فکر و خیالات

تاج محل ہی محفوظ نہیں، تو پھر بچا کیا؟... رشمی سہگل

سپریم کورٹ کا اپنے ہی پرانے حکم کو پلٹنا ہندوستان کی تاریخی وراثتوں کے تحفظ کے لیے ایک خطرناک نظیر ہے۔

تاج محل / آئی اے این ایس
تاج محل / آئی اے این ایس 

مغل وراثت پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی رائے جو بھی ہو، اس سچ سے منھ نہیں موڑ سکتے کہ تاج محل ہندوستان کی عالمی شناخت رکھنے والی سب سے محبوب تاریخی وراثت ہے۔ محبت اور فن تعمیر کی یہ بے مثال علامت ملک کی 145 ٹکٹ پر مبنی یادگاروں میں سب سے زیادہ آمدنی کرنے والی عمارت ہے، جہاں ہر سال 70 لاکھ سے زیادہ سیاح آتے ہیں۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ سپریم کورٹ کو تاج کی حفاظت سے متعلق اپنے ہی دہائیوں پرانے حکم کو تبدیل کرنا پڑا؟

گزشتہ ماہ چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے اکتوبر 2024 کے اس حکم میں ترمیم کر دی، جس نے عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر ’تاج ٹریپیزیم زون‘ (ٹی ٹی زیڈ) میں کسی بھی نئی صنعتی سرگرمی پر مؤثر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ آگرہ، متھرا سمیت اتر پردیش اور راجستھان کے آس پاس کے اضلاع میں پھیلے 10,400 مربع کلومیٹر کے محفوظ علاقے میں نئی صنعتیں لگانے کی اجازت مانگنے والے ایم ایس ایم ای کی 410 زیر التوا درخواستوں کو اب منظوری کے عمل میں شامل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

اتر پردیش حکومت کے ذریعہ دائر ان درخواستوں میں چمڑے اور جوتے بنانے والی یونٹس، دستکاری اور پتھر کی پروسیسنگ کی صنعتیں، فاؤنڈری، سیرامک، انجینئرنگ صنعتیں، زرعی پروسیسنگ یونٹس، ہوٹل اور اسپتال شامل ہیں۔ ریاستی حکومت کی دلیل تھی کہ یہ منصوبے کوئلے کے بجائے بجلی اور قدرتی گیس سے چلیں گے۔ تاہم عدالت نے ہدایت دی ہے کہ ہر تجویز کی جانچ ’مرکزی بااختیار کمیٹی‘ (سی ای سی) اور ’قومی ماحولیاتی انجینئرنگ تحقیقی ادارہ‘ (نیری) کرے گا، پھر بھی اس نے اس احتیاطی نقطۂ نظر کو پلٹ دیا جس نے دہائیوں تک تاج محل کو محفوظ رکھا۔ حیرت کی بات ہے کہ بنچ نے ایمیکس کیوری کو یہ طے کرنے کا حتمی اختیار دے دیا کہ عدالتی مداخلت کب اور کیوں مانگی جا سکتی ہے۔ یعنی اگر نیری اور سی ای سی ہری جھنڈی دے بھی دیں، تو بھی ایمیکس کیوری ان کے فیصلے کو مسترد کر سکتے ہیں۔

عدالت نے نہ تو اس علاقے کی ماحولیاتی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت کا جائزہ طلب کیا اور نہ ٹی ٹی زیڈ کے لیے زیر التوا ’ویژن ڈاکیومنٹ‘ پر غور کیا۔ بنیادی سوال کبھی یہ رہا ہی نہیں کہ نئی صنعتیں صاف ایندھن جلائیں گی یا نہیں، اصل سوال یہ تھا کہ کیا پہلے ہی شدید دباؤ کا سامنا کر رہا یہ نازک ماحولیاتی نظام اضافی صنعت کاری کا بوجھ برداشت کر سکے گا؟ سپریم کورٹ نے خاطر خواہ زمینی مطالعے کے بغیر فیصلہ لے لیا۔

تاج محل کو بچانے کی قانونی لڑائی 1970 کی دہائی میں شروع ہوئی تھی اور 1984 میں اس وقت تیز ہوئی جب کارکن اور وکیل ایم سی مہتا یہ معاملہ سپریم کورٹ لے گئے۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ کے اخراج، اینٹوں کے بھٹوں اور تیل کی ریفائنری کی آلودگی سے سفید سنگ مرمر پیلا اور سبز ہونے لگا تھا، جبکہ اندرونی مقبرے میں ممتاز محل کی قبر کو فنگل انفیکشن نقصان پہنچا رہا تھا۔

ڈیوک یونیورسٹی کے انجینئر مائک برجن نے اپنے مطالعے میں بتایا ہے کہ آلودگی اور دھول کے ذرات نے تاج کو کیسے دھندلا کر دیا۔ چونکہ یہ باریک ذرات سنگ مرمر سے چپک جاتے ہیں اور پانی میں حل نہیں ہوتے، اس لیے ان کی صفائی مشکل ہوتی ہے اور اس سے سنگ مرمر کی سطح کو نقصان پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے۔ اگرچہ ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ (اے ایس آئی) وقتاً فوقتاً ملتانی مٹی کا لیپ لگاتا ہے، لیکن تحفظ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ علامات کا علاج ہے، بیماری کا نہیں۔

جمنا ندی (جس کی صحت اس یادگار کے وجود سے براہ راست جڑی ہے) کیمیائی کچرے، غیر صاف شدہ سیوریج اور کچرے سے اٹی پڑی ہے، جو کیڑے مکوڑوں کا مسکن بن چکی ہے۔ اے ایس آئی نے خبردار کیا ہے کہ تاج پر سبز رنگ کے دھبے ’گوئلڈی چیرونومس‘ نامی کیڑے کی بیٹ کی وجہ سے ہیں، جو آلودہ ندی میں تیزی سے پروان چڑھتا ہے۔ آگرہ میں 90 بڑے نالے ہیں، جن میں سے صرف 4 کا پانی ہی ٹریٹمنٹ پلانٹوں میں صاف ہوتا ہے۔ باقی 65 کا گندہ کچرا براہ راست جمنا میں جاتا ہے۔ صورت حال کو مزید خراب کرتا ہے ندی کی گرتی ہوئی سطح آب، جس سے تاج کی بنیاد کو سنگین خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔

خبروں کے مطابق اے ایس آئی نے تین سال میں ٹکٹوں کی فروخت سے 90 کروڑ روپے کمائے، لیکن تحفظ پر 9.41 کروڑ روپے خرچ کیے۔ باقی رقم کہاں استعمال ہوئی؟ آئی آئی ٹی کے 2015 کے ایک مطالعے میں پایا گیا کہ تاج محل کی سطح پر جمع ہونے والے آلودگی پھیلانے والے عناصر میں 3 فیصد حصہ گاڑیوں کی آلودگی سے نکلنے والے بلیک کاربن کا ہے، 30 فیصد براؤن کاربن ہے اور باقی کچرا، گوبر کے اُپلے، پرالی اور فوسل ایندھن جلنے سے اٹھنے والی دھول ہے۔

ماحولیاتی کارکن برج کھنڈیلوال کہتے ہیں کہ 1977 میں کارکنوں نے متھرا ریفائنری کو کہیں اور منتقل کرنے کے مطالبے کو لے کر بھوک ہڑتال کی تھی، کیونکہ انہیں خوف تھا کہ سلفر ڈائی آکسائیڈ کا اخراج تاج محل کو تباہ کر دے گا۔ آج صورت حال زیادہ خراب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’تاج محل ہزاروں ٹرکوں، بسوں اور بھاری گاڑیوں سے نکلنے والی دھول، دھند اور دھوئیں سے دب رہا ہے۔ جمنا اور معاون ندیاں خشک ہو رہی ہیں، تالاب اور جھیلیں غائب ہو چکی ہیں۔ ایسی نازک صورت حال میں نئی صنعتوں سے ماحول پر کیا اثر پڑے گا، اس کا سائنسی مطالعہ تو ہونا چاہیے تھا۔‘‘

1990 کے آس پاس آگرہ میں تقریباً 2 لاکھ رجسٹرڈ گاڑیاں تھیں۔ 2026 کے وسط تک یہ تعداد 16.9 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ شہر کے ایکسپریس وے کا استعمال روزانہ 50,000 سے زیادہ گاڑیاں کرتی ہیں۔ کھنڈیلوال خبردار کرتے ہیں کہ اضافی صنعتی سرگرمیوں سے یقینی طور پر ٹریفک، تعمیرات اور توانائی کی طلب بڑھے گی، جو دہائیوں کی قانونی لڑائی سے حاصل ہونے والے ماحولیاتی فوائد کو ختم کر دے گی۔ ماحولیاتی کارکن ڈاکٹر دیواشیش بھٹاچاریہ نے پیٹھا صنعت کو شہر سے باہر منتقل کرنے کے مطالبے کو لے کر عرضی دائر کر رکھی ہے، کیونکہ اس کا کچرا سڑکوں یا کھلے نالوں سے ہوتے ہوئے آخرکار جمنا میں ہی گرتا ہے۔

آگرہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر مکل پانڈیا بحران کے ایک اور پہلو کی بات کرتے ہیں۔ سردیوں میں ہوا کا معیار اکثر 250 سے 300 کی خطرناک سطح تک گر جاتا ہے، جہاں زہریلی اسموگ تاج سمیت دیگر تاریخی عمارتوں کو اپنی زد میں لے لیتی ہے۔ ان کی دلیل ہے ’’اس سے نمٹنے کا طریقہ مقامی درخت اور پھول دار جھاڑیاں لگانا ہے۔‘‘

29 جولائی کو سپریم کورٹ نے قانون کی روح کو مزید کمزور کر دیا جب اس نے یہ اجازت دے دی کہ اگر کسی منصوبے کو انتظامی حکم کے بجائے سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے لایا جائے، تو کام شروع ہونے کے بعد بھی اسے قانونی منظوری دی جا سکتی ہے۔ خدشہ ہے کہ قواعد کی خلاف ورزیوں کو بعد میں باقاعدہ بنانے کی یہ چھوٹ روایت بن جائے گی، جس سے اس قائم شدہ اصول کو دھچکا پہنچے گا کہ ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات ترقی سے پہلے ہونے چاہئیں، نہ کہ اس کے بعد۔ ماہرین ماحولیات کو حیرت ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت ماحول کے تحفظ کے لیے لڑنے والوں کو ہی کٹہرے میں کیسے کھڑا کر سکتی ہے۔ عوامی وسائل اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں اپنے آئینی کردار کو ادا کرنے کے بجائے، چیف جسٹس سوریہ کانت طنزیہ بیان دیتے ہیں کہ ’’ملک میں ایک بھی ایسا منصوبہ دکھائیں جہاں یہ مبینہ کارکن کہیں کہ وہ اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘

تاج محل پر اس بحث کو موجودہ اقتدار کی اس خواہش سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا جو تاریخ کو مٹانے اور دوبارہ لکھنے پر آمادہ ہے۔ معیشت، زراعت، فن تعمیر، سائنس اور انجینئرنگ میں مغلوں کی خدمات کے باوجود این سی ای آر ٹی کی کتابوں سے مغلوں سے متعلق ابواب ہٹا دیے گئے ہیں۔ سب سے خطرناک عمل شدت پسند عناصر کی جانب سے دیکھنے کو مل رہا ہے۔ 4 اگست کو ’اکھل بھارت ہندو مہاسبھا‘ (اے بی وی پی) کے کارکنوں نے مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے کانوڑ لے کر تاج محل میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ الہ آباد ہائی کورٹ تو ایک قدم اور آگے بڑھ گیا اور اس نے یہ مطالبہ کرنے والی عرضی قبول کر لی کہ کیا تاج محل ’شیو مندر‘ تھا؟

2019 میں سپریم کورٹ نے حکومت کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یا تو تاج کا تحفظ کرے، اسے بند کر دے یا پھر اسے منہدم کر دے۔ عدالت کا وہ غیر معمولی تبصرہ سرکاری غفلت کے تئیں اس کے غصے کو ظاہر کرتا تھا اور اس یادگار کے مضبوط ادارہ جاتی محافظ کے طور پر اس کے کردار کو اجاگر کرتا تھا۔ لیکن حالیہ حکم ایک مشکل سوال کھڑا کرتا ہے کہ کیا عدالت اب اپنی اس تاریخی وراثت سے پیچھے ہٹنے لگی ہے؟

تاج محل تقریباً 4 صدیوں کی جنگوں، حملوں اور سیاسی اتھل پتھل کی زد کو سہہ کر بھی اٹل کھڑا رہا ہے۔ لیکن کیا وہ آلودگی، ماحولیاتی غفلت اور کمزور ہوتے قانونی تحفظ کے مشترکہ اثر سے بچ پائے گا... یہ آج لیے جا رہے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔ اگر ہندوستان کی سب سے مشہور یادگار کے ارد گرد ہی قانونی حفاظتی حصار کو کمزور کیا جا سکتا ہے، تو ملک کی ان بے شمار قدرتی اور ثقافتی وراثتوں کا مستقبل اور بھی غیر یقینی ہو جاتا ہے جو اتنی توجہ میں بھی نہیں آتیں۔

(مضمون نگار رشمی سہگل سینئر صحافی ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔