
علامتی تصویر / اے آئی
انسان جب اس وسیع و عریض کائنات پر غور کرتا ہے تو اس کے سامنے ایک ناقابلِ تردید حقیقت آشکار ہوتی ہے: یہ نظام کسی اتفاق یا بے ترتیبی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک کامل علم، حکمت اور قدرت رکھنے والی ہستی کی تخلیق ہے۔ سورج کا بروقت طلوع و غروب، چاند کی گردش، موسموں کی باقاعدہ تبدیلی، اور زمین پر زندگی کے لیے موزوں توازن—یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کائنات ایک منظم اور مربوط اصول کے تحت چل رہی ہے۔ اور جب خالق ایک ہے، اس کا علم لا محدود ہے، اور اس کی حکمت ہر شے پر محیط ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی بنائی ہوئی دنیا کو چلانے کے اصول انسان اپنی محدود عقل سے طے کرے؟ یقیناً اس کائنات کے لیے سب سے کارگر اور مؤثر نظام وہی ہو سکتا ہے جو خود خالق نے مقرر کیا ہو۔
Published: undefined
اسی حقیقت کو سمجھنے کے لیے انسان کی رہنمائی کا سلسلہ شروع سے جاری رہا ہے۔ خدا نے ہر دور میں پیغمبر بھیجے اور ان کے ساتھ صحیفے نازل فرمائے تاکہ انسان کو یہ بتایا جا سکے کہ وہ اپنی زندگی کس طرح گزارے اور اس زمین پر اپنی ذمہ داری—خلافت—کو کیسے نبھائے۔ یہ صحیفے محض نظری تعلیمات نہیں تھے بلکہ عملی زندگی کے مکمل اصول فراہم کرتے تھے۔ پیغمبر ان اصولوں کی جیتی جاگتی مثال بن کر سامنے آئے، تاکہ انسان صرف سن نہ لے بلکہ دیکھ کر سیکھے اور عمل کرے۔
اگر ہم کائنات کے نظم کو دیکھیں تو ہمیں ہر جگہ توازن اور انصاف نظر آتا ہے۔ سورج اپنی حد سے تجاوز نہیں کرتا، سمندر اپنی حدود میں رہتے ہیں، اور زمین اپنی رفتار سے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ہٹتی۔ اگر ان میں سے کوئی ایک عنصر بھی اپنی مقررہ حد سے تجاوز کرے تو پورا نظام درہم برہم ہو جائے۔ یہی اصول انسانی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جب انسان خدا کے مقرر کردہ اصولوں کے اندر رہ کر زندگی گزارتا ہے تو معاشرہ امن، سکون اور خوشحالی کا گہوارہ بنتا ہے، اور جب وہ ان حدود کو توڑتا ہے تو فساد، ظلم اور بے چینی جنم لیتی ہے۔
Published: undefined
تاریخ اس کی واضح مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ جب بھی قوموں نے انصاف، دیانت اور خدا کے احکامات کو اپنایا، وہ ترقی کی منازل طے کرتی گئیں۔ لیکن جب انہوں نے ظلم، ناانصافی اور خود غرضی کو اختیار کیا تو وہ زوال کا شکار ہو گئیں۔ یہ محض مذہبی دعویٰ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے جسے ہر دور میں دیکھا جا سکتا ہے۔
خدا نے انسان کو ایک خاص مقام عطا کیا ہے—زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر۔ یہ مقام عزت کے ساتھ ساتھ ایک عظیم ذمہ داری بھی ہے۔ انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ فجور اور تقویٰ میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرے۔ لیکن اس اختیار کے ساتھ اسے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کامیابی صرف تقویٰ میں ہے، یعنی خدا کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے میں۔ جب انسان تقویٰ کو اختیار کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی ذات کو سنوارتا ہے بلکہ معاشرے میں بھی انصاف، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔
Published: undefined
خدائی اصولوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسان کو توازن سکھاتے ہیں۔ وہ اسے سکھاتے ہیں کہ دولت ہو تو شکر کرے، مصیبت آئے تو صبر کرے، اور ہر حال میں انصاف کا دامن نہ چھوڑے۔ یہ اصول انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایک وسیع تر انسانی ہمدردی کی طرف لے جاتے ہیں، جہاں وہ صرف اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی کا بھی خیال رکھتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو ایک مثالی معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔
اس کے برعکس، جب انسان اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر چلنے لگتا ہے اور خدائی ہدایات کو نظر انداز کر دیتا ہے تو وہ توازن کھو دیتا ہے۔ نتیجتاً معاشرے میں ناانصافی، بدعنوانی اور بے سکونی بڑھنے لگتی ہے۔ آج کی دنیا میں ہم اس کی جھلک واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں، جہاں بے شمار وسائل ہونے کے باوجود انسان ذہنی سکون سے محروم ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس نے خالق کے اصولوں کو چھوڑ کر اپنی محدود عقل کو معیار بنا لیا ہے۔
Published: undefined
یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ خدا کا نظام صرف انعام تک محدود نہیں بلکہ احتساب بھی اس کا حصہ ہے۔ اگر انسان کو مکمل آزادی دے دی جائے اور اس کے اعمال کا کوئی حساب نہ ہو تو انصاف کا تصور ہی ختم ہو جائے۔ اس لیے ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ہر انسان کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔ یہ تصورِ آخرت انسان کو ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے اور اسے ظلم و ناانصافی سے روکتا ہے۔
آخرکار، یہ بات بالکل واضح ہے کہ جس ہستی نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، وہی اس کے نظام کو بہتر طور پر سمجھتی ہے۔ اس کا دیا ہوا ضابطۂ حیات ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو حقیقی کامیابی اور سکون دے سکتا ہے۔ جب انسان خدا کے اصولوں کو اپناتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی کو سنوارتا ہے بلکہ پوری دنیا کو امن، انصاف اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
Published: undefined
یہی وہ پیغام ہے جو ہر دور کے پیغمبروں نے دیا، اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ انتخاب انسان کے ہاتھ میں ہے—یا تو وہ خدائی اصولوں کو اپنا کر ایک بامقصد اور کامیاب زندگی گزارے، یا اپنی خواہشات کے پیچھے چل کر خود کو اور اپنے معاشرے کو تباہی کی طرف لے جائے۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ اس راستے کو اختیار کرے جو اسے اس کے خالق نے دکھایا ہے، کیونکہ اسی میں اس کی حقیقی فلاح اور نجات پوشیدہ ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined