
علامتی تصویر / اے آئی
افغانستان کی تاریخ اس کی جغرافیائی تقدیر سے جڑی ہوئی ہے۔ صدیوں سے یہ خطہ اپنی تزویراتی یا اسٹریٹجک اہمیت کی بنا پر عالمی طاقتوں کے درمیان ’گریٹ گیم‘ کا مرکزی تھیٹر رہا ہے۔ ایک بفر اسٹیٹ یا حائل ریاست کے طور پر افغانستان کی حیثیت نے جہاں اسے اہمیت دی، وہیں اسے عالمی حریفوں کی آماجگاہ بھی بنا دیا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس تاریخ کو سمجھے بغیر ہم موجودہ حالات کا درست ادراک نہیں کر سکتے۔ جب بھی افغانستان کو عالمی طاقتوں نے اپنی مسابقت کے لیے ’میدانِ جنگ‘ کے طور پر استعمال کیا، اس کا براہ راست نتیجہ ایک مستحکم، آزاد اور خود مختار افغان ریاست کی تشکیل میں رکاوٹ کی صورت میں نکلا۔ بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں، جس کی وجہ سے افغان عوام کی فلاح و بہبود اور مستقل استحکام ہمیشہ ثانوی حیثیت اختیار کر گئے۔ حالیہ دنوں میں روس اور طالبان کے درمیان ہونے والی قربت اور سیکورٹی تعاون کی یادداشت اسی قدیم تزویراتی کھیل کا ایک نیا اور پیچیدہ رخ نظر آتا ہے۔
Published: undefined
گزشتہ ماہ (27 مئی) کو طالبان اور روس کے درمیان سیکورٹی تعاون پر مبنی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) منظرِ عام پر آئی۔ اگرچہ اس کے مندرجات کو صیغہ راز میں رکھا گیا ہے، لیکن اس کے سفارتی اور تزویراتی اثرات انتہائی گہرے ہیں۔ الجزیرہ میں شائع ہونے والی افغان دفاعی ماہر شاہ محمود میاخیل کی رائے اس حوالے سے انتہائی صائب ہے کہ یہ معاہدہ افغانستان کے طویل مدتی قومی مفادات کے حصول میں ناکام رہے گا۔ تزویراتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ انتظام ملک کو پائیدار امن کی طرف لے جانے کے بجائے اسے دوبارہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کی دشمنیوں کی نذر کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ روس کی اس مشغولیت کے پیچھے کوئی گہرا معاشی عزم نہیں بلکہ فوری نوعیت کے سیکورٹی تحفظات چھپے ہیں۔
اس مشغولیت کے تین بنیادی محرکات ہیں۔ اول، سیکورٹی خدشات: ماسکو کا بنیادی ہدف انتہا پسند گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنا اور خطے میں منشیات کی اسمگلنگ کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا ہے، تاکہ اس کے اپنے وسطی ایشیائی مفادات محفوظ رہیں۔ دوم، سیاسی منظر نامہ اور عوامی تاثر: روس اس معاہدے کے ذریعے عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ خطے کا ایک ناگزیر کھلاڑی ہے اور امریکہ کے انخلاء کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تیسرے، علاقائی موجودگی: روس، اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے طالبان کے ساتھ روابط کو ایک سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، تاکہ خطے میں امریکی یا مغربی اثرات کا راستہ روکا جا سکے۔
Published: undefined
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روس واقعی وہ ’اسٹریٹجک پارٹنر‘ بن سکتا ہے جس کی افغانستان کو ضرورت ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ روس اس وقت افغانستان کو وہ بڑی معاشی یا فوجی امداد فراہم کرنے کے لیے ’نہ تو آمادہ ہے اور نہ ہی قابل‘، جو ایک حقیقی تزویراتی شراکت داری کا خاصہ ہوتی ہے۔ جب تک روس افغانستان میں بڑی اقتصادی سرمایہ کاری نہیں کرتا، اس کا کوئی بھی تزویراتی عزم محض لفظی دعوؤں تک محدود رہے گا۔
کسی بھی ملک کے ساتھ اسٹریٹجک یا تزویراتی شراکت داری صرف کاغذ پر دستخط کرنے سے مستحکم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ٹھوس مادی بنیادیں درکار ہوتی ہیں۔ تاریخی تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس نے کبھی بھی کسی افغان حکومت کو ایسی مدد فراہم نہیں کی جس سے ملک کی تقدیر بدل سکے۔ شاہ محمود میاخیل کے مطابق، ایسی حکومتیں جن کے پاس وسیع داخلی جواز اور بین الاقوامی تسلیم شدگی نہ ہو، ان کے کیے گئے معاہدے قانونی اور سیاسی طور پر انتہائی کمزور ہوتے ہیں۔
Published: undefined
افغانستان کی فوجی صلاحیتوں کا زوال اس وقت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ سابقہ حکومت سے ورثے میں ملنے والا فوجی سازوسامان امریکی اور روسی نظاموں کا ایک پیچیدہ مرکب ہے۔ اس صورتحال کا ’سفاکانہ سچ‘ یہ ہے کہ امریکی سامان کے لیے اسپیئر پارٹس دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے وہ ناکارہ ہو رہا ہے، اور روسی ساختہ پرانا سامان یا تو متروک ہو چکا ہے یا مرمت کے قابل نہیں۔ اس فوجی انحصار نے افغانستان کی خود مختاری کو کھوکھلا کر دیا ہے اور سرحدوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ روس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ایک بڑا فوجی پیکج فراہم کرے گا، موجودہ حالات میں غیر حقیقی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات اور داخلی چیلنج
افغانستان ایک ایسی ریاست ہے جو اس وقت عالمی طاقتوں کی شدید مسابقت کے بیچ گھری ہوئی ہے۔ افغانستان بیک وقت ان ممالک کے ساتھ مساوی تزویراتی تعلقات نہیں رکھ سکتا جن کے مفادات ایک دوسرے سے براہ راست متصادم ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ کابل بیک وقت ہندوستان اور پاکستان، روس اور یوکرین، یا امریکہ اور چین کے ساتھ ایک ہی وقت میں گہری تزویراتی مفاہمت برقرار رکھے۔ اس طرح کی توازن برقرار رکھنے کی کوشش افغانستان کو عالمی طاقتوں کے مقابلے کا ایندھن بنا سکتی ہے۔
Published: undefined
بین الاقوامی قانونی حیثیت کے حصول کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں اقوام متحدہ کی پابندیاں سر فہرست ہیں ۔ طالبان قیادت کی اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں موجودگی ایک بڑی دیوار ہے۔ روس اور چین نے اگرچہ روابط بڑھائے ہیں، لیکن وہ بھی اب تک ان رہنماؤں کو پابندیوں سے نکالنے میں ناکام رہے ہیں۔ امریکہ اور مغرب کی پالیسی واضح ہے اور جب تک واشنگٹن کی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی، افغانستان کے لیے عالمی مالیاتی نظام تک رسائی ناممکن رہے گی۔سب سے بڑی رکاوٹ داخلی جواز کا فقدان ہے۔ بین الاقوامی تسلیم شدگی ہمیشہ گھر سے شروع ہوتی ہے۔ جب تک افغانستان میں ایک ایسی حکومت قائم نہیں ہوتی جسے تمام نسلی گروہوں اور سیاسی قوتوں کی تائید حاصل ہو، اسے عالمی برادری میں وہ مقام نہیں ملے گا جو ایک مستحکم ریاست کا حق ہے۔
نئی راہ کا تعین: میدانِ جنگ سے علاقائی پل تک
افغانستان کو اپنی بقاء کے لیے ایک بنیادی تزویراتی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اسے خود کو ’مقابلے کے تھیٹر‘ سے نکال کر ’تعاون کے پلیٹ فارم‘ میں تبدیل کرنا ہوگا۔ ایک کمزور ریاست بڑی طاقتوں کی دشمنی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ اس کا واحد حل غیر جانبداری اور ایک ایسی خارجہ پالیسی ہے جو کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ نہ بنے۔ افغانستان کو چاہیے کہ وہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک پرامن تجارتی راہداری اور ’برج کے طور پر ابھرے۔ اس وژن کو حقیقت بنانے کے لیے شفاف طرزِ حکمرانی، سیاسی شمولیت اور اقتصادی امور کو مرکزیت دیتے ہوئے ایک ایسے نمائندہ اور قانون پر مبنی نظام کی تشکیل دینی ہوگی جس میں افغان معاشرے کے تمام طبقات کی آواز شامل ہو، کیونکہ عوامی تائید ہی اصل تزویراتی طاقت ہے۔
Published: undefined
مستقبل کا وژن: عوام کی خوشحالی اور پائیدار امن
افغانستان کا مستقبل ماسکو یا واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے سیکورٹی میمورنڈمز میں نہیں، بلکہ اس کے اپنے عوام کے دلوں اور ان کی فلاح و بہبود میں پوشیدہ ہے۔ روس یا کسی دوسری طاقت کے ساتھ عارضی سیکورٹی معاہدے وقتی سہارا تو دے سکتے ہیں، لیکن وہ اس گہرے زخم کا علاج نہیں ہیں جو دہائیوں کی جنگ اور عدم استحکام نے افغان عوام کو دیے ہیں۔ پائیدار امن اور خوشحالی کا واحد راستہ ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ ہے جو قانون کی حکمرانی اور عوامی امنگوں پر مبنی ہو۔ جب تک کابل میں ایک ایسی حکومت قائم نہیں ہوتی جو اپنے عوام کے سامنے جوابدہ ہو، تب تک بیرونی طاقتیں افغانستان کو صرف اپنے مختصر مدتی جغرافیائی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہیں گی۔
آج عالمی برادری اور افغان قیادت دونوں کے لیے یہ پیغام واضح ہونا چاہیے: افغانستان کو اب ’میدانِ جنگ‘ سے ’پل‘ بننے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا پل جو خطے میں تجارت، ثقافت اور ترقی کو جوڑے۔ عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں اپنی مسابقت کو ختم کر کے افغان عوام کی سماجی اور معاشی بہتری کے لیے تعاون کریں۔ ایک مستحکم، خوشحال اور نمائندہ افغانستان نہ صرف افغان عوام کا حق ہے، بلکہ یہ پورے خطے اور عالمی امن کی ضمانت بھی ہے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر افغانستان اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکتا ہے اور عالمی سیاست میں ایک معتبر اور خود مختار ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined