فکر و خیالات

وی ڈی ستیسن کی جدوجہد، ثابت قدمی اور کیرالہ کی سیاست میں عروج کی کہانی

وی ڈی ستیسن کا سیاسی سفر خاندانی وراثت کے بجائے مسلسل جدوجہد، تحقیق، عوامی مسائل، تنظیمی مزاحمت اور ثابت قدمی سے عبارت ہے، جس نے انہیں کیرالہ کی سیاست کے اہم ترین چہروں میں شامل کر دیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 
IANS

ایک وقت تھا جب کیرالہ کی سیاسی برادری ’لاٹری مافیا‘ جیسے الفاظ کو بھی بلند آواز میں ادا کرنے سے گھبراتی تھی۔ یہ نیٹ ورک اتنا وسیع، سیاسی طور پر اتنا بااثر اور مالی اعتبار سے اتنا طاقتور تھا کہ اس کا نام لینا بھی خطرے سے خالی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ دو ہزار کی دہائی کے وسط تک بین الریاستی لاٹری کا کاروبار کیرالہ کی سب سے پراسرار اور مشکوک زیرِ زمین معیشتوں میں سے ایک بن چکا تھا، جو لوگوں کی مایوسی، غربت اور جھوٹی امیدوں سے فائدہ اٹھا رہا تھا۔ ریاست بھر کے دیہات، ساحلی بستیوں اور مزدور طبقے کے محلوں میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد اپنی قیمتی کمائی کا بڑا حصہ لاٹری ٹکٹوں پر خرچ کرتے تھے۔ یہ ٹکٹ ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے فروخت کیے جاتے تھے، جس کے بارے میں ناقدین کا دعویٰ تھا کہ وہ نہ صرف ضابطوں سے باہر نکل چکا ہے بلکہ خوف اور احتساب سے بھی بے نیاز ہو گیا ہے۔

اس دوران جعلی بھوٹان لاٹری ٹکٹوں، فرضی پرنٹنگ نظام، بے نامی کاروبار، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات سامنے آنے لگے، جن کا تعلق تمل ناڈو کے لاٹری کاروباری سیٹیاگو مارٹن سے جوڑا گیا۔ ان الزامات نے یہ تاثر پیدا کیا کہ اس نیٹ ورک نے سیاسی حلقوں، میڈیا کے بعض حصوں اور یہاں تک کہ ریاستی مشینری کے بعض شعبوں تک بھی اپنی رسائی قائم کر لی ہے۔ سیاست دان نجی محفلوں میں اس گٹھ جوڑ پر گفتگو تو کرتے تھے، لیکن اس کے بے پناہ اثر و رسوخ اور مالی طاقت کے باعث کھل کر اس کے خلاف بولنے سے گریز کرتے تھے۔

Published: undefined

اسی سیاسی ہنگامہ خیز دور میں ارناکولم ضلع کے پاراوور سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے ایک نوجوان رکن اسمبلی نے کیرالہ اسمبلی کے اندر اس معاملے کو مسلسل اور سنجیدگی سے اٹھانا شروع کیا۔ فائلوں، قانونی دستاویزات، مالی تفصیلات اور بڑی محنت سے جمع کیے گئے شواہد کے ساتھ وی ڈی ستیسن نے ایک ایسے موضوع کو، جسے بیشتر لوگ خطرناک اور غیر ضروری سمجھتے تھے، کیرالہ کے سب سے بڑے سیاسی تصادموں میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے بار بار یہ الزام عائد کیا کہ لاٹری کا کاروبار ایک خطرناک استحصالی نظام میں بدل چکا ہے، جو غریب لوگوں کا استحصال کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی اداروں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے جعلی بھوٹان لاٹری کارروائیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، مختلف بین الریاستی لاٹری نظاموں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے اور کاروباری مفادات اور سیاست کے درمیان تعلقات کو نمایاں کیا۔

غیر متوقع طور پر ستیسن کو کیرالہ کے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ اور قد آور مارکسی رہنما وی ایس اچوتانندن کی صورت میں ایک غیر معمولی ساتھی مل گیا۔ کیرالہ کی سیاست میں نظریاتی اختلافات کے درمیان جذباتی یا سیاسی قربت کے مواقع بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم اچوتانندن نے اس نوجوان کانگریسی رکن اسمبلی میں شاید ایک ایسی چیز دیکھی جو غیر معمولی اور ان کے لیے مانوس تھی: سیاسی خلوص۔ تجربہ کار کمیونسٹ رہنما، جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ طاقتور مفادات اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد میں گزارا تھا، یہ سمجھ گئے تھے کہ ستیسن صرف ٹیلی ویژن کیمروں کے لیے حزب اختلاف کا شور نہیں مچا رہے، بلکہ وہ ایک ایسے مالی اور سیاسی خطرے کو ختم کرنے میں واقعی سنجیدہ ہیں جسے وہ منظم تباہی تصور کرتے تھے۔

Published: undefined

دونوں کے تعلقات سیاسی طور پر مخالفانہ ہی رہے، مگر اسمبلی میں ہونے والی ان کی بحثوں کے پس منظر میں باہمی احترام واضح طور پر موجود تھا۔ اچوتانندن خود بھی غیر قانونی بین الریاستی لاٹری سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات کر چکے تھے اور بھوٹان لاٹری اور جعلی ٹکٹوں سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی حمایت کر رہے تھے۔ ستیسن کی مداخلتوں نے اس جدوجہد کو مزید تقویت بخشی۔ اس وقت کے سیاسی مبصرین اکثر یہ کہتے تھے کہ لاٹری مخالف مہم منظم مالی استحصال کے خلاف ایک نادر دو جماعتی اخلاقی محاذ میں تبدیل ہو گئی تھی۔ کیرالہ کی شدید سیاسی تقسیم میں ایسے لمحات کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں ایک کمیونسٹ وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے ایک اپوزیشن رکن اسمبلی ایک دوسرے کی جدوجہد کو عملی طور پر مضبوط بنا رہے ہوں۔

یہی جدوجہد بعد میں ستیسن کی سیاسی زندگی کا رخ بدلنے والی ثابت ہوئی

یہ انہیں صرف ایک باصلاحیت کانگریسی رکن اسمبلی سے کیرالہ کی قابل احترام عوامی شخصیات میں شامل کرنے کا سبب بنی، ایک ایسے سیاست دان کے طور پر جن کی ساکھ صرف تقاریر پر نہیں بلکہ تیاری، مستقل مزاجی اور سنجیدہ قانون سازی پر قائم ہوئی۔ آج جب ستیسن کیرالہ کے وزرائے اعلیٰ کی تاریخی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں تو ان کے سفر کی سب سے نمایاں بات یہی ہے کہ اس میں طاقت تک پہنچنے کا کوئی طے شدہ راستہ موجود نہیں تھا۔

ستیسن کی سیاسی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے بچپن کے سماجی اور جذباتی ماحول کی طرف لوٹنا ضروری ہے۔ 1964 میں کوچی کے قریب نیٹور میں پیدا ہونے والے ستیسن ایک متوسط طبقے کے ایسے خاندان میں پلے بڑھے جس کی بنیاد نظم و ضبط، سادگی اور تعلیم کی اہمیت پر قائم تھی۔ ان کے والد سرکاری شعبے میں ملازم تھے، جبکہ خاندان کیرالہ کی روزمرہ زندگی کے ان اقدار سے گہرا تعلق رکھتا تھا جہاں سماجی ترقی کا انحصار تعلیم، مطالعے اور مسلسل محنت پر ہوتا ہے۔ مستقبل کے بہت سے سیاست دانوں کے برعکس، جنہیں طاقتور خاندانوں سے سیاسی وراثت ملتی ہے، ستیسن کے پس منظر میں ایسی کوئی سیاسی مراعات موجود نہیں تھیں۔ البتہ انہیں ایک ایسی خاندانی تربیت ضرور ملی تھی جس کی بنیاد سنجیدگی اور بلند حوصلوں پر قائم تھی۔

Published: undefined

ان کے دوست اور نوجوانی کے ساتھی انہیں ایک نہایت متجسس، غیر معمولی مشاہدہ رکھنے والے اور مطالعے سے گہری دلچسپی رکھنے والے شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ان کی دلچسپی محض انتخابی سیاست تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ خود نظریات اور افکار کی دنیا سے بھی خاص کشش رکھتے تھے۔ ادب، آئینی مباحث، معاشیات، سماجی نظریات اور سیاسی تاریخ نے انہیں بہت ابتدائی دور ہی میں اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔ یہی فکری جستجو بعد میں ان کی عوامی زندگی کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہوئی۔ یہاں تک کہ ان کے نظریاتی مخالفین بھی اس بات کا اعتراف کرنے لگے کہ ستیسن شاذ و نادر ہی کسی سیاسی بحث میں بغیر مکمل تیاری اور معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیے شامل ہوتے تھے۔

ان کا تعلیمی سفر بھی اسی سنجیدگی کی عکاسی کرتا تھا۔ انہوں نے کیرالہ کے معروف تعلیمی اداروں میں شمار ہونے والے سیکرڈ ہارٹ کالج، تھیوارا میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد راجاگیری کالج سے سماجی خدمت میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور کیرالہ ہائی کورٹ میں وکالت بھی کی۔ سماجی خدمت کی تربیت اور قانونی تعلیم کے اس امتزاج نے ان کے سیاسی انداز کو نمایاں طور پر تشکیل دیا۔ سماجی خدمت کے میدان نے انہیں عدم مساوات، محرومی اور عوامی پالیسی جیسے مسائل سے روشناس کرایا، جبکہ قانونی تعلیم نے ان کی دلیل کی باریکی اور دستاویزی نظم و ضبط کو مزید مضبوط کیا۔ ان دونوں تجربات نے مل کر ایک ایسے سیاست دان کی شخصیت کو تشکیل دیا جو جذباتی سیاست کو قانونی اور آئینی وضاحت کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

سیاست ان کی زندگی میں کسی خاندانی اثر و رسوخ یا سیاسی وراثت کے ذریعے داخل نہیں ہوئی بلکہ اس کا آغاز طلبہ تحریکوں سے ہوا۔ کیرالہ اسٹوڈنٹس یونین اور بعد میں این ایس یو آئی کے دوران ستیسن نے صرف ایک پُرجوش کارکن کے طور پر نہیں بلکہ ایسے منتظم کے طور پر شہرت حاصل کی جو بولنے سے پہلے غیر معمولی تیاری کرتا تھا۔ 1986-87 میں وہ مہاتما گاندھی یونیورسٹی یونین کے چیئرمین بنے اور آہستہ آہستہ کیرالہ میں کانگریس کی طلبہ سیاست کے نمایاں اور مؤثر نوجوان چہروں میں شامل ہوتے گئے۔

Published: undefined

ان برسوں نے ان کی شخصیت میں کئی ایسی خصوصیات پیدا کیں جو آج بھی ان کی شناخت کا حصہ ہیں۔ ان میں ایک نظم و ضبط تھا اور دوسری جمہوری سوچ۔ ستیسن کبھی ایسے جاگیردارانہ انداز کے کانگریسی سیاست دان میں تبدیل نہیں ہوئے جو فاصلے، خوشامد اور تکبر کے حصار میں گھرے رہتے ہیں۔ پارٹی کارکن اکثر ان کی دستیابی اور کھلے مزاج کا ذکر کرتے ہیں۔ نوجوان رہنما ان سے اختلاف کر سکتے تھے، صحافی ان سے سخت سوال پوچھ سکتے تھے اور عام کارکن بھی بغیر خوف کے ان تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔ تاہم اس آسان رسائی کے پیچھے سنجیدگی، تیاری اور اجتماعی نظم و ضبط کے حوالے سے سخت توقعات بھی موجود تھیں۔ وہ نہ صرف خود سے سخت محنت کا تقاضا کرتے تھے بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں سے بھی یہی امید رکھتے تھے۔

ان کی ذاتی زندگی بھی سیاسی کامیابیوں کے باوجود نسبتاً سادہ اور متوازن رہی۔ ان کے قریبی لوگ انہیں ایک خاندان سے گہرا تعلق رکھنے والے انسان کے طور پر بیان کرتے ہیں، جو اپنی اہلیہ اور بیٹی سے غیر معمولی وابستگی رکھتے ہیں اور جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے سب سے ہنگامہ خیز ادوار میں بھی جذباتی توازن برقرار رکھا۔ ان کے دوست اکثر کہتے ہیں کہ ستیسن کا خاندانی ماحول ایک ایسے پیشے میں ان کے لیے سہارا ثابت ہوا جو غیر یقینی صورتحال، دھوکے اور ذہنی تھکن کے لیے مشہور ہے۔ کیرالہ کے کئی سیاست دان شعوری طور پر عوامی نمائش اور شان و شوکت کا تاثر پیدا کرتے ہیں، مگر ستیسن کا ذاتی انداز ہمیشہ سادہ اور محتاط رہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے انتخابی سفر کا آغاز کامیابی سے نہیں بلکہ شکست سے ہوا۔ انہوں نے 1996 میں پہلی مرتبہ پاراوور سے انتخاب لڑا، مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ تاہم اس ناکامی نے نہ انہیں مایوس کیا اور نہ تلخ مزاج بنایا۔ پانچ برس بعد وہ پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ واپس آئے، نشست جیت لی اور رفتہ رفتہ اسے کانگریس کے سب سے محفوظ سیاسی حلقوں میں تبدیل کر دیا۔

Published: undefined

مسلسل چھ انتخابی فتوحات کے دوران ستیسن نے بتدریج شاید کیرالہ کے سب سے زیادہ تحقیق پر مبنی رکن اسمبلی کی شناخت قائم کی۔ اسمبلی میں ان کی تقاریر صرف اس لیے موضوعِ بحث نہیں بنتی تھیں کہ وہ جارحانہ ہوتی تھیں بلکہ اس لیے بھی کہ ان میں اعداد و شمار، آڈٹ حوالہ جات، دستاویزی شواہد اور قانونی جانچ کی گہری تہیں موجود ہوتی تھیں۔ ان میں ایک غیر معمولی صلاحیت تھی کہ پیچیدہ اور تکنیکی نوعیت کے مسائل کو عام لوگوں کی سمجھ کے مطابق آسان انداز میں پیش کر سکیں۔ مالی نظم و نسق، ماحولیاتی تباہی یا عوامی مالیات جیسے پیچیدہ موضوعات بھی ان کی مداخلت کے ذریعے عام لوگوں کے لیے قابلِ فہم بن جاتے تھے۔

ان کی سیاسی سرگرمیاں کیرالہ کے کئی پیچیدہ عوامی مسائل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ انہوں نے بارہا کاسرگوڈ میں اینڈوسلفان سے متاثرہ افراد کی تکالیف کو اسمبلی میں اٹھایا اور اسے محض ایک انتظامی مسئلے کے بجائے انسانی المیے کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے ساحلی کٹاؤ، ماہی گیروں کی بازآبادکاری، دلدلی علاقوں کی تباہی اور پہاڑوں کی کٹائی جیسے معاملات پر بھی بھرپور انداز میں آواز بلند کی۔ اس وقت جب مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں میں ماحولیاتی سیاست کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی، ستیسن پہلے ہی ماحولیات کو جمہوری حقوق اور روزگار کے مسئلے کے طور پر پیش کرنا شروع کر چکے تھے۔

سلور لائن نیم تیز رفتار ریل منصوبے کے خلاف ان کی مخالفت خاص طور پر اہم ثابت ہوئی۔ ستیسن نے بہت جلد یہ سمجھ لیا تھا کہ یہ منصوبہ محض بنیادی ڈھانچے کا معاملہ نہیں بلکہ قرض، ماحولیات، بے دخلی اور عوامی رضامندی جیسے اہم سوالات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کا وسیع دورہ کیا، بے گھر ہونے والے خاندانوں سے ملاقاتیں کیں اور منتشر خدشات کو ایک وسیع عوامی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ بعد میں سلور لائن مخالف مہم ان بڑی سیاسی جدوجہد میں شمار ہونے لگی جس نے کئی برسوں کی مایوسی اور انتشار کے بعد کانگریس کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کو نئی توانائی دی۔

Published: undefined

تاہم اس تمام سیاسی عروج کے دوران کانگریس کے اندر اقتدار بار بار ان کی پہنچ سے دور ہوتا رہا۔ جب 2011 میں اومن چانڈی کی قیادت میں کانگریس کی سربراہی والا متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) دوبارہ اقتدار میں آیا تو ستیسن کو نوجوان اور اہل قانون سازوں میں کابینہ کے مضبوط دعوے داروں میں شمار کیا جا رہا تھا۔ لیکن گروہی سیاست، ذات اور برادری کے توازن اور جماعت کے اندر موجود طاقت کے ڈھانچوں نے انہیں وزارت سے محروم رکھا۔ یہ لمحہ بعد میں ان کے طویل سیاسی سفر کی علامت بن گیا؛ عوامی سطح پر عزت اور پذیرائی تو موجود تھی، مگر تنظیمی سطح پر مزاحمت بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔

برسوں تک کیرالہ میں کانگریس کی سیاست مضبوط دھڑوں اور برادریوں کے نازک سیاسی توازن کے گرد گھومتی رہی۔ ستیسن کبھی بھی مکمل طور پر ان روایتی ڈھانچوں کا حصہ نہیں بن سکے۔ ان کی آزادانہ سوچ نے ایک طرف ان کی عوامی شبیہ کو مضبوط بنایا، لیکن دوسری طرف جماعت کے اندر ان کے امکانات کو پیچیدہ بھی کر دیا۔ کئی سینئر رہنما ان کی ذہانت اور سیاسی بصیرت کے معترف تھے، مگر ساتھ ہی ان کی صاف گوئی اور دو ٹوک انداز پر تشویش بھی رکھتے تھے۔

یہاں تک کہ 2021 میں کانگریس کی انتخابی شکست کے بعد اپوزیشن لیڈر کے طور پر ان کی تقرری بھی شدید مزاحمت کے بعد ممکن ہو سکی۔ کئی سینئر رہنما نئی نسل کو جگہ دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ لیکن جب ستیسن نے قیادت سنبھالی تو کانگریس کے اندر جذباتی فضا تیزی سے بدلنے لگی۔ انہوں نے اپوزیشن کو دفاعی کیفیت سے نکال کر ایک متحرک اور جارحانہ سیاسی قوت میں تبدیل کر دیا۔ مسلسل ناکامیوں کے باعث ذہنی طور پر مایوس ہو چکے کانگریسی کارکنوں نے اچانک ایک نئی توانائی اور اعتماد محسوس کرنا شروع کر دیا۔

Published: undefined

معروف ماہرِ تعلیم اور سیاسی مبصر پروفیسر ایم این کراسیری کے مطابق ستیسن کی وسیع جمہوری سوچ انہیں اپنے دور کے کئی دوسرے سیاست دانوں سے ممتاز بناتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’کیرالہ ایسے رہنماؤں کی قدر کرتا ہے جو دباؤ کے باوجود واضح مؤقف اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ستیسن نے کئی بااثر مذہبی اور سماجی قیادتوں کی ناراضی مول لی کیونکہ انہوں نے سیاست کو محض خوشامدی توازن کے کھیل میں تبدیل کرنے سے انکار کیا۔ یہی چیز انہیں اخلاقی اعتبار سے مضبوط بناتی ہے۔‘‘

سکمارن نائر، ویلاپلی ناٹیسن اور کانتاپورم اے پی ابوبکر مسلمیار جیسی بااثر سماجی شخصیات کے ساتھ ان کے اختلافات نے بھی نوجوان ووٹروں کے درمیان ان کی شبیہ کو مزید مستحکم کیا۔ نئی نسل ایسے رہنماؤں کی تلاش میں تھی جو روایتی شناختی سیاست کے دائرے سے آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

ستیسن کے سیاسی عروج کو پارٹی کے تنظیمی جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال اور سینئر رہنما رمیش چنیتھالا کے ساتھ ان کے پیچیدہ مگر اہم تعلقات کے بغیر بھی مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ مختلف ادوار میں دونوں ان کے سیاسی حریف رہے، لیکن بعد میں یہی دونوں ان کے عروج کا اہم حصہ بھی بنے۔

Published: undefined

چنیتھالا جماعتی تسلسل اور نچلی سطح کے تنظیمی ڈھانچے کی نمائندگی کرتے تھے، جبکہ وینوگوپال قومی سطح پر اثر و رسوخ اور دہلی تک رسائی کی علامت تھے۔ دوسری جانب ستیسن عوامی مسائل پر مبنی سیاست، عوامی اعتماد اور نئی نسل کی نمائندگی کر رہے تھے۔ کانگریس کو ان تینوں عناصر کی ضرورت تھی اور ان کی مشترکہ کوششوں نے اس مرتبہ اسمبلی انتخابات میں یو ڈی ایف کی شاندار کامیابی کی راہ ہموار کی۔

پونانی سے نومنتخب کانگریسی رکن اسمبلی اور وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ میں ستیسن کے مضبوط حامی کے پی نوشاد علی کا ماننا ہے کہ کارکن ستیسن کی جدوجہد سے جذباتی وابستگی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، "انہوں نے کبھی یہ تاثر نہیں دیا کہ اقتدار ان کا پیدائشی حق ہے۔ بار بار نظر انداز کیے جانے کے باوجود انہوں نے اسی شدت کے ساتھ کام جاری رکھا۔ یہی ثابت قدمی نوجوان کانگریسی کارکنوں کے لیے باعثِ تحریک بنی۔"

پالکڑ کے ایک امدادی کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر اور سماجی کارکن لکشمی سبھاش ستیسن میں ذہانت اور انسان دوستی کا ایک غیر معمولی امتزاج دیکھتی ہیں۔ ان کے مطابق، "طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد ان سے اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ وہ سنجیدگی سے مطالعہ کرتے ہیں، گہرائی سے مسائل کو سمجھتے ہیں اور مکمل تیاری کے ساتھ سامنے آتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان میں جذباتی قربت بھی موجود ہے۔ موجودہ سیاست میں یہ امتزاج کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔"

Published: undefined

تریشور سے تعلق رکھنے والی کانگریس رہنما سویا جوزف کا ماننا ہے کہ ستیسن نے خود کانگریس کے اندر اعتماد کی بحالی کا کام کیا۔ ان کے مطابق، ’’مسلسل شکستوں کے بعد بہت سے کارکن ذہنی طور پر ہار مان چکے تھے۔ ستیسن نے اس ماحول کو مکمل طور پر بدل دیا۔ انہوں نے جماعت کو یہ یقین دلایا کہ بقا کے لیے اتحاد، واضح سمت اور جدوجہد کا جذبہ ناگزیر ہے۔‘‘ شاید یہی ستیسن کے سیاسی سفر کا بنیادی مفہوم بھی ہے۔

وہ کیرالہ کے اعلیٰ ترین منصب تک کسی ہموار سیاسی سرپرستی کے نظام کے ذریعے نہیں پہنچے بلکہ ان کا سفر ایک طویل سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ہے، جسے نظر انداز کیے جانے، تاخیر، ثابت قدمی اور بار بار سنبھلنے کے مراحل نے تشکیل دیا۔ اچوتانندن کی طرح انہوں نے بھی یہ ثابت کیا کہ سیاسی دیانت نظریاتی اختلافات کے باوجود احترام حاصل کر سکتی ہے۔ اومن چانڈی کی طرح انہوں نے لوگوں تک آسان رسائی کو اپنی شناخت بنایا اور اچوتا مینن کی طرح سنجیدہ فکری اور انتظامی سیاست کے لیے شہرت حاصل کی۔

لیکن بنیادی طور پر ستیسن کی سیاسی طاقت قانون سازی کی سیاست ہی سے ابھری؛ تحقیق، دلائل، جمہوری تصادم اور عوام کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے۔ ایک ایسی ریاست کے لیے جو اپنے سیاسی شعور اور فکری بیداری پر فخر کرتی ہے، شاید یہی ان کے سفر کی سب سے اہم بات ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined