فکر و خیالات

کیا بت صرف پتھر کے ہوتے ہیں؟...ایف اے مجیب

بت صرف پتھر یا مجسمہ نہیں، بلکہ ہر وہ چیز ہے جو انسان کے دل و دماغ پر خدا کی جگہ قابض ہو جائے۔ انبیائے کرام کی جدوجہد کا اصل مقصد بت شکنی سے بڑھ کر انسان کی فکر اور باطن کی اصلاح تھا

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

اگر آج کسی سے پوچھا جائے کہ ’بت کیا ہے؟‘ تو اس کے ذہن میں فوراً پتھر، دھات یا لکڑی کا ایک مجسمہ آئے گا۔ لیکن ذرا رک کر ایک اور سوال سوچیے۔ اگر بت صرف پتھر کا نام ہوتا تو کیا انبیائے کرام کی جدوجہد صرف مجسمے کے خلاف مہم جوئی تک محدود رہتی؟ کیا انسان کا سب سے بڑا مسئلہ چند پتھروں کے سامنے جھک جانا تھا، یا اس سے کہیں زیادہ گہرا کوئی مرض تھا؟

درحقیقت بت کبھی صرف پتھر نہیں ہوتے۔ پتھر تو ان کی ایک شکل ہے، اصل بت وہ ہوتا ہے جو انسان کے دل اور دماغ پر اس طرح قابض ہو جائے کہ خدا کی جگہ لے لے۔

انسان کی پوری تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شرک کا آغاز پتھر سے نہیں ہوا، بلکہ انسان کے ذہن سے ہوا۔ پہلے کسی شخصیت کو غیر معمولی تقدس ملا، پھر اس سے غیر معمولی امیدیں وابستہ ہوئیں، پھر اس کے بارے میں یہ تصور پیدا ہوا کہ وہ انسان کی تقدیر بدل سکتی ہے، اور آخرکار وہ عبادت اور اطاعت کا مرکز بن گئی۔ یعنی بت پہلے دل میں بنتا ہے، ہاتھ تو صرف بعد میں اسے تراشتے ہیں۔

اسی لیے قرآن جب حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے تو صرف بت شکنی کا ذکر نہیں کرتا، بلکہ ان کے سوالات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم سے پوچھا کہ جن چیزوں کو تم پکارتے ہو، کیا وہ سنتی ہیں؟ کیا وہ نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہیں؟ گویا اصل معرکہ پتھر سے نہیں بلکہ سوچ سے تھا۔ جب سوچ بدلتی ہے تو پتھر خود بخود بے حیثیت ہو جاتے ہیں۔

اگر ہم اپنے زمانے پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ پتھر کے بت شاید کم ہو گئے ہیں، لیکن دل کے بت پہلے سے زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں۔ دولت، اقتدار، شہرت، قوم، نسل، شخصیت، نظریہ، خواہش اور نفس—یہ سب اس وقت بت بن جاتے ہیں جب انسان ان کے سامنے حق و باطل کا معیار بدل دیتا ہے۔ جب کسی انسان کی بات خدا کی ہدایت سے زیادہ معتبر ہو جائے، جب کسی نظریے کی وفاداری انصاف سے بڑھ جائے، جب دولت حلال و حرام کا فرق مٹا دے، یا جب خواہشِ نفس صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے لگے، تو مسئلہ صرف اخلاقی نہیں رہتا، بلکہ انسان اپنی زندگی کا مرکز تبدیل کر چکا ہوتا ہے۔

اسی لیے اسلام میں توحید کا مطلب صرف یہ کہنا نہیں کہ ’خدا ایک ہے‘، بلکہ یہ ماننا بھی ہے کہ حاکمِ اعلیٰ ایک ہے، قانون دینے والا ایک ہے، آخری اختیار ایک ہے اور بے قید اطاعت کا حق بھی صرف ایک ہی کو حاصل ہے۔ اگر یہ مرکز بدل جائے تو شرک کی مختلف صورتیں جنم لے سکتی ہیں، چاہے ان میں کوئی مجسمہ موجود نہ ہو۔

تاریخ اس حقیقت کی بھی گواہ ہے کہ ہر دور کے بت الگ رہے ہیں۔ قدیم زمانے میں سورج، چاند، ستارے اور مجسمے مرکز بنے۔ بعد کے ادوار میں بادشاہوں کو خدائی صفات دی گئیں۔ آج کے انسان کے بت شاید مختلف ہوں، لیکن اصول وہی ہے: انسان جب کسی مخلوق، طاقت یا خواہش کو وہ مقام دے دیتا ہے جو صرف خالق کا حق ہے، تو وہ اسی فکری لغزش کے قریب پہنچ جاتا ہے جس کی اصلاح کے لیے انبیائے کرام مبعوث ہوئے۔

یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام کی دعوت کبھی صرف عبادت کے ظاہری طریقوں کی اصلاح تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے انسان کو اس کے باطن سے مخاطب کیا۔ حضرت نوحؑ نے تکبر کو چیلنج کیا، حضرت ابراہیمؑ نے اندھی تقلید کو، حضرت موسیٰؑ نے فرعون کی خدائی کو، حضرت عیسیٰؑ نے مذہبی جمود کو، اور حضرت محمدؐ نے ان تمام باطنی و ظاہری بتوں کو جو انسان اور اس کے رب کے درمیان حائل ہو گئے تھے۔ گویا نبوت کا اصل مقصد صرف بت شکنی نہیں بلکہ بت سازی کی نفسیات کا خاتمہ تھا۔

یہاں ایک سوال ہر انسان کو خود سے پوچھنا چاہیے: اگر آج تمام پتھر کے بت دنیا سے ختم ہو جائیں، تو کیا انسان لازماً موحد بن جائے گا؟ شاید نہیں۔ کیونکہ اصل امتحان یہ نہیں کہ انسان کس کے سامنے جھکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلوں، اپنی محبتوں، اپنے خوف، اپنی امیدوں اور اپنی وفاداریوں کا آخری مرکز کس کو بناتا ہے۔

اسی لیے توحید ایک زندہ شعور کا نام ہے۔ یہ انسان کو ہر اس تعلق، ہر اس طاقت اور ہر اس خواہش کا جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے جو اس کے دل میں خدا سے بڑھ کر جگہ بنا رہی ہو۔ توحید صرف زبان کا اقرار نہیں بلکہ زندگی کی سمت کا تعین ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام کی جدوجہد کا اصل ہدف پتھر نہیں بلکہ انسان تھا۔ انہوں نے مجسموں سے پہلے ذہنوں کو آزاد کیا، ہاتھوں سے پہلے دلوں کو پاک کیا اور عبادت سے پہلے فکر کی اصلاح کی۔ کیونکہ جب دل خدا کا ہو جائے تو پتھر خود بخود پتھر رہ جاتے ہیں، اور جب دل کسی اور کا ہو جائے تو انسان خود بھی ایک چلتا پھرتا بت خانہ بن سکتا ہے۔

اسی لیے آج بھی سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ دنیا میں کتنے بت ہیں، بلکہ یہ ہے کہ میرے دل میں خدا کے سوا کس چیز نے وہ مقام حاصل کر لیا ہے جو صرف اسی ایک ذات کا حق ہے؟ شاید اسی سوال کا سچا جواب انسان کو شرک کی ہر پرانی اور نئی شکل سے محفوظ رکھ سکتا ہے، اور یہی توحید کا حقیقی پیغام بھی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔