
’فریدیہ چائلڈ کیئر سنٹر اینڈ ہاسپیٹل‘ کے بانی ڈاکٹر تنویر فریدی علیگ
ڈاکٹر تنویر فریدی روزانہ 10 بجے صبح جب اپنے ہاسپیٹل پہنچتے ہیں تو کئی مائیں اپنے بیمار بچوں کو لے کر ’فریدیہ چائلڈ کیئر سنٹر اینڈ ہاسپیٹل‘ میں پلکیں بچھائے ان کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ اس وقت اُن ماؤں کی حالت دیکھ کر حقیقی معنوں میں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ڈاکٹرس اس دنیا میں فرشتے کی ہی ایک شکل ہیں۔ ڈاکٹرس ایک بہترین وسیلہ ہیں، جس کے ذریعہ اللہ مریضوں کو شفا بخشتا ہے۔ ڈاکٹر فریدی کو وہ ہزاروں مائیں فرشتہ ہی تصور کرتی ہیں، جن کے بچے بروقت اچھے علاج سے آج اس دنیا میں سانس لے رہے ہیں۔
ڈاکٹر تنویر فریدی علیگ نے بہار کے بکسر میں ’فریدیہ چائلڈ کیئر سنٹر اینڈ ہاسپیٹل‘ کی بنیاد جب 2006 میں رکھی تھی، تب یہ اس ضلع کا پہلا اسپتال تھا جہاں ’نیونیٹل انٹینسیو کیئر یونٹ‘ (این آئی سی یو) موجود ہو۔ بچوں کے کسی بھی اسپتال میں این آئی سی یو کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے، کیونکہ وقت سے قبل پیدا ہونے والے بچوں کو بیشتر جدید آلات پر مبنی مخصوص علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ ولادت کے وقت کم وزن والے اور سانس لینے میں تکلیف کا سامنا کرنے والے بچوں کو بھی این آئی سی یو کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’فریدیہ چائلڈ کیئر سنٹر اینڈ ہاسپیٹل‘ کے قیام کے بعد بکسر اور آس پاس کے لوگوں کو بہت آسانیاں فراہم ہوئیں۔ ڈاکٹر فریدی بتاتے ہیں کہ 20 سال قبل خدمت خلق کا جذبہ لے کر ایک چھوٹا سا اسپتال کھولا تھا، جو دھیرے دھیرے وسعت اختیار کرتا گیا۔ وہ اس بات سے بے حد خوش نظر آتے ہیں کہ بچوں کا علاج کر انھیں نہ صرف تسکین قلب حاصل ہو رہا ہے، بلکہ اللہ پاک نے بے پناہ عزت سے بھی نوازا ہے۔
یہ اسپتال آج انتہائی کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے، لیکن کوئی بھی کامیابی یونہی حاصل نہیں ہو جاتی۔ ڈاکٹر تنویر فریدی کو بھی اس کے لیے کافی قربانیاں دینی پڑیں۔ یہاں یہ بتانا غیر ضروری نہیں ہوگا کہ ان کی شادی 2004 میں ہوئی، اور اس کے 2 سال بعد ہی انھوں نے چائلڈ کیئر سنٹر کی بنیاد ڈال کر خود کو پوری طرح اس میں جھونک دیا۔ 5 اسٹاف کے ساتھ شروع کیے گئے اس چائلڈ کیئر سنٹر میں وہ دن رات مصروف رہتے تھے، جس کی وجہ سے اہل خانہ کو وقت نہیں دے پاتے تھے۔ ڈاکٹر فریدی مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کئی بار ان کی شریک حیات نصرت پروین نے اوقاتِ قلیل کے لیے شکایت کی، لیکن ہر مشکل وقت میں حوصلہ بھی انھوں نے ہی بڑھایا۔ وہ اپنی شریک حیات کا اس بات کے لیے انتہائی مشکور بھی نظر آئے کہ گھر کی بیشتر ذمہ داریوں کو انھوں نے سنبھالا اور بچوں کی بہترین پرورش بھی کی۔ اگر ان کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو شاید روز و شب مزید مشکلات سے بھر جاتا۔
جب ڈاکٹر فریدی سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ انھوں نے بکسر میں ہی یہ چائلڈ کیئر سنٹر کیوں کھولا، تو وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنا بچپن یہیں گزارا ہے اور بچوں کا کوئی اچھا اسپتال نہ ہونے کی خلش وہ ہمیشہ محسوس کرتے تھے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ کئی بار انھوں نے اپنے والد ڈاکٹر زبیر احمد فریدی دردؔ کے ساتھ اس بارے میں صلاح و مشورہ کیا، اور جب 2005 میں چائلڈ کیئر سنٹر کھولنے کا پختہ ارادہ کیا تو والد محترم نے ہی ایک کٹھہ میں ایک عمارت تعمیر کرائی۔ یعنی ’فریدیہ چائلڈ کیئر سنٹر اینڈ ہاسپیٹل‘ کی بنیاد ڈاکٹر زبیر احمد فریدی دردؔ کی رکھی ہوئی ہے، جو کہ خود بھی آر ایم پی ڈاکٹر تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر زبیر فریدی طبی پیشہ کے ساتھ ساتھ ادب سے بھی بے حد لگاؤ رکھتے تھے۔ ان کی غزلوں کا ایک مجموعہ ’دیارِ درد‘ کے نام سے منظر عام پر بھی آ چکا ہے۔ ڈاکٹر زبیر نے 2024 میں اس دنیائے فانی کو الوداع کہہ دیا، لیکن ڈاکٹر تنویر فریدی کا کہنا ہے کہ اسپتال میں جب وہ بیٹھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے جیسے والد محترم کا دست شفقت اب بھی موجود ہے۔
’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران ڈاکٹر تنویر فریدی طبی پیشہ کے موجودہ حالات پر انتہائی فکر مند نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ اس پیشہ کو کچھ لوگوں نے ’بزنس‘ سمجھ لیا ہے، جو افسوسناک ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’طبی پیشہ پوری طرح سے خدمت خلق ہے۔ جسے خدمت خلق کرنا ہو، اسی کو یہ پیشہ اختیار کرنا چاہیے۔ میڈیکل پروفیشن کو بزنس تصور کرنا ہی غلط ہے۔‘‘ ان کا ماننا ہے کہ جب آپ خدمت خلق کا جذبہ لے کر مریضوں کا علاج کرتے ہیں تو آپ کے اندر ایک پازیٹو انرجی پیدا ہوتی ہے۔ آپ کے ذہن میں خدمت خلق ہوگا، تبھی آپ کھل کر مریض کی خدمت کر پائیں گے، ان کا سستا علاج کر پائیں گے اور لوٹ پاٹ سے دور رہیں گے۔ اس طرح آپ کو قلبی سکون بھی حاصل ہوگا اور زبردست تشفی بھی ہوگی۔ آپ کو یہ احساس ہوگا کہ آپ اپنی زندگی کو درست سمت میں لے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر فریدی اس بات پر افسوس ظاہر کرتے ہیں کہ کم و بیش 90 فیصد ڈاکٹرس نے لوٹ مچا رکھی ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقہ کے مریضوں کو زیور اور گھر تک بیچنے کی نوبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹرس کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ رازق ہے، اور جس کی قسمت میں جو لکھ دیا گیا ہے وہ ضرور ملے گا۔ ایسے میں پیسوں کی لوٹ مار چھوڑ کر مریضوں کی خدمت کر کے دعائیں لینی چاہئیں۔
ڈاکٹر تنویر فریدی اس وقت تقریباً 25 اسٹاف کے ساتھ ’فریدیہ چائلڈ کیئر سنٹر اینڈ ہاسپیٹل‘ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ چائلڈ کیئر سنٹر کی عمارت بھی اب 3 منزلہ ہو چکی ہے اور لوگوں کی بھیڑ بھی خوب دیکھنے کو ملتی ہے۔ علاقے میں ڈاکٹر فریدی کے طریقۂ علاج، مخلصانہ سلوک اور ملنسار طبیعت کی خوب باتیں ہوتی ہیں۔ اس کے لیے وہ اپنی والدہ کا شکر ادا کرتے ہیں جنھوں نے ان کی تربیت مذہبی ماحول میں کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’والدہ کی اچھی پرورش کے سبب ہی میرے اندر خدمت خلق کا جذبہ پیدا ہوا۔ دوڑ بھاگ کی اس زندگی میں کبھی جب مایوسی مجھے اپنے حصار میں لینا چاہتی ہے تو میں انھیں یاد کرتا ہوں۔ ان کی حکایتیں اور ہدایتیں مجھے ہمیشہ سیدھا راستہ دکھاتی ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ نماز کی پابندی کے لیے کہا، اور آج بھی میں اپنے مصروف اوقات میں سے وقت نکال کر قریب کی مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ہوں۔ تھوڑے وقت کے اس بریک سے تازگی کا احساس ہوتا ہے اور علاج میں بھی یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔‘‘
50 سالہ ڈاکٹر تنویر فریدی اب اس فکر میں رہتے ہیں کہ ان کے بعد اس چائلڈ کیئر سنٹر کو کون چلائے گا! ان کے جڑواں بچے (بیٹا ریحان تنویر اور بیٹی الماس تنویر) تقریباً 20 سال کے ہو چکے ہیں، لیکن ریحان کو طب میں دلچسپی نہیں ہے۔ ڈاکٹر تنویر تو چاہتے تھے کہ بیٹا ان کی وراثت کو آگے بڑھائے، لیکن بیٹے کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے پسندیدہ سبجیکٹ پڑھنے کی اجازت دی۔ آج ریحان تنویر بی بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بیٹی الماس تنویر نے طب کی طرف قدم بڑھا دیے ہیں۔ وہ نیٹ کی تیاری کر رہی ہے، جس سے ڈاکٹر تنویر فریدی کے خوابوں کو پنکھ لگ گیا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کے لیے خوب دعائیں کرتے ہیں اور اس بات سے بے انتہا خوش ہیں کہ الماس نے اپنی مرضی سے طبی پیشہ اختیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
بہرحال، ڈاکٹر تنویر فریدی اس وقت پوری تندہی کے ساتھ خدمت خلق میں مصروف ہیں۔ انھیں بچوں کا علاج کر کے بہت سکون حاصل ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں کبھی بھی سرجن بننا پسند نہیں تھا، وہ ہمیشہ سے نوزائیدہ بچوں کی زندگی بچانا چاہتے تھے۔ آج جب وہ ماؤں کو اسپتال سے صحت مند بچہ اور چہرے پر خوشی لیے ہوئے جاتا دیکھتے ہیں، تو جس طمانیت کا احساس ہوتا ہے اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔