
جنتر منتر / آئی اے این ایس
اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ سے تقریباً 120 کلومیٹر دور فتح پور ضلع کے کشن پور قصبے میں سروودیہ انٹر کالج کے طلبہ کا احتجاج اچانک اور خودبخود شروع ہو گیا۔ 28 جولائی کو طلبہ نے صاف پینے کے پانی، قابلِ استعمال بیت الخلا اور کلاس رومز میں میز، کرسی اور پنکھوں جیسی بنیادی سہولتوں کی کمی کے خلاف دھرنا دیا۔ چند ہی گھنٹوں میں احتجاج کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ اس نے ملک میں تعلیم کی بدحالی اور اس کے تئیں حکومت کی بے حسی پر پہلے سے بھڑکتی بحث کو مزید ہوا دے دی۔
اس احتجاج کا وقت خاصا اہم تھا۔ چند روز قبل ہی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں نے مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایسا دباؤ بنایا تھا کہ حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس تحریک کی گونج صرف ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں سنائی دی۔ اتر پردیش کے اسکولی طلبہ کے مسائل اگرچہ بالکل وہی نہیں تھے، لیکن یہاں بھی ذمہ داروں کو جواب دہ بنانے کا دباؤ جنتر منتر کی تحریک سے ملتا جلتا دکھائی دیا۔
احتجاج کے دوران بارہویں جماعت کے طالب علم انکور سونکر کی تقریر کی ویڈیو خاصی وائرل ہوئی اور اسے بڑے پیمانے پر دیکھا گیا۔ انکور ایک زرعی مزدور کا بیٹا ہے۔ مقامی سماجی کارکن کلیم اللہ کے مطابق، جنتر منتر کی تحریک کا یہاں کے نوجوانوں اور طلبہ پر واضح اثر پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی نوجوان خود جنتر منتر گئے تھے۔ انکور بھی ان میں شامل تھا۔
ملک گیر احتجاج کی لہر کا اثر فتح پور کی اسکول انتظامیہ پر بھی پڑا۔ انتظامیہ نے فوری طور پر طلبہ کے کئی مطالبات تسلیم کر لیے۔ پنکھے اور پینے کے پانی کے ڈسپنسر نصب کیے گئے، طلبہ پر عائد جرمانہ واپس لے لیا گیا اور باقی مسائل پر بھی غور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
یہ نتیجہ بظاہر چھوٹا معلوم ہوسکتا ہے، لیکن اس کی اہمیت اس لیے بڑی ہے کہ یہاں بھی ایک بے پروا انتظامیہ کو طلبہ کے مطالبات کے سامنے جھکنا پڑا۔ انٹرنیٹ اور ایپس کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑی نئی نسل کی طاقت ایک بار پھر سامنے آئی۔ اس نے واضح کر دیا کہ کسی چھوٹے شہر یا قصبے سے تعلق رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں کے نوجوان ملک اور دنیا میں جاری ہلچل سے بے خبر ہیں۔
جلد ہی بہار کے گیا ضلع کے سموارا مڈل اسکول، چھتیس گڑھ کے کوربا واقع ایکلویہ ماڈل ریزیڈنشیل اسکول، مہاراشٹر کے پال گھر، بیڑ اور دھاراشیو اور راجستھان سے بھی طلبہ کے ایسے ہی احتجاج کی خبریں آنے لگیں۔ راجستھان کے جالور ضلع کے مینگلوا واقع پی ایم شری گورنمنٹ سینئر سیکنڈری اسکول میں طلبہ نے مستقل اساتذہ کی تقرری کے مطالبے پر کئی گھنٹوں تک اسکول کا گیٹ بند رکھا اور مرکزی بازار میں سڑک پر دھرنا دیا۔ باڑمیر اور باراں میں بھی ایسے ہی احتجاج ہوئے۔
ایک ہی وقت میں مختلف مقامات پر ہونے والے ان مظاہروں کو محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مقابلے انسٹاگرام نے نوجوانوں کو زیادہ مضبوطی سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں ایک بار پھر مقامی سطح کی یکجہتی کا جذبہ ابھر رہا ہے۔ دہلی، پٹنہ یا کولکاتا میں ہونے والی کسی بھی اہم سیاسی یا سماجی ہلچل کی گونج فوری طور پر فتح پور، بیڑ، باراں اور باڑمیر جیسے دور دراز علاقوں میں سنائی دینے لگی ہے۔ بے باک نوجوان ایک دوسرے سے حمایت اور حوصلہ حاصل کرتے ہوئے حکام سے صرف سوال ہی نہیں پوچھ رہے، بلکہ جواب دہی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
ہریانہ کے مختلف حصوں سے آئے مڈ ڈے میل کارکنوں نے کروکشیتر میں وزیر اعلیٰ کے کیمپ دفتر کے باہر 4 اگست کو ’مہاپڑاؤ‘ (بڑے پیمانے پر دھرنا) کیا۔ ان کا مطالبہ مستقل ملازمت اور کم از کم 30 ہزار روپے ماہانہ اجرت تھا۔ انہوں نے 10 اگست کو ریاست کے تمام اضلاع میں ’جیل بھرو ستیہ گرہ‘ اور اس کے بعد 6 اکتوبر کو ’پارلیمنٹ مارچ‘ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ملک گیر ’جیل بھرو‘ تحریک کی اپیل ٹریڈ یونینوں اور متحدہ کسان مورچہ نے بھی کی ہے۔ سیٹو ہریانہ کے جنرل سکریٹری جے بھگوان کے مطابق، گرفتاری دینے سے قبل کارکن اور کسان ضلعی ہیڈکوارٹرز پر مشترکہ عوامی جلسے بھی کریں گے۔
ادھر اڈیشہ میں بھی طلبہ ریاست کے وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جھارکھنڈ میں نوجوان جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن جیسی بھرتی کرنے والی ایجنسیوں سے زیادہ جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی دوران دہلی یونیورسٹی کے طلبہ نے کیمپس کے مبینہ زعفرانی رنگ اختیار کرنے کے خلاف اور طلبہ کو جنتر منتر کے احتجاج میں شرکت سے روکنے کے مبینہ احکامات پر وائس چانسلر سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک ہفتے تک بھوک ہڑتال کی۔ آخرکار یونیورسٹی انتظامیہ کو ان کے سامنے جھکنا پڑا۔
جوابدہی کا مطالبہ صرف تعلیم کے شعبے تک محدود نہیں ہے۔ کسان، مختلف ’ترقیاتی‘ منصوبوں کے سبب بے گھر ہونے والے قبائلی اور دیگر برادریاں، آشا ورکرز، صنعتی مزدور اور مختلف غیر سرکاری تنظیمیں بھی پہلے سے زیادہ بلند آواز کے ساتھ اپنے مطالبات کے لیے میدان میں اتر رہی ہیں۔
مدھیہ پردیش کے چھترپور ضلع میں کین-بیتوا ندی جوڑو منصوبے کے خلاف سماجی کارکن امت بھٹناگر کی قیادت میں قبائلیوں نے ریلی نکالی۔ اجتماعی بھوک ہڑتال اور ’چتا آندولن‘ کے 18 دن بعد ریاستی حکومت نے بے گھر ہونے والے خاندانوں کا نیا سروے کرانے اور بازآبادکاری سے متعلق شکایات کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی۔
کین-بیتوا احتجاج کے رہنماؤں نے دور دراز علاقوں میں جاری دوسری تحریکوں سے بھی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے شیوکانت ترپاٹھی کے مطابق، دہلی کی طلبہ تحریک کے ذمہ داران نے ان سے حمایت طلب کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مدھیہ پردیش حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹتی ہے تو کین-بیتوا تحریک بھی قومی سطح پر حمایت حاصل کرے گی۔
فکر کے موضوعات مختلف ہیں، مطالبات الگ الگ ہیں اور قیادت بھی الگ ہے، لیکن سب کے درمیان ایک شکایت مشترک ہے: ’ایسی حکومت جسے کسی کی کوئی پروا نہیں۔‘ بہتر تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے لیے اساتذہ کا مطالبہ کرنے والے اسکولی طلبہ ہوں، امتحانات میں پرچے لیک ہونے سے روکنے کا مطالبہ کرنے والے نوجوان ہوں، بہتر اجرت اور محفوظ ملازمت کی خواہش رکھنے والے صنعتی مزدور ہوں یا قرض معافی کا مطالبہ کرنے والے کسان—ان میں سے کوئی آسمان سے تارے توڑنے کی فرمائش نہیں کر رہا۔
وہ صرف مناسب مواقع، مناسب اجرت اور منصفانہ معاوضہ چاہتے ہیں۔ لیکن سب سے پہلے ان کی خواہش یہ ہے کہ حکومت ان کی بات سنے اور ان کے مسائل پر توجہ دے۔
یہ درست ہے کہ ان تمام تحریکوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں آن لائن پلیٹ فارم کا اہم کردار ہے، لیکن یہ پلیٹ فارم صرف ان تحریکوں کو وسعت دے سکتے ہیں۔ وہ کسی تحریک کو رفتار تو دے سکتے ہیں، مگر اسے جنم نہیں دے سکتے۔ ان تحریکوں سے وابستہ لوگوں کو ان کے درمیان موجود رشتوں کو دیکھنا، سمجھنا اور انہیں ایک سمت دینا ہوگا۔
جیسا کہ سیاسیات کے ماہر علی خان محمودآباد کہتے ہیں، زیادہ تر لوگ ان تمام احتجاجی تحریکوں کو الگ الگ زاویے سے دیکھیں گے۔ لیکن اگرچہ ان لوگوں کی زندگی اور حالات ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں، پھر بھی یہ بات واضح ہے کہ وہ سب ایسی حکومت کے خلاف ردعمل ظاہر کر رہے ہیں جو حد درجہ مرکزیت کی حامل، جواب دہی سے دور اور بدعنوان اداروں کے فراہم کردہ اور حمایت یافتہ تکنیکی حل پر حد سے زیادہ انحصار کرتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ان گروہوں کے نظریات کیا ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے کس طرح بات کرتے ہیں۔
کسان رہنما سنیلم جنتر منتر کی تحریک کو مایوسی کے اس دور میں ’امید کی کرن‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، انصاف کے خواہش مند لوگوں کے لیے یہ لمحہ حوصلہ افزا ہے۔ پہلے گھروں میں اقتدار یا بڑوں سے سوال کرنے والے نوجوانوں کو نظر انداز کردیا جاتا تھا یا سزا دی جاتی تھی۔ آج وہ جانتے ہیں کہ ملک بھر سے ایسے لوگ بھی ان کی حمایت کے لیے سامنے آ سکتے ہیں جنہیں وہ ذاتی طور پر جانتے تک نہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔