
علامتی تصویر / اے آئی
عالمی انسانی بحران اور خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں پر امدادی کٹوتیوں کے تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سال 2025 میں فنڈز کی شدید کمی کی وجہ سے لاکھوں خواتین ضروری امداد اور تحفظ سے محروم ہو گئی ہیں، جس سے صنفی تشدد اور غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، خواتین کی زیرِ قیادت تنظیمیں مالی مشکلات کے باوجود صفِ اول پر خدمات انجام دے رہی ہیں، لیکن اب وہ خود بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ذرائع خبردار کرتے ہیں کہ انسانی ہمدردی کا نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اگر فوری سرمایہ کاری نہ کی گئی تو سب سے کمزور طبقات مکمل طور پر تنہا رہ جائیں گے۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی سفاکی اور بے حسی کے خلاف ایک فوری پکار کی ضرورت ہے تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔
سال 2025 عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد کے لیے ایک انتہائی نازک موڑ ثابت ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ ’بیونڈ دی بریکنگ پوائنٹ‘ کے مطابق، جہاں ایک طرف عالمی سطح پر انسانی ضروریات اپنی تاریخی بلندیوں کو چھو رہی ہیں، وہاں دوسری طرف امدادی فنڈز میں ایسی غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے کہ فنڈنگ کی سطح دوبارہ 2016 کے دور میں واپس چلی گئی ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 12 کروڑ خواتین اور لڑکیاں ایسی ہیں جنہیں انسانی امداد اور تحفظ کی فوری ضرورت ہے۔ تاریخ میں پہلی بار غزہ اور سوڈان میں بیک وقت دو قحط ہوئے ہیں، جس نے بحران کو مزید ہولناک بنا دیا ہے۔ اسی صورتحال کو ’آخری لائف لائن‘ کا ٹوٹنا کہا گیا ہے، کیونکہ جب صحت کے مراکز بند اور خوراک کے راشن ختم ہو جاتے ہیں، تو متاثرہ خواتین کے پاس بقاء کا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہتا۔ ’یو این ویمن‘ میں انسانی ہمدردی کے اقدامات کی سربراہ، صوفیہ کالٹورپ نے اس صورتحال کی سنگینی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے، ’’خواتین کی تنظیموں سے نکالا گیا ہر ایک ڈالر دراصل تنازعات سے وابستہ جنسی تشدد کی شکار خواتین، بے گھر ہونے والی ماؤں، اسکولوں سے نکالی گئی لڑکیوں اور بقاء کی جنگ لڑنے والی کمیونٹیز سے چھینا گیا ہے۔‘‘
اس بحران کے عمومی اثرات کے بعد، جب ہم اس کے سب سے زیادہ متاثرہ طبقے، یعنی خواتین اور لڑکیوں پر ہونے والے براہ راست اثرات کا جائزہ لیتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ جنوری 2025 سے اب تک امدادی فنڈز میں ہونے والی ریکارڈ کمی کے نتیجے میں کم از کم 10 لاکھ خواتین اور لڑکیاں ضروری امدادی خدمات سے محروم ہو چکی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 84 فیصد تنظیموں نے خدمات کی طلب میں اضافے کی اطلاع دی ہے، جبکہ 90 فیصد تنظیمیں وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ان ضروریات کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہی ہیں۔
خدمات کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں اور ان کے اثرات کے نتیجہ میں تحفظ اور پناہ گاہوں کے شعبے میں مالی وسائل کی کمی کے باعث 62 فیصد محفوظ مقامات بند ہو رہے ہیں یا ان کے وسائل ختم ہو چکے ہیں۔ صحت اور تعلیم کے شعبے میں حاملہ خواتین کو طبی سہولیات کے حصول کے لیے طویل سفر کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ 82 فیصد لڑکیاں اسکول چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ 88 فیصد خواتین اور لڑکیوں کی ذہنی صحت میں بگاڑ دیکھا گیا ہے، جبکہ امدادی عملہ خود شدید تھکن کا شکار ہے۔ امدادی نظام میں بھی وسائل کی کمی کے باعث تنظیموں نے ’ویٹنگ لسٹیں ‘ شروع کر دی ہیں اور ضرورت مند افراد کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔ مالیاتی کمی کے یہ اثرات صرف مادی امداد تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ خواتین کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خطرات کو بھی جنم دے رہے ہیں۔
فنڈنگ میں کمی کا براہ راست اور سب سے خطرناک اثر صنفی بنیاد پر تشدد میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ جب محفوظ پناہ گاہیں بند ہوتی ہیں، تو تشدد کا شکار خواتین کے پاس ظالم سے بچنے کا کوئی محفوظ راستہ نہیں بچتا۔ رپورٹ کے مطابق، 86 فیصد تنظیموں نے تشدد کے واقعات میں اضافے کی تصدیق کی ہے۔ اس اضافے کی تین بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
• حفاظتی نیٹ ورک کی تباہی: پناہ گاہوں اور ’سیف اسپیسز‘ کی بندش سے مجرموں کو بے خوفی کا موقع ملتا ہے کیونکہ متاثرہ خواتین کے پاس اب کوئی جائے پناہ نہیں۔
• دور دراز علاقوں میں محرومی: وہ خواتین جن کے پاس پہلے ہی متبادل ذرائع کم تھے، سب سے پہلے متاثر ہوئیں۔ دور دراز علاقوں میں خدمات میں 63 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
• بڑھتی ہوئی غربت: 92 فیصد تنظیموں نے خواتین میں بڑھتی ہوئی غربت کی نشاندہی کی ہے، جو اکثر گھریلو دباؤ اور تشدد کو مہمیز دیتی ہے۔
تشدد کے ان فوری خطرات کے ساتھ ساتھ، یہ بحران آنے والی نسلوں کی ترقی اور قیادت کے مواقع کو بھی نگل رہا ہے۔
یہ بحران خواتین کے حقوق کے خلاف ایک منظم اور نظامی ردعمل کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ جب فنڈز کم ہوتے ہیں، تو صنفی مساوات کے پروگراموں کو سب سے پہلے نشانہ بنایا جاتا ہے، جو کہ حقوقِ نسواں کی تحریکوں کو کمزور کرنے کی ایک دانستہ صورت بن جاتی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر پانچ میں سے ایک تنظیم نے خواتین کی قیادت اور مساوی حقوق پر کام بند کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی شرکت تیزی سے کم ہو رہی ہے اور وہ پالیسی سازی میں "غائب" ہوتی جا رہی ہیں۔
1. تعلیمی زوال: آج کی طالبہ کا اسکول چھوڑنا کل کی کمیونٹی میں ایک تعلیم یافتہ ماں اور لیڈر کی کمی کا باعث بنے گا۔
2. معاشی انحصار:تعلیم سے محرومی لڑکیوں کو تاحیات غربت اور دوسروں پر معاشی انحصار کی زنجیروں میں جکڑ دیتی ہے۔
3. جسمانی و سماجی خطرات: اسکول سے دوری کے نتیجے میں کم عمری کی شادیوں اور صنفی تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔
ان تمام چیلنجز کے باوجود، مقامی تنظیمیں اس مشکل گھڑی میں امید کی کرن بنی ہوئی ہیں۔
مقامی تنظیمیں، خاص طور پر وہ جن کی قیادت خواتین، معذور افراد اور بے گھر افراد کر رہے ہیں، ان بحرانوں میں "فرسٹ ریسپانڈرز" ثابت ہوئی ہیں۔ غزا، سوڈان، ہیٹی، افغانستان اور یوکرین جیسے علاقوں میں جہاں بین الاقوامی امداد کی رسائی مشکل ہوتی ہے، یہ تنظیمیں اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر کام کر رہی ہیں۔لیکن اب ان تنظیموں کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں:
• بے لوث خدمت: دو تہائی مقامی عملہ بغیر کسی تنخواہ یا وسائل کے صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
• ثابت قدمی:جہاں بین الاقوامی ایجنسیاں فنڈز کی کمی پر پیچھے ہٹ جاتی ہیں، یہ مقامی تنظیمیں اپنی کمیونٹیز کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں۔
مقامی تنظیمیں دور دراز کمیونٹیز تک رسائی کے لیے بہترین ذریعہ ہیں کیونکہ وہ مقامی زبان، ثقافت اور پیچیدگیوں سے بخوبی واقف ہوتی ہیں۔ ان کی مضبوطی ہی کسی بھی بحران کے بعد پائیدار بحالی اور قیامِ امن کی ضمانت ہے۔آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے عالمی برادری کو کن اقدامات کی ضرورت ہے۔
سال 2025 کا انسانی بحران صرف اعداد و شمار کی کمی کا نام نہیں، بلکہ یہ لاکھوں انسانی جانوں اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکامی ہے۔ سال 2026 کے لیے ایک اعلانِ بیداری جاری کیا گیا ہے، جس کا مقصد 8.7 کروڑ زندگیاں بچانا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے عالمی برادری کو دو سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اخلاقی طور پر یہ ادراک کرنا ہوگا کہ امداد میں کٹوتی محض بجٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے۔ لہٰذا، فنڈنگ کو دوبارہ 2016 کی سطح سے اوپر لانے اور خواتین کی زیرِ قیادت تنظیموں کو براہ راست مالی مدد فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر دنیا نے اخلاقی ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار کی اور فوری اقدامات نہ کیے تو صوفیہ کالٹورپ کے بقول، ’’وہ تنظیمیں جنہوں نے بدترین بحرانوں میں خواتین اور لڑکیوں کو زندہ رکھا، خود اس جنگ کا شکار بن جائیں گی۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔