
علامتی تصویر
ہندوستان خود کو دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار کرتا ہے۔ ملک میں صنعتی پارکوں اور معدنیات کی پیداوار کو ترقی اور پیش رفت کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن اس چمکتی ہوئی معاشی داستان کے پیچھے ایک دوسرا ہندوستان بھی موجود ہے۔ یہ وہ ہندوستان ہے جو جنگلات، پہاڑوں اور دریاؤں کے درمیان آباد ہے؛ جس کی شناخت اس کی زمین، ثقافت اور فطرت سے جڑی ہوئی ہے اور جو ترقی کے نام پر مسلسل اپنے وجود سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔
اوڈیشہ اس تضاد کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ اوڈیشہ میں ملک کے مجموعی باکسائٹ ذخائر کا تقریباً 41 فیصد حصہ موجود ہے، جبکہ بعض رپورٹوں میں یہ تناسب 50 سے 59 فیصد تک بتایا گیا ہے۔ ریاست میں لوہے کی کانیں، کوئلہ، کرومائٹ (جس کی ہندوستان میں 98 فیصد پیداوار یہیں ہوتی ہے) اور دیگر معدنیات بھی وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن جن علاقوں میں یہ معدنی وسائل موجود ہیں، یعنی رائے گڑھا، کالاہانڈی، کوراپٹ، ملکانگیری اور سندرگڑھ، وہ اوڈیشہ کے سب سے غریب اور قبائلی اکثریتی اضلاع میں شمار ہوتے ہیں۔ ان علاقوں میں غربت کی شرح قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے اور انسانی ترقی کا اشاریہ (ایچ ڈی آئی) بھی انتہائی کم ہے۔ یہ جدوجہد دراصل اسی دوسرے ہندوستان کی کہانی ہے۔
Published: undefined
یہ معاملہ صرف کان کنی تک محدود نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کا ترقیاتی ماڈل آئین کے تحت حاصل حقوق، قبائلی خودمختاری اور جمہوری رضامندی پر مبنی ہوگا یا پھر ریاستی طاقت اور کارپوریٹ مفادات کے گٹھ جوڑ پر؟
قبائلی معاشرے کے لیے زمین محض ایک جائیداد نہیں ہوتی۔ ان کے نزدیک پہاڑ دیوتا، جنگلات زندگی اور دریا ثقافت کی علامت ہیں۔ اسی لیے جب کان کنی کے منصوبے ان علاقوں میں پہنچتے ہیں تو قبائلی برادریاں اسے صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ اپنے وجود پر حملہ تصور کرتی ہیں۔ نیام گیری تحریک اسی مزاحمت کی سب سے بڑی علامت بن کر سامنے آئی۔ ڈونگریا کونڈھ برادری نیام گیری پہاڑ کو اپنا مقدس دیوتا مانتی ہے۔ جب ویدانتا کمپنی کو وہاں باکسائٹ کی کان کنی کی اجازت دینے کا عمل شروع ہوا تو مقامی آبادی نے برسوں تک اس کے خلاف جدوجہد کی۔
سنہ 2013 میں سپریم کورٹ نے اوڈیشہ مائننگ کارپوریشن بنام وزارتِ جنگلات و ماحولیات مقدمے میں ایک تاریخی فیصلہ سنایا۔ عدالت نے گرام سبھاؤں کو یہ اختیار دیا کہ وہ خود طے کریں کہ مجوزہ کان کنی سے ان کے مذہبی اور اجتماعی حقوق متاثر ہوں گے یا نہیں۔ یہ صرف ایک قانونی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ پہلی مرتبہ ملک کے سب سے زیادہ حاشیے پر موجود طبقوں کی آواز کو اعلیٰ ترین عدالتی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
Published: undefined
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے کے بعد تنازعہ ختم ہو گیا؟ جواب ہے، نہیں۔ سنہ 2023 میں سجیمالی باکسائٹ بلاک نیلامی کے ذریعے ویدانتا لمیٹڈ (میتری انفراسٹرکچر کے ذریعے) کو الاٹ کیا گیا۔ مقامی قبائلی برادریاں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں اور مقامی لوگوں کے مطابق گرام سبھاؤں سے رضامندی دباؤ اور مبینہ جعلی طریقوں کے ذریعے حاصل کی گئی۔ متعدد دستاویزات پر لوگوں کے علم کے بغیر دستخط لیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ آج نیام گیری کے اطراف واقع سیجیمالی، کٹرو مالی، ماجنگ مالی اور دیگر علاقوں میں نئی کان کنی کی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔ گرام سبھاؤں کو محض رسمی کارروائی تک محدود کر دیا گیا ہے، پولیس کی موجودگی میں اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں اور رضامندی کے عمل کو متاثر کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ آئین کی بنیادی روح پر بھی ایک سنجیدہ سوال ہے۔
ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 21 ہر شہری کو زندگی اور شخصی آزادی کا حق دیتا ہے۔ سپریم کورٹ متعدد بار واضح کر چکی ہے کہ زندگی کا مطلب صرف زندہ رہنا نہیں بلکہ باوقار زندگی گزارنے کا حق بھی ہے۔ صاف پانی، صحت مند ماحول، روزگار اور ثقافتی شناخت بھی اسی حق کا حصہ ہیں۔ اسی طرح آرٹیکل 14 مساوات کی ضمانت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 19 اظہارِ رائے اور پُرامن احتجاج کے حق کو یقینی بناتا ہے۔
Published: undefined
قبائلی برادریوں کے لیے آئین میں اضافی تحفظات بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ پانچویں شیڈول میں قبائلی علاقوں کے نظم و نسق اور ان کے خصوصی تحفظ کا انتظام موجود ہے۔ پنچایت (شیڈولڈ ایریاز تک توسیع) ایکٹ 1996، یعنی پیسا قانون، واضح طور پر کہتا ہے کہ شیڈولڈ علاقوں میں گرام سبھا کو قدرتی وسائل اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق فیصلوں کا اختیار حاصل ہے۔ اسی طرح جنگلاتی حقوق کا قانون 2006 قبائلی برادریوں کے روایتی جنگلاتی حقوق کو قانونی تسلیم شدگی فراہم کرتا ہے۔
لیکن زمینی حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ اگر یہ صورتحال صرف قبائلی برادریوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی نہیں تو کم از کم فطری انصاف اور قدرتی اصولوں کے بھی منافی ضرور ہے۔ سماجی مفکر جیمز اسکاٹ نے اپنی کتاب ’سیئنگ لائک اے اسٹیٹ‘ میں لکھا ہے کہ ریاستیں اکثر مقامی علم، روایتی دانش اور اجتماعی سماجی ڈھانچوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبے نافذ کرتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ترقی لوگوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے بجائے بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اڈیشہ کی گزشتہ دو دہائیوں کی جدوجہد اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔
Published: undefined
یہاں سب سے سنگین اور تشویش ناک سوال صرف زمین کے حصول کا نہیں بلکہ اختلافِ رائے اور مزاحمت کے بارے میں ریاستی رویے میں آنے والی تبدیلی کا بھی ہے۔ جمہوریت کی روح صرف انتخابات میں نہیں بلکہ شہریوں کے اس حق میں پوشیدہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی رائے اور اختلاف کا اظہار کر سکیں۔ احتجاج کسی جمہوری نظام کے خلاف نہیں بلکہ اس کی زندگی اور فعالیت کی علامت ہوتا ہے۔ لیکن جب کسی برادری کی آواز سننے کے بجائے اسے سلامتی، قانون و نظم یا شکوک و شبہات کے زاویے سے دیکھا جانے لگے؛ جب گرام سبھا جیسی جمہوری اداروں کو حقیقی فیصلہ سازی کے مراکز کے بجائے محض سرکاری رسم و رواج تک محدود کر دیا جائے؛ اور جب عوامی تحریکوں کو جمہوری مکالمے کے بجائے کنٹرول اور دباؤ کے تناظر میں سمجھا جانے لگے، تو پھر یہ محض ایک مقامی تنازعہ نہیں رہتا بلکہ جمہوری اداروں کی کمزوری کی علامت بن جاتا ہے۔
یہ معاملہ صرف اوڈیشہ کے جنگلات، پہاڑوں اور قبائلی علاقوں تک محدود نہیں ہے بلکہ آج پورے ہندوستان میں ترقی اور قدرتی وسائل پر اختیار کے حوالے سے ابھرنے والے ایک بڑے سیاسی سوال کا حصہ بن چکا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور شمال مشرقی ریاستوں میں بھی پانی، جنگلات، زمین اور معدنی وسائل کے حوالے سے اسی نوعیت کی جدوجہد جاری ہے۔ یہ بحث اب صرف کان کنی یا زمین کے حصول تک محدود نہیں رہی بلکہ بہت سے ناقدین کے نزدیک ریاستی اور کارپوریٹ ڈھانچوں کے ذریعے قدرتی وسائل کے منظم استحصال کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
Published: undefined
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پالیسی کی سطح پر چند اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے گرام سبھاؤں کی رضامندی کے عمل کو مکمل طور پر آزاد، شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے۔ دوسرے، جنگلاتی حقوق کے قانون اور پیسا قانون کی دفعات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ تیسرے، بے دخلی اور بازآبادکاری کے عمل کو محض قانونی کارروائی نہیں بلکہ انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔ چوتھے، قبائلی برادریوں کو ترقی کے عمل میں شراکت دار بنایا جائے، صرف متاثرہ فریق نہیں۔ پانچویں، کان کنی کے منصوبوں کے سماجی اور ماحولیاتی اثرات کا آزادانہ اور غیر جانب دار جائزہ لیا جائے۔
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ قبائلی برادریوں سے پانی، جنگلات اور زمین چھینی جا رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان وسائل کے تحفظ کی اخلاقی، سماجی اور سیاسی ذمہ داری سب سے زیادہ انہی برادریوں پر کیوں ڈال دی گئی ہے؟ المیہ یہ ہے کہ جن جنگلات، دریاؤں اور پہاڑوں کے تحفظ کے لیے قبائلی معاشرہ دہائیوں سے جدوجہد کر رہا ہے، ان کے محفوظ رہنے کا سب سے زیادہ فائدہ شہری آبادی، صنعتوں اور وسیع تر معاشرے کو حاصل ہوتا ہے۔ صاف ہوا، آبی وسائل، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن کسی ایک طبقے کی ملکیت نہیں بلکہ پورے ملک کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined