوس نہیں ہوتے۔ عقل یہ گواہی دیتی ہے کہ کسی بھی منظم نظام کے پیچھے ایک شعوری منصوبہ اور ارادہ ہوتا ہے۔ جس طرح ایک پیچیدہ مشین اپنے آپ وجود میں نہیں آ سکتی بلکہ اس کے پیچھے ایک ماہر انجینئر ہوتا ہے، اسی طرح کائنات کے حیرت انگیز نظم کے پیچھے بھی ایک حکیم اور باخبر خالق کا ہونا عقلی طور پر زیادہ معقول محسوس ہوتا ہے۔

اسلام کا تصورِ خدا اسی عقلی حقیقت سے ہم آہنگ ہے۔ یہ تصور نہایت سادہ اور واضح ہے۔ اس میں نہ پیچیدہ فلسفیانہ الجھنیں ہیں اور نہ ہی ایسی باتیں جو انسانی عقل کے لیے ناقابلِ قبول ہوں۔ ایک خدا جو کائنات کا خالق ہے، اس کا منتظم ہے اور اسی کے سامنے انسان کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہے — یہ تصور انسانی عقل کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتا ہے۔

Published: undefined

انسانی فطرت کا ایک اور اہم پہلو اخلاقی شعور ہے۔ دنیا کے مختلف معاشروں، مذاہب اور تہذیبوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کچھ اخلاقی اصول تقریباً ہر جگہ مشترک ہیں۔ سچائی کو اچھا سمجھا جاتا ہے، انصاف کو پسند کیا جاتا ہے، والدین کے احترام کو اہمیت دی جاتی ہے اور کمزوروں یا ضرورت مندوں کی مدد کو نیکی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جھوٹ، ظلم، خیانت اور دھوکہ تقریباً ہر معاشرے میں ناپسندیدہ سمجھے جاتے ہیں۔

یہ مشترک اخلاقی اقدار اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انسان کے اندر ایک فطری اخلاقی معیار موجود ہے۔ اسلام کا اخلاقی نظام اسی فطری معیار کے مطابق ہے۔ اسلام انسان کو سچائی، انصاف، دیانت، رحم اور خدمتِ خلق کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ وہ اقدار ہیں جنہیں انسانی فطرت خود تسلیم کرتی ہے اور جن کے بغیر کوئی معاشرہ دیرپا استحکام حاصل نہیں کر سکتا۔

Published: undefined

اسلام کو دینِ فطرت کہنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ یہ انسانی زندگی میں توازن پیدا کرتا ہے۔ انسانی تاریخ میں دو انتہائیں ہمیشہ سامنے آتی رہی ہیں۔ ایک طرف وہ نظریات ہیں جو انسان کو مکمل طور پر مادیت کی طرف لے جاتے ہیں اور زندگی کو صرف معاشی یا جسمانی خواہشات تک محدود کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف وہ نظریات ہیں جو انسان کو دنیا سے کنارہ کشی اور ترکِ دنیا کی طرف مائل کرتے ہیں۔

اسلام ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک متوازن راستہ پیش کرتا ہے۔ یہ انسان کو روحانی بالیدگی کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے اور دنیاوی ذمہ داریوں کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ انسان کی فطری ضروریات جیسے خوراک، آرام، خاندان اور معاشی سرگرمیوں کو اسلام غیر ضروری یا ممنوع قرار نہیں دیتا بلکہ انہیں اخلاقی اصولوں کے اندر رہ کر اختیار کرنے کی رہنمائی دیتا ہے۔ یہی توازن دراصل انسانی فطرت کے مطابق زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ ہے۔

Published: undefined

اسلام کا سماجی تصور بھی انسانی فطرت اور عقل کے مطابق ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہو سکتا ہے جہاں انصاف، مساوات اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ اگر دولت چند ہاتھوں میں محدود ہو جائے، طاقت کا غلط استعمال ہونے لگے اور کمزور طبقات محروم رہ جائیں تو معاشرے میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔

اسلامی نظام انسانوں کے درمیان معاشی اور سماجی ذمہ داریوں کو متوازن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں ضرورت مندوں کی مدد، معاشرتی تعاون اور انصاف کے قیام کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس طرح ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جہاں ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع ملے اور اجتماعی بھلائی کو فروغ حاصل ہو۔

Published: undefined

انسان کی فطرت میں انصاف کا احساس بھی بہت گہرا ہوتا ہے۔ جب وہ دنیا میں ظلم اور ناانصافی کو دیکھتا ہے تو اس کے اندر ایک فطری سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کبھی ایسا وقت آئے گا جب ہر شخص کو اس کے اعمال کا مکمل نتیجہ ملے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں بہت سے ظالم اپنے جرائم کے باوجود سزا سے بچ جاتے ہیں اور بہت سے مظلوم انصاف دیکھے بغیر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

یہ حقیقت انسان کے اندر اس احساس کو جنم دیتی ہے کہ انسانی اعمال کا کوئی حتمی حساب بھی ہونا چاہیے۔ اسلام اسی فطری احساس کو ایک واضح تصور کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ انسان کی زندگی بے مقصد نہیں بلکہ اس کے اعمال کا ایک حتمی نتیجہ ہونا ہے۔ یہی تصور انسان کو ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔

اگر انسانی فطرت، عقل اور اخلاقی شعور کی روشنی میں اسلام کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کسی خاص خطے یا قوم کا محدود نظریہ نہیں بلکہ ایک ایسا نظامِ فکر ہے جو انسان کی اصل ساخت کے ساتھ گہری مطابقت رکھتا ہے۔

Published: undefined

یہ انسان کو اس کے خالق کی پہچان دیتا ہے، اس کے اخلاقی شعور کو مضبوط کرتا ہے، اس کی فطری ضروریات کو تسلیم کرتا ہے اور اس کی زندگی میں توازن پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جو اسے صرف ایک مذہبی نظام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اور فطری رہنمائی بناتی ہیں۔

آج کے دور میں جب انسان بے شمار نظریاتی کشمکش، اخلاقی بحران اور فکری الجھنوں کا شکار ہے، ایسے میں ایک ایسا نظامِ فکر جو انسان کی فطرت اور عقل دونوں سے ہم آہنگ ہو، پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اسلام اسی ہم آہنگی کا نام ہے — ایک ایسا راستہ جو انسان کی فطرت، عقل اور اخلاقی شعور کو ایک متوازن اور بامقصد سمت فراہم کرتا ہے۔

مختصر یہ کہ اسلام کو دینِ فطرت کہنا محض ایک مذہبی دعویٰ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کا اظہار ہے جسے انسانی تاریخ، عقل اور اخلاقی تجربہ تینوں مل کر واضح کرتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined