فکر و خیالات

غزہ کو دنیا کے سب سے خوفناک انسانی المیے کا سامنا... شیلندر چوہان

ہزاروں لوگ مسلسل خوف، نقل مکانی اور عدم تحفظ کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ جنگ صرف جسم کو زخمی نہیں کرتی بلکہ انسان کی ذہنی اور سماجی ساخت کو بھی توڑ دیتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>غزہ بحران / اے آئی</p></div>

غزہ بحران / اے آئی

 

غزہ اب صرف ایک جغرافیائی سیاسی تنازعہ کا خطہ نہیں رہا، بلکہ وہ جدید دنیا کے سب سے ہولناک انسانی المیوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جنگ، نقل مکانی، بھوک، خوف اور مسلسل بمباری کے درمیان طبی نظام کا مکمل طور پر تباہ ہو جانا لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کے لیے براہ راست خطرہ بن گیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے الزام عائد کیا ہے کہ 16,500 سے زیادہ شدید بیمار فلسطینی علاج کے لیے بیرون ملک یا دیگر علاقوں میں جانے کی اجازت نہ ملنے کے باعث زندگی اور موت کے درمیان معلق ہیں۔ یہ صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس وسیع تر بحران کا حصہ ہے جس میں جنگ اور ناکہ بندی نے انسان کی زندگی اور علاج جیسے بنیادی حق کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

Published: undefined

اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد مسلسل بمباری، زمینی حملوں اور فوجی کارروائیوں نے نہ صرف گھروں، سڑکوں اور اسکولوں کو تباہ کیا بلکہ اسپتالوں اور طبی مراکز کو بھی شدید بحران میں مبتلا کر دیا۔ اقوام متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی تنظیموں نے الزام لگایا کہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو منظم انداز میں تباہ کیا گیا۔ اسپتالوں پر حملے ہوئے، بجلی اور ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی، ادویات اور طبی آلات کی شدید قلت پیدا ہوئی اور ہزاروں زخمیوں کے درمیان ڈاکٹروں اور نرسوں کو تقریباً ناممکن حالات میں کام کرنا پڑا۔

Published: undefined

جنگ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہوتا ہے کہ وہ انسان کو محض اعداد و شمار میں تبدیل کر دیتی ہے۔ خبروں میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد نظر آتی ہے، لیکن ان کے اندر پوشیدہ زندگیاں، خاندان، رشتے اور خواب نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ غزہ میں بھی یہی ہوا۔ غزہ کا طبی بحران طویل عرصے سے جاری ناکہ بندی، محدود وسائل اور سیاسی عدم استحکام کا بھی نتیجہ ہے۔ برسوں سے غزہ بیرونی دنیا سے تقریباً کٹا ہوا ہے۔ ضروری ادویات، طبی آلات اور ماہر ڈاکٹروں تک رسائی پہلے ہی محدود تھی، جنگ نے اس بحران کو کئی گنا بڑھا دیا۔ ہزاروں افراد کو کینسر، دل کے امراض، گردوں کی بیماری یا پیچیدہ جراحی کے لیے غزہ سے باہر علاج کی ضرورت ہے۔ پہلے بھی انہیں خصوصی اجازت لے کر مصر، اردن یا دیگر ممالک جانا پڑتا تھا، لیکن اب سرحدی راستوں پر سخت پابندیوں اور بار بار بندش کے باعث یہ تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

Published: undefined

رفح سرحدی راستہ، جو مصر کے ذریعہ غزہ کے لوگوں کے لیے دنیا تک رسائی کا اہم دروازہ تھا، طویل عرصہ تک بند رہا۔ بعد میں جزوی طور پر کھلنے کے باوجود وہاں سے صرف محدود افراد کو ہی جانے کی اجازت دی گئی۔ طبی انخلا کے لیے بھی نہایت کم مواقع فراہم کیے گئے۔ نتیجتاً ہزاروں مریض اسپتالوں اور عارضی کیمپوں میں علاج کے انتظار میں رہ گئے۔ جن بچوں کو فوری آپریشن کی ضرورت تھی، جن حاملہ خواتین کو خصوصی طبی سہولت درکار تھی، اور جن زخمی افراد کو بحالی و مصنوعی اعضا کی ضرورت تھی، وہ سب آہستہ آہستہ ایسے جال میں پھنس گئے جہاں وقت ہی ان کا سب سے بڑا دشمن بن گیا۔

Published: undefined

جنگ اور ناکہ بندی کے اثرات صرف زخمی افراد تک محدود نہیں رہتے۔ جب اسپتال تباہ ہو جاتے ہیں اور طبی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے تو عام بیماریاں بھی جان لیوا بننے لگتی ہیں۔ صاف پانی کی کمی، غذائی قلت، بھیڑ بھاڑ والے امدادی کیمپ اور ناقص صفائی کا نظام متعدی بیماریوں کو جنم دیتے ہیں۔ بچوں میں غذائی قلت بڑھتی ہے، حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی شرحِ اموات میں اضافہ ہوتا ہے، اور ذہنی صحت کا بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ غزہ میں آج یہی صورتحال نظر آ رہی ہے۔ ہزاروں لوگ مسلسل خوف، نقل مکانی اور عدم تحفظ کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ جنگ صرف جسم کو زخمی نہیں کرتی بلکہ انسان کی ذہنی اور سماجی ساخت کو بھی توڑ دیتی ہے۔

Published: undefined

بین الاقوامی انسانی قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی شہریوں، اسپتالوں اور طبی عملہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ زخمی اور بیمار افراد کو علاج سے محروم کرنا کسی بھی صورت میں مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن جدید جنگوں میں ان اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ غزہ کا بحران اسی ناکامی کی ایک بڑی مثال ہے۔ اقوام متحدہ، عالمی ادارۂ صحت اور متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر انسانی امداد اور طبی رسائی کو یقینی نہ بنایا گیا تو صورتحال مزید ہولناک ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ طبی نظام صرف اسپتالوں کی عمارتوں کا نام نہیں ہے۔ اس میں ڈاکٹر، نرسیں، ایمبولینس، ادویات، بجلی، صاف پانی، تجربہ گاہیں، مواصلاتی نظام اور محفوظ نقل و حمل سب شامل ہوتے ہیں۔ غزہ میں ان تمام سطحوں پر بحران موجود ہے۔ کئی اسپتالوں کو ایندھن نہ ملنے کے باعث اپنے جنریٹر بند کرنے پڑے۔ آپریشن مناسب ادویات اور بے ہوشی کی دوا کے بغیر کیے گئے۔ ڈاکٹروں کو ایک ہی وقت میں سینکڑوں زخمیوں کا علاج کرنا پڑا۔ متعدد طبی کارکن خود ہلاک یا زخمی ہو گئے۔ ایسی صورتحال میں طبی نظام کا چلتے رہنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن اس پورے المیے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ سیاسی قیادت، فوجی حکمت عملیاں اور سفارتی بیانات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن ان کے درمیان ایک عام خاندان کی تکلیف کہیں گم ہو جاتی ہے۔ ایک باپ جو اپنے زخمی بچے کو اسپتال پہنچانے کے لیے محفوظ راستہ تلاش کر رہا ہے، ایک ماں جو ادویات کی تلاش میں گھنٹوں قطار میں کھڑی ہے، یا ایک بزرگ جو ڈائلیسس نہ ملنے کے باعث آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھ رہا ہے، یہ مناظر کسی بھی حساس معاشرے کو مضطرب کرنے کے لیے کافی ہونے چاہئیں۔

Published: undefined

اس بحران نے بین الاقوامی سیاست کی حدود اور دوہرے معیارات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ دنیا کے طاقتور ممالک انسانی حقوق اور جمہوریت کی بات تو کرتے ہیں، لیکن جب جغرافیائی سیاسی مفادات سامنے آتے ہیں تو انسانی قدروں کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ غزہ کے حوالے سے عالمی رد عمل اسی تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ کہیں جنگ بندی کی اپیل کی جاتی ہے، کہیں ہتھیاروں کی فراہمی جاری رہتی ہے، کہیں انسانی امداد کی بات ہوتی ہے تو کہیں سیاسی حمایت کے باعث سخت اقدامات سے گریز کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بحران طویل ہوتا جاتا ہے اور عام شہری اس کی سب سے بڑی قیمت ادا کرتے ہیں۔

Published: undefined

غزہ کی تباہی صرف موجودہ وقت کا بحران نہیں ہے بلکہ یہ آنے والی نسلوں پر بھی گہرا اثر ڈالے گی۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی رپورٹس کے مطابق غزہ کی ترقی کئی دہائیاں پیچھے چلی گئی ہے۔ اس کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔ لیکن سوال صرف عمارتیں تعمیر کرنے کا نہیں ہے۔ اصل چیلنج ان ٹوٹے ہوئے سماجی رشتوں، ذہنی صدمات اور عدم تحفظ کے احساس کو دور کرنے کا ہے جو جنگ اپنے پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔ ایک بچہ جس نے بچپن سے صرف بمباری، نقل مکانی اور خوف دیکھا ہو، اس کے اندر مستقبل پر اعتماد کیسے پیدا ہوگا؟ ایک پورا معاشرہ جو مسلسل تشدد اور عدم تحفظ میں زندگی گزار رہا ہو، وہ پائیدار امن کی طرف کیسے بڑھ سکے گا؟

Published: undefined

تاریخ بتاتی ہے کہ صرف فوجی طاقت کسی بھی تنازعے کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکتی۔ تشدد اور جوابی تشدد کا سلسلہ بالآخر مزید تباہی کو جنم دیتا ہے۔ غزہ کا بحران بھی یہی اشارہ دیتا ہے کہ اگر سیاسی حل، منصفانہ مکالمے اور انسانی نقطۂ نظر کو ترجیح نہ دی گئی تو یہ تنازعہ آنے والے برسوں تک خطے اور پوری دنیا دونوں کو متاثر کرتا رہے گا۔ جنگ کے دوران بھی انسانیت کو بچائے رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ جب اسپتال محفوظ نہیں رہتے، جب مریضوں کو علاج سے روکا جاتا ہے، جب بھوک اور بیماری جنگ کے ہتھیار بن جاتے ہیں، تو صرف ایک خطہ ہی نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب اخلاقی بحران کا شکار ہو جاتی ہے۔ آج ضرورت صرف امداد بھیجنے یا عارضی جنگ بندی کی نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بین الاقوامی برادری طبی امداد اور شہری زندگی کے تحفظ کو سیاسی سودے بازی سے بالاتر رکھے۔ بیمار اور زخمی افراد کو علاج کا حق ملنا چاہیے، سرحدی راستے انسانی بنیادوں پر کھولے جانے چاہییں اور طبی نظام کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔ یہ کسی ایک فریق کی حمایت یا مخالفت کا سوال نہیں بلکہ انسانیت کے حق میں کھڑے ہونے کا سوال ہے۔

Published: undefined

غزہ کا المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جدید دنیا کس سمت جا رہی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی ترقی کے اس دور میں اگر لاکھوں لوگ ادویات، خوراک اور علاج کی کمی کے باعث مرنے پر مجبور ہوں تو یہ صرف ایک خطے کی ناکامی نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب کی ناکامی ہے۔ جنگ کی راکھ میں دبے ہوئے بچے، اسپتالوں کے باہر علاج کے انتظار میں بیٹھے مریض اور ملبے کے درمیان جانیں بچانے کی کوشش کرتے ڈاکٹر ہمیں مسلسل یاد دلاتے ہیں کہ انسان ہونے کا مطلب صرف طاقت حاصل کرنا نہیں بلکہ دوسروں کے دکھ درد کے لیے حساس رہنا بھی ہے۔ غزہ آج دنیا کے سامنے ایک اخلاقی سوال بن کر کھڑا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون فاتح ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس پوری کارروائی کے دوران انسانیت باقی رہ پائے گی؟ اگر دنیا واقعی امن، انسانی حقوق اور تہذیبی اقدار پر یقین رکھتی ہے تو اسے جنگ اور سیاست سے بالاتر ہو کر ان لوگوں کی آواز سننی ہوگی جو صرف زندہ رہنے کا حق مانگ رہے ہیں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined