
پٹرول میں ایتھنول کا استعمال، علامتی تصویر، اے آئی
حکومت ای-20 (20 فیصد ایتھنول ملا ہوا پٹرول) پالیسی کو اپنی بڑی کامیابیوں میں شمار کر رہی ہے۔ مقررہ وقت کی حد 2030 سے پہلے ہی ایتھنول بلینڈنگ کا ہدف حاصل کر لینے کو تاریخی ٹھہرایا جا رہا ہے۔ دعویٰ ہے کہ اس سے کروڑوں ٹن کاربن کا اخراج کم ہوا ہے اور خام تیل کی درآمد پر ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت ہوئی ہے۔ سننے میں یہ ایک ایسی کہانی لگتی ہے، جس میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ لیکن کسی بھی عوامی پالیسی کا جائزہ صرف سرکاری خزانے کی بچت سے نہیں لیا جا سکتا۔ اصل کسوٹی یہ ہے کہ اس کا عام شہری پر کیا اثر پڑتا ہے- خاص طور پر اس وقت، جب فیصلے میں اس کی کوئی شمولیت ہی نہ ہو۔ ای-20 کی کہانی اسی موڑ پر جمہوری جوابدہی کی بنیادی کسوٹی ’رضامندی‘ پر سوالات کے گھیرے میں آ جاتی ہے۔
ہندوستان کی سڑکوں پر دوڑنے والی 80 فیصد سے زیادہ پٹرول گاڑیاں 2023 سے پہلے بنی تھیں۔ انہیں ای-10 یا اس سے کم ایتھنول ملے پٹرول کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ان گاڑیوں کے مالکان کو کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ کچھ برسوں بعد انہیں ایسے ایندھن پر چلنے کے لیے مجبور کر دیا جائے گا، جس کے لیے ان کے انجن بنے ہی نہیں ہیں۔ ایک دن انہوں نے پایا کہ کئی پٹرول پمپوں سے ای-0 اور ای-10 تقریباً غائب ہو چکے ہیں۔ صارف نے ایک مقررہ ایندھن معیار کی گاڑی کے لیے پوری قیمت ادا کی، بھاری ٹیکس بھی دیا، لیکن اب اس کے پاس اس معیار کا ایندھن خریدنے کا اختیار نہیں ہے۔ یہ صاف توانائی کی جانب رضامندی سے اٹھایا گیا قدم نہیں، بلکہ اختیار ختم کر کے اسے ناگزیریت کا نام دینا ہے۔ نہ واضح لیبلنگ، نہ رنگوں کے ذریعہ شناخت اور نہ ہی بیشتر پٹرول پمپوں پر کوئی متبادل ایندھن۔
ایسی تکنیکی تشویش بے بنیاد نہیں ہے۔ آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے آر اے آئی) کی ایک تحقیق، جسے اب تک پوری طرح عوام کے سامنے نہیں لایا گیا ہے، کے مطابق ای-10 کے لیے بنائی گئی گاڑیوں میں ای-20 کے استعمال سے فیول سسٹم کے ربڑ کے پرزے، جیسے ہوز، گاسکیٹ، سیل اور او-رنگ، وقت سے پہلے خراب ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے خلاصے میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ کچھ پرزوں کو تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی خدشہ 2023 سے پہلے بنی گاڑیوں کے مالکان طویل عرصے سے ظاہر کرتے رہے ہیں۔
تضاد یہیں ختم نہیں ہوتا۔ اپریل 2023 کے بعد بننے والی تمام گاڑیوں کے لیے ای-20 سرٹیفکیشن لازمی کر دیا گیا۔ اس کے لیے الگ میٹیریل کمپیٹبلٹی اور انجن ٹیوننگ کے معیار مقرر کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ای-20 بغیر کسی تبدیلی کے پرانی گاڑیوں کے لیے پوری طرح محفوظ تھا، تو نئی گاڑیوں کے لیے الگ سرٹیفکیشن نظام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ نئے معیار کیوں بنائے گئے؟ گاڑی بنانے والی کمپنیوں کو اپنے انجن اور پرزوں میں تبدیلی کیوں کرنا پڑی؟ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ ای-20 تمام گاڑیوں کے لیے محفوظ ہے، دوسری طرف نئی گاڑیوں کے لیے الگ تکنیکی سرٹیفکیشن لازمی قرار دیتی ہے۔ دونوں باتیں بیک وقت درست نہیں ہو سکتیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گاڑی بنانے والی کمپنی ماروتی سوزوکی نے اپنے کچھ پرانے ماڈلوں کے لیے تقریباً 7,000 روپے تک کی لاگت والی ای20 اپ گریڈ کٹ فراہم کرنے کی بات کہی ہے۔ ہیرو موٹو کارپ اور ٹی وی ایس موٹر نے بھی صاف کہا ہے کہ 2023 سے پہلے بنی کئی گاڑیوں میں ای20 کے بہتر استعمال کے لیے فیول سسٹم میں تبدیلی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ شیل انڈیا نے تو اپنے صارفین کو یہاں تک خبردار کیا کہ ای20 سے انجن کو ہونے والے نقصان یا وارنٹی ختم ہونے کا خطرہ ان کی اپنی ذمہ داری ہوگا۔ یہ سوشل میڈیا کی افواہیں نہیں، بلکہ ملک کی سب سے بڑی آٹوموبائل اور ایندھن کی صنعت کی جانب سے دی گئی وارننگ ہیں۔ اس کے باوجود حکومت مائلیج میں کمی اور انجن کے گھسنے سے متعلق شکایات کو اکثر گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں، ای20 پر سوال اٹھانے والے کچھ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کی خبریں بھی ہیں۔ اگر حکومت کو اپنے دعووں پر اتنا ہی بھروسا ہے، تو اسے تنقید کا جواب اعداد و شمار سے دینا چاہیے، مقدمات سے نہیں۔
ای-20 تنازعے کا دوسرا پہلو صارف کو ملنے والی حقیقی قیمت ہے۔ ایتھنول میں پٹرول کے مقابلے تقریباً 30 فیصد کم توانائی ہوتی ہے۔ 44 ہزار سے زیادہ گاڑی مالکان پر کیے گئے ایک سروے سمیت کئی مطالعات میں سامنے آیا ہے کہ 2023 سے پہلے بنی متعدد گاڑیوں کا مائلیج دو ہندسوں تک کم ہو گیا۔ سیل میں زنگ لگنے، انجیکٹر چوک ہونے اور مرمت کا خرچ بڑھنے جیسی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری طرف، ایتھنول کی خرید قیمت خوردہ پٹرول کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ اگر خام مال سستا ہے اور اس سے ملنے والا نتیجہ بھی کم ہے، تو پٹرول پمپ پر اس کی قیمت میں یہ فرق نظر آنا چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ جبکہ صارف تقریباً اتنی ہی قیمت ادا کرکے کم فاصلہ طے کرتا ہے، وہیں سستے ایتھنول اور خام تیل کی کم ہوتی درآمد سے ہونے والی بچت کا فائدہ کہیں اور چلا جاتا ہے۔ اکثر مثال کے طور پر پیش کیے جانے والے برازیل میں زیادہ ایتھنول ملے ایندھن پر سبسڈی دے کر مائلیج میں ہونے والے نقصان کی تلافی کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں ایسا کوئی نظام نہیں ہے۔ یہاں نقصان صارف کا ہے اور کامیابی حکومت کی۔
کچھ ناقدین نے اس پالیسی کی اقتصادی قیمت کا اندازہ لگانے کی بھی کوشش کی ہے۔ سپریم کورٹ میں ای20 پالیسی کو چیلنج کرنے والے سکھ چیمبر آف کامرس کے اگنوستوس تھیوس کا دعویٰ ہے کہ صرف مائلیج میں کمی کی وجہ سے ہی اگلے پانچ برسوں میں تقریباً 13.9 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس میں مرمت، بار بار خرابی، وقت سے پہلے اسکریپ کیے جانے اور دوبارہ فروخت کی قیمت میں کمی سے ہونے والا اضافی نقصان شامل نہیں ہے۔ ان اعداد و شمار پر بحث ہو سکتی ہے اور انہیں آخری سچ نہیں مانا جا سکتا۔ لیکن اتنا ضرور واضح ہے کہ اس تبدیلی کی سب سے بڑی قیمت گاڑی مالکان ہی ادا کر رہے ہیں۔
ماحولیاتی پہلو بھی کم اہم نہیں ہے۔ ہندوستان میں ایتھنول کی زیادہ تر پیداوار اب بھی گنے، مکئی اور چاول جیسی فصلوں سے ہوتی ہے، جن کی کاشت میں بھاری مقدار میں پانی لگتا ہے اور جنہیں خاطر خواہ سرکاری سبسڈی بھی ملتی ہے۔ شوگر ملوں اور ڈسٹلریوں پر آلودگی پھیلانے کے الزامات لگتے رہے ہیں، جبکہ گنے کی کاشت طویل عرصے سے زیر زمین پانی کے استحصال کے لیے تنقید کا سامنا کرتی رہی ہے۔ ایسے میں اگر ایتھنول کی پیداوار کی حقیقی لاگت میں سبسڈی والا پانی، بجلی اور کھاد بھی شامل کر دی جائے، تو اس کی مبینہ اقتصادی بچت کی تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔
مرکزی سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر نتن گڈکری ایتھنول بلینڈنگ کے سب سے پرجوش حامیوں میں رہے ہیں۔ ان کے خاندان کا کاروباری تعلق چینی اور زرعی بنیاد والے صنعتوں سے رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ان کاروباروں کا انتظام ان کے بیٹوں نکھل اور سارنگ گڈکری کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ نکھل گڈکری کی کمپنی ’’سی آئی اے این ایگرو انڈسٹریز اینڈ انفرااسٹرکچر لمیٹڈ‘‘ آج ایتھنول کی پیداوار کے شعبے کی نمایاں کمپنیوں میں شامل ہے اور حالیہ برسوں میں اس کے کاروبار اور بازار کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایسی صورت حال میں، جب نتن گڈکری کی وزارت پورے ملک میں ای20 کو تیزی سے نافذ کرنے والی پالیسیوں کی سب سے بڑی حامی ہو، تو ممکنہ ’’مفادات کے ٹکراؤ (کانفلکٹ آف انٹرسٹ)‘‘ کا سوال اٹھنا فطری ہے۔ اس کا جواب صرف یہ نہیں ہو سکتا کہ کاروبار کا انتظام اب ان کے بیٹے کرتے ہیں۔ جمہوری نظام میں شفافیت صرف حقیقی مفادات کے ٹکراؤ سے نہیں، بلکہ اس کے ممکنہ تاثر سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔
یہ ایتھنول بلینڈنگ کے خلاف دلیل نہیں ہے۔ نہ ہی یہ کسانوں یا توانائی کی سلامتی کے مقاصد کی مخالفت ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا حکومت کو اپنے شہریوں کو باخبر انتخاب، شفاف قیمتوں کا تعین اور پرانی گاڑیوں پر ای20 کے اثرات سے متعلق مکمل اور ایماندار سائنسی اعداد و شمار فراہم نہیں کرنا چاہیے تھے؟ کسی بھی جمہوریت میں صاف توانائی کی جانب منتقلی اسی وقت پائیدار سمجھی جائے گی، جب اس میں اعتماد ہوگا۔ اعتماد صرف دعووں سے نہیں، شفافیت سے پیدا ہوتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔