
علامتی تصویر / اے آئی
دہلی میں 16 تا 20 فروری منعقدہ اے آئی کانفرنس میں 20 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں مصنوعی ذہانت کے امکانات اور اس کے سماجی و معاشی اثرات پر گفتگو ہوئی مگر یہ بحث نہیں ہوئی کہ پچھلے کئی برسوں سے ہم روزانہ ایسی خبریں پڑھ رہے ہیں یا ویڈیوز دیکھ رہے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ روبوٹس کس طرح ہمارے کام اور یہاں تک کہ ہمارے فرصت کے اوقات پر بھی قابض ہوتے جا رہے ہیں۔
اپریل 2025 میں ‘ٹائمز آف انڈیا’ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بنگلورو میں روبوٹس گھریلو ملازماؤں کی جگہ لے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق منیشا نامی ایک خاتون نے بتایا کہ روبوٹ کے آنے کے بعد ان کے باہر کھانے کے دن کم ہو گئے ہیں اور ان کی ڈھائی سالہ بیٹی نکشترہ روبوٹ کے بنائے ہوئے پوہا، پاؤ بھاجی اور راجما چاول شوق سے کھاتی ہے۔ منیشا فخر سے کہتی ہیں کہ ان کا ’مائی کچن روبوٹ‘ سبزیاں کاٹنے، بھوننے، تلنے، اُبالنے اور آٹا گوندھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Published: undefined
نوجوان طلبہ اپنے ہوم ورک کے لیے اے آئی ایپس استعمال کر رہے ہیں، سرمایہ کار کاروباری فیصلوں میں اس کی مدد لے رہے ہیں۔ نومبر 2022 میں اوپن اے آئی کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی کے اجرا نے اے آئی کو گھروں تک پہنچا دیا۔ اب لوگ چھٹیاں پلان کرنے سے لے کر انگریزی نہ جانتے ہوئے بھی ای میل لکھنے تک کے لیے اس کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک دلچسپ واقعے میں مزدوروں نے چیٹ جی پی ٹی سے یہ بھی پوچھ لیا کہ کیا وہ برسوں سے زیر التوا اپنا مقدمہ لیبر کورٹ میں جیت پائیں گے؟
حکومت نے بھی روبوٹکس اور اے آئی کے میدان میں پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ 2023 میں روبوٹکس سے متعلق قومی حکمت عملی کا مسودہ پیش کیا گیا۔ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کو نوڈل ایجنسی بنایا گیا۔ قومی روبوٹکس مشن اور قومی اے آئی مشن قائم کیے گئے۔ مارچ 2024 میں کابینہ نے قومی اے آئی مشن کو پانچ برسوں کے لیے 10,371.92 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ منظوری دی۔ اس مشن کا مقصد صحت، تعلیم، زراعت، اسمارٹ شہروں اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں سماجی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
Published: undefined
لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ان نئی ٹیکنالوجیز کا ہمارے روزگار پر کیا اثر پڑے گا؟ ایک طرف حکومت اے آئی اور روبوٹس کو فروغ دے رہی ہے، دوسری جانب ہزاروں لوگ ملازمتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ ٹی سی ایس، انفوسس، ٹیک مہندرا اور وپرو جیسی بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے خاموشی سے اپنے عملے کی تنظیم نو شروع کر دی ہے اور پچاس ہزار سے زیادہ افراد ملازمت کھو چکے ہیں۔
کچھ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ پہلی تین صنعتی انقلابات- بھاپ، بجلی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، نے بھی ابتدا میں بے روزگاری پیدا کی، مگر آخرکار نئی ملازمتیں بھی وجود میں آئیں۔ ان کے مطابق چوتھا صنعتی انقلاب بھی اسی طرح نئے مواقع پیدا کرے گا۔ تاہم ایک دوسرا مؤقف یہ ہے کہ اس بار معاملہ مختلف ہے، کیونکہ روبوٹس محض معاون نہیں بلکہ متبادل بن سکتے ہیں۔ اس صورت میں ’مزدوروں سے پاک صنعت‘ اور ’روزگار سے پاک ترقیُ کا منظر نامہ حقیقت بن سکتا ہے۔
Published: undefined
1948 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ منظور کیا۔ اس کے آرٹیکل 23 کے مطابق ہر فرد کو کام کرنے، آزادانہ روزگار کے انتخاب، منصفانہ اور سازگار حالاتِ کار اور بے روزگاری سے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ 1950 میں ہندوستان کے آئین نے بھی اس اصول کو ریاست کے رہنما اصولوں میں شامل کیا۔ آرٹیکل 41 کے تحت ریاست اپنی معاشی صلاحیت کے اندر رہتے ہوئے کام، تعلیم اور بے روزگاری یا دیگر محرومیوں میں عوامی امداد کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہے۔
کئی دہائیوں تک لیبر قوانین اور ٹریڈ یونین تحریکوں نے ان حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ قوانین کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں، مگر وہ مزدوروں کے لیے ایک قانونی ہتھیار تھے۔ اب نئی لیبر کوڈ اور ’شرم شکتی پالیسی 2025‘ اجتماعی سودے بازی کے اس بنیادی حق کو کمزور کرتی دکھائی دیتی ہیں، جس کے ذریعے مزدور یونین بنا کر اپنے حالات بہتر بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ نئی پالیسی میں اے آئی سے متعلق ’جسٹ ٹرانزیش‘ یعنی منصفانہ منتقلی کے تصور کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
Published: undefined
مئی 2025 میں ماروتی سوزوکی کے عارضی مزدور یونین کی جانب سے جاری کردہ پمفلٹ کے مطابق کمپنی میں 34,918 مزدور کام کرتے ہیں، جن میں صرف 18 فیصد مستقل ہیں، 40.72 فیصد ٹھیکے پر، 21.6 فیصد عارضی اور 21 فیصد تربیتی یا اپرنٹس ہیں۔ یعنی کل افرادی قوت کا 80 فیصد سے زیادہ غیر مستقل بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔
’ہندوستان کے آٹوموٹو شعبے میں کام کا مستقبل‘ نامی ایک رپورٹ بھی اسی رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کے مطابق بڑے مینوفیکچررز اور ٹئیر ون سپلائرز میں غیر معیاری ملازمتوں کا تناسب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مثال کے طور پر مانسر پلانٹ میں 65 فیصد مزدور غیر مستقل بنیادوں پر کام کرتے تھے، جب کہ ایک دوسرے آٹو کمپوننٹ ساز ادارے میں یہ شرح 70 فیصد تک تھی۔
Published: undefined
جب ماروتی کے عارضی مزدوروں کو معلوم ہوا کہ ہریانہ کے سونی پت ضلع کے کھرکھودا میں ایک نیا بڑا پلانٹ کھولا گیا ہے، تو انہوں نے وہاں ملازمتوں کا مطالبہ کیا۔ مگر انہیں معلوم ہوا کہ اس جدید پلانٹ میں، جو پہلی الیکٹرک کار بنانے کے لیے تیار تھا، کوئی مستقل مزدور نہیں رکھا گیا۔
اس دوران نئی لیبر کوڈ نافذ ہو چکی تھی، جس نے فکسڈ ٹرم ایمپلائمنٹ کی اجازت دے دی۔ یوں مستقل ملازمتوں کی مانگ کرنے والے مزدور یا یونین کا وجود ہی کمزور پڑ گیا۔ ابتدا میں مزدوروں کو اندازہ نہیں تھا کہ روبوٹس ان کی جگہ لے رہے ہیں، مگر وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ نئی ٹیکنالوجی نے نہ صرف ان کی ملازمت بلکہ ان کے حاصل شدہ حقوق بھی چھین لیے ہیں۔
Published: undefined
جو مزدور آج بھی گِگ ورکرز اور عارضی کارکنوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اصل لڑائی ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں بلکہ اس سیاسی و معاشی نظام کے خلاف ہے جو انسانوں سے زیادہ منافع کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی بات نوبل انعام یافتہ کمپیوٹر سائنس دان جیفری ہنٹن، جنہیں اے آئی کا گاڈ فادر کہا جاتا ہے، بھی تسلیم کرتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت بے روزگاری میں اضافہ کرے گی اور منافع کو مزید بڑھائے گی، جس کی ذمہ داری وہ سرمایہ دارانہ نظام پر عائد کرتے ہیں، نہ کہ خود ٹیکنالوجی پر۔ ان کے مطابق بڑے پیمانے پر چھانٹیاں ابھی نہیں ہوئیں، مگر اے آئی پہلے ہی ابتدائی سطح کی ملازمتوں کو کم کر رہی ہے۔ انہوں نے طویل مدتی خطرات کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ 10 سے 20 فیصد امکان ہے کہ بے قابو سپر انٹیلی جنس یا اس کا غلط استعمال انسانی وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے امریکہ میں کمزور ضابطہ کاری پر تنقید کی۔
Published: undefined
یہ ساری بحث ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتی ہے: کیا ترقی کا مطلب انسانوں کو پیچھے چھوڑ دینا ہے؟ اگر ٹیکنالوجی کا فائدہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے اور اکثریت عدم تحفظ کا شکار ہو، تو ایسی ترقی کس کے لیے ہے؟
مزدوروں کی جدوجہد یہ یاد دلاتی ہے کہ مستقبل صرف مشینوں کا نہیں، انسانوں کا بھی ہونا چاہیے۔ اے آئی اور روبوٹس کے دور میں اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو انسانی وقار، روزگار کے حق اور سماجی انصاف کے تابع رکھ سکیں۔ یہی وہ سوال ہے جو فیکٹری سے فٹ پاتھ تک گونج رہا ہے۔
(نندتا ہکسر معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined