فکر و خیالات

سرکاری اسکولوں کو پٹری پر لانے کے نام پر کیا ہو رہا ہے؟...کاشف کاکوی

مدھیہ پردیش کی ’ساندیپنی اسکول‘ اسکیم جدید تعلیم کے وعدوں کے باوجود بدانتظامی، ادھورے اسکول، اساتذہ کی کمی اور بڑھتے ڈراپ آؤٹ کے باعث سرکاری تعلیم کے بحران کو مزید نمایاں کر رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

مدھیہ پردیش حکومت 2025 سے اپنی ’ساندیپنی اسکول‘ اسکیم کی بھرپور تشہیر کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت کچھ منتخب سرکاری اسکولوں کو جدید سہولتوں سے آراستہ کرکے معیاری تعلیم کا نمونہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے تقریباً 13 ہزار کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔

کاغذ پر یہ منصوبہ پرکشش دکھائی دیتا ہے۔ بھوپال، اندور اور گوالیار جیسے شہروں کے بعض اسکولوں میں اسمارٹ کلاس روم، کمپیوٹر اور روبوٹکس لیب، لائبریری، مفت بس سروس اور جم جیسی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ لیکن ریاست کے بیشتر سرکاری اسکول اب بھی بنیادی سہولتوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بالاگھاٹ، بیتول اور جھابوا جیسے اضلاع میں متعدد اسکول نامکمل ہیں، جس سے ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔

14 اگست کو اجین کے صرافہ علاقے میں ایک اسکول کی 300 سے زیادہ طالبات نے کلکٹر دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ ان کا اعتراض تھا کہ موجودہ اسکول بند کرکے انہیں تقریباً سات کلومیٹر دور مجوزہ ساندیپنی اسکول منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان طالبات میں کئی پہلے ہی روزانہ چھ سے سات کلومیٹر پیدل چل کر اسکول پہنچتی ہیں۔ فاصلے میں مزید اضافہ ان کے لیے تعلیم جاری رکھنا تقریباً ناممکن بنا سکتا ہے۔ 18 اگست کو دھار میں ’ماتا شبری کنیا شکشا پریسر‘ کی طالبات نے خراب کھانے اور ہاسٹل کی بدانتظامی کے خلاف احتجاج کیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ 161 نئی اسکول عمارتیں مکمل کی جا چکی ہیں اور 97 اسکولوں میں جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ لیکن 82 ہزار سرکاری اسکولوں والی ریاست میں یہ تعداد بہت معمولی ہے۔ دیہی اور قبائلی علاقوں میں کئی منصوبے اب بھی زیر تعمیر ہیں، جبکہ بھیڑ بھرے کلاس روم، بجلی کی غیر یقینی فراہمی اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔

ساندیپنی اسکولوں کے ذریعے تقریباً آٹھ لاکھ طلبہ کو سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ تعداد سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم تقریباً 70 لاکھ طلبہ کا صرف دس فیصد سے کچھ زیادہ بنتی ہے۔ اسمبلی میں اسکولوں کے مسائل اٹھانے والے کانگریس رہنما پرتاپ گریوال کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا فائدہ زیادہ تر طلبہ تک پہنچ ہی نہیں سکے گا۔

اگست میں ریاست کے 20 سے زیادہ اضلاع میں طلبہ نے احتجاج کیا۔ کٹنی، اشوک نگر، پانڈھورنا، ودیشا، بھوپال اور دیگر علاقوں میں والدین اور اساتذہ نے موجودہ اسکول بند کر کے بچوں کو دور دراز مقامات پر منتقل کرنے کی مخالفت کی۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں یہ خدشہ ہے کہ اسکول دور ہونے سے لڑکیوں کی تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہوگی۔ کئی علاقوں میں بچوں کو جنگلات یا غیر محفوظ راستوں سے 15 کلومیٹر تک کا سفر کرنا پڑ سکتا ہے۔ جبل پور کے ایک تاریخی اسکول کو ساندیپنی اسکول کے طور پر اپ گریڈ کرنے کے بعد اچانک 12 کلومیٹر دور منتقل کیے جانے کا معاملہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔

ساندیپنی اسکول دراصل ’سی ایم رائز‘ اسکیم کی نئی شکل ہے۔ 2022 میں، اسمبلی انتخابات سے ایک سال قبل، اس وقت کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے سرکاری اسکولوں کی خراب حالت کے تناظر میں ’سی ایم رائز‘ پروگرام شروع کیا تھا۔ ہر ضلع میں کم از کم ایک ایسے اسکول کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کئی موجودہ اسکولوں کو ’بہترین‘ قرار دے کر ان کا نام تبدیل کیا گیا اور اساتذہ کے تبادلے کیے گئے، جس سے طلبہ کی تعلیم بھی متاثر ہوئی۔

دسمبر 2023 میں موہن یادو کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اسکولی تعلیم حکومت کی ترجیحات میں نمایاں نہیں رہی۔ تاہم اپریل 2025 میں حکومت نے سی ایم رائز اسکولوں کا نام بدل کر ’ساندیپنی ودیالیہ‘ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ نام ہندو اساطیری روایت کے ساندیپنی آشرم سے متاثر ہو کر رکھا گیا۔ حکومت نے اس منصوبے کو وسعت دیتے ہوئے بڑے اہداف پیش کیے۔

پہلے مرحلے میں 368 ساندیپنی اسکول شامل ہیں، جن میں 274 اسکول محکمہ تعلیم اور 94 قبائلی امور کے محکمے کے تحت ہیں۔ ان پر 13525 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کا تخمینہ ہے اور 4.43 لاکھ طلبہ کو داخلہ دینے کا ہدف ہے۔ دوسرے مرحلے میں مزید 405 اسکول شامل کیے گئے ہیں، جن کے لیے 11390 کروڑ روپے سے زیادہ کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ ان میں مزید 4.05 لاکھ طلبہ کے داخلے کا منصوبہ ہے۔ حکومت نے روایتی گروکل طرز کی رہنمائی کو مصنوعی ذہانت، کوڈنگ اور روبوٹکس جیسے جدید مضامین سے جوڑنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

لیکن زمینی حقیقت ان دعوؤں سے مختلف ہے۔ بھوپال میں مجوزہ آٹھ ساندیپنی اسکولوں میں صرف تین مکمل ہو سکے ہیں۔ ہزاروں طلبہ کو عارضی طور پر ایسے قریبی سرکاری اسکولوں میں ’ایڈجسٹ‘ کیا گیا ہے جہاں خود بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بار بار اسکول تبدیل کرنا مشکل ہے، جس سے تعلیمی عدم مساوات مزید بڑھ رہی ہے۔

اساتذہ کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ریاست میں اساتذہ کی 2.89 لاکھ منظور شدہ آسامیوں میں تقریباً 40 فیصد خالی ہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ایک لاکھ سے زیادہ مہمان اساتذہ پر انحصار کیا جا رہا ہے، جو مستقل تقرری اور مساوی تنخواہ کے مطالبے پر احتجاج کر رہے ہیں۔

رتلام کے ماہر تعلیم پارس سکلچا کے مطابق محکمہ تعلیم ہزاروں مقدمات کا سامنا کر رہا ہے۔ استاد بھرتی، ٹی ای ٹی امتحان اور دیگر معاملات پر مسلسل احتجاج ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسکول یونیفارم، مڈ ڈے میل، نصابی کتابوں کی فراہمی اور اسکولوں کی مرمت کے نام پر فنڈز کے استعمال میں بے ضابطگیوں کی شکایات بھی عام ہیں۔

بیتول کے ملتائی میں 44 کروڑ روپے کی لاگت سے بنائے گئے ساندیپنی اسکول پر بھی سوال اٹھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق عمارت کی بنیادی خامیوں کے باعث دن کے وقت بھی کلاس رومز میں اندھیرا رہتا ہے اور بارش کے دوران راہداریوں میں پانی بھر جاتا ہے۔

سرکاری اسکولوں کے بحران کی ایک بڑی علامت طلبہ کے داخلوں میں مسلسل کمی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد میں تقریباً 62 لاکھ کی کمی ہوئی ہے، جن میں نصف سے زیادہ لڑکیاں ہیں۔ پرائمری اور مڈل اسکولوں کی تعداد بھی تقریباً 1.14 لاکھ سے گھٹ کر 82 ہزار رہ گئی ہے۔ مڈ ڈے میل حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد 2016 کے 60 لاکھ سے کم ہوکر 2025 میں 37 لاکھ رہ گئی۔ لڑکیوں کے لیے سائیکل تقسیم کرنے کی اسکیم میں بھی 2013 کے 3.29 لاکھ کے مقابلے میں 2025 میں صرف 1.63 لاکھ سائیکلیں تقسیم ہوئیں۔ریاست میں 8,600 سے زیادہ اسکول ایسے ہیں جو صرف ایک استاد کے سہارے چل رہے ہیں، جبکہ 28 ہزار سے زیادہ اسکولوں میں محض دو اساتذہ ہیں۔

17 اگست 2026 کو جاری مرکزی وزارتِ تعلیم کی ’یو ڈی آئی ایس ای+‘ 2025-26 رپورٹ میں تعلیم تک رسائی اور بنیادی سہولتوں کے بعض اشاریوں میں بہتری کی بات کی گئی ہے، لیکن یہ تصویر محکمہ تعلیم کے اپنے داخلوں اور اسکول چھوڑنے کے اعداد و شمار سے پوری طرح میل نہیں کھاتی۔ پارلیمانی ریکارڈ کے مطابق ریاست کے پرائمری اور مڈل اسکولوں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح 49 فیصد تک ہے۔ ’اسکول ایجوکیشن ڈیولپمنٹ انڈیکس‘ جیسی مشترکہ درجہ بندی میں بھی مدھیہ پردیش 28ویں مقام پر ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ دس برس میں اسکولی تعلیم کا بجٹ 2016 کے تقریباً 16 ہزار کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026 میں 40 ہزار کروڑ روپے ہو گیا، لیکن داخلوں میں زبردست کمی آئی اور اسکول چھوڑنے کی شرح قومی اوسط سے زیادہ رہی۔ جب اسمبلی میں اس پر سوال اٹھا تو حکومت نے جواب دیا کہ طلبہ نجی اسکولوں کا رخ کر رہے ہیں۔ جب یہ نشاندہی کی گئی کہ نجی اسکولوں میں بھی داخلوں میں کمی آئی ہے تو اس کی وجہ گرتی ہوئی آبادی کو قرار دے دیا گیا۔

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ساندیپنی اسکول کتنے بنے یا کتنے جدید ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ریاست کے تمام سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانے کی بنیادی ذمہ داری پوری کر رہی ہے؟ چند اسکولوں کو جدید سہولتوں سے آراستہ کرکے ایک کامیاب ماڈل پیش کرنا آسان ہے، لیکن کروڑوں بچوں کے لیے یکساں، قابلِ رسائی اور معیاری سرکاری تعلیم کا نظام قائم کرنا اصل امتحان ہے۔

اگر اسکول دور ہوں، اساتذہ کم ہوں، عمارتیں نامکمل ہوں اور بنیادی سہولتیں دستیاب نہ ہوں تو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور اسمارٹ کلاس روم کے وعدے ان بچوں کے کسی کام نہیں آ سکتے جو اسکول تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ سرکاری تعلیم کو ’پٹری پر لانے‘ کے لیے نئی عمارتوں اور نئے ناموں سے زیادہ ضروری ہے کہ موجودہ نظام کی بنیادی خرابیوں کا سامنا کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔