فکر و خیالات

کانگریس کو کھڑگے جیسا قائد ہی چاہیے تھا سو مل گیا... ظفر آغا

حالات مشکل ضرور ہیں لیکن ایسا نہیں کہ ان پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے۔ پارٹی اور پارٹی کے باہر دونوں جگہوں پر کھڑگے کو اعتماد بنانا ہوگا۔ مثبت امر یہ ہے کہ کھڑگے اس کے لیے تیار ہیں

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی 

وہ علامہ اقبال کا پروردگار سے شکوہ ’برق گرتی ہے تو مسلمانوں پر‘ اب ایک محاورہ ہو چکا ہے۔ موجودہ سیاسی حالات میں یہی بات کچھ کانگریس پارٹی پر صادر آتی ہے۔ جی ہاں، اگر یوں کہیے کہ ’برق گرتی ہے تو کانگریس پر‘ تو کوئی غلط نہ ہوگا۔ ہندوستان کی آزادی کی معمار اور آزادی کے بعد پچاس برسوں سے زیادہ مدت تک ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والی کانگریس پارٹی سے ہر وقت کوئی نہ کوئی شکوہ رہتا ہے۔ کانگریس پر ایک خاندان کا قبضہ ہے، کانگریس میں اندرونی جمہوریت کچل دی گئی ہے، اب پارٹی لیڈرشپ کو کچھ سوجھتا نہیں ہے۔ ایسے نہ جانے کتنے شکوے شکایات میڈیا کو کانگریس پارتی سے رہتی ہیں۔ لیکن کسی کو اب یہ نہیں سوجھتا ہے کہ ابھی کانگریس پارٹی نے انتہائی جمہوری طرز پر ’سیکرٹ بیلٹ‘ کے ذریعہ نیا صدر چن لیا۔ سب واقف ہیں کہ ملکارجن کھڑگے اور ششی تھرور کے درمیان پارٹی کی صدارت کے لیے کھلا مقابلہ ہوا۔ آخر کھڑگے نے تھرور کو شکست دی اور وہ پارٹی صدر منتخب ہو گئے۔

Published: 23 Oct 2022, 1:12 PM IST

یہ بات قابل ستائش اس لیے ہے کہ ایک کانگریس پارتی کے سوا غالباً کسی اور پارٹی میں صدارت کے لیے اس قسم کا جمہوری طرز عمل رائج نہیں ہے۔ کیا بی جے پی میں نڈا کو پارٹی صدر اس طرح چنا گیا تھا؟ اس سے قبل کیا امت شاہ یا راجناتھ سنگھ کو پارٹی ممبران نے چنا تھا؟ جی نہیں، ان سب کو پارٹی اعلیٰ کمان نے سنگھ کی مرضی سے صدر نامزد کر دیا۔ یہی حال دیگر صوبائی پارٹیوں کا ہے۔ اکھلیش یادو اپنے والد مرحوم ملائم سنگھ کی ایما پر بغیر کسی چناؤ سماجوادی پارٹی کے صدر بن گئے۔ ممتا کا یہی حال ہے۔ تلنگانہ میں کے سی آر ایسے ہی اپنی پارٹی کے صدر ہیں۔ لیکن شکایت ہر کسی کو کانگریس پارٹی سے ہے۔ تو جناب کانگریس نے ابھی پچھلے ہفتے ملکارجن کھڑگے کو باقاعدہ چن کر جمہوری طرز پر صدر چن کر یہ دکھا دیا کہ یہ جرأت بھی محض کانگریس پارٹی کو ہے، اور یاد دلا دوں 22 برس قبل سونیا گاندھی بھی اسی طرح چن کر پارٹی صدر بنی تھیں۔ ان کا مقابلہ اس وقت مرحوم جتیندر پرساد سے تھا جو ہار گئے تھے اور سونیا گاندھی صدر کانگریس منتخب ہو گئی تھیں۔ لیکن اب بھی میڈیا کھڑگے کے چناؤ میں مین میخ نکال رہا ہے۔

Published: 23 Oct 2022, 1:12 PM IST

خیر، ملکارجن کھڑگے اب کانگریس کے صدر ہیں اور پارٹی کی کمان اب ان کے ہاتھوں میں ہے۔ ایک انتہائی غریب اور دلت خاندان سے تعلق رکھنے والے 80 برس کی عمر پر کھڑگے نیچے سے چل کر اب کانگریس کے اس اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ لیکن ان کو کانگریس کی کمان تب ملی ہے جب ہندوستان کی یہ پارٹی اپنے دور کے سب سے برے حالات سے گزر رہی ہے۔ پارٹی مرکزی اقتدار سے لگ بھگ دس سالوں سے باہر ہے۔ ادھر ریاستوں میں بھی کانگریس کے حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ پھر پارٹی گٹ بندی کا بھی شکار ہے۔ پرانے بزرگوں کو نوجوانوں سے شکایت ہے تو نوجوان گروہ پارٹی کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتا ہے۔ ادھر کانگریس کا مقابلہ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی سے ہے۔ سیاسی حالات یہ ہیں کہ پچھلے چند برسوں میں ملک میں مسلم منافرت کی بنا پر ہندوتوا نظریہ کی آندھی چل رہی ہے۔ یعنی کانگریس کی سیکولر سیاست بھی کھٹائی میں ہے۔ نوجوان ہی کیا، جس کو دیکھو یعنی عورت مرد سب ہی مودی بھکت ہیں۔

Published: 23 Oct 2022, 1:12 PM IST

ایسے سنگین حالات میں ملکارجن کھڑگے کانگریس کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے لیے یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سنگین چیلنج ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ وہ اس چیلنج کو حل نہیں کر سکتے ہیں۔ وہ ایک انتہائی تجربہ کار لیڈر ہیں۔ کرناٹک میں کئی بار ریاست کے وزیر رہے، پھر مرکز میں بھی وزارت کے عہدے پر فائز رہے۔ ابھی وہ راجیہ سبھا میں کانگریس کے لیڈر ہیں۔ ان کو سیاست کا گہرا علم و تجربہ ہے اور وہ ان حالات میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ ان کو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ ان کو پارٹی کو جلا بخشنے کو کیا کرنا ہوگا۔ لیکن دو باتیں ایسی ہیں کہ جو سب پر عیاں ہیں اور ان کو حل کرنا پارٹی صدر کے لیے ضروری ہے۔ اولاً تو کھڑگے کو خود کانگریس پارٹی کو متحد کرنا ہوگا۔ یہ بی جیسے گروپ جو پارٹی میں پیدا ہو گئے ہیں، ان کے ساتھ مل بیٹھ کر بات کر پارٹی میں اتحاد پیدا کرنا لازمی ہے۔ کسی بھی فوج میں جنگ سے پہلے کمانڈر کو اپنی فوج کو متحد کرنا ہوتا ہے۔ سنہ 2024 لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کا بی جے پی سے جنگی مقابلہ ہونا ہے۔ اس کے لیے کانگریس اگر متحد نہیں ہوئی تو پارٹی کے ہاتھوں سے چناؤ نکل سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ان کو ایسا طرز عمل تیار کرنا ہوگا کہ بوڑھے، جوان سب ان کو اپنا لیڈر محسوس کریں اور ان کی قیادت میں متحد ہو کر اگلا لوک سبھا چناؤ لڑیں۔

Published: 23 Oct 2022, 1:12 PM IST

کھڑگے کا دوسرا چیلنج یہ ہے کہ وہ ملک میں بی جے پی مخالف سیکولر ووٹ بینک کو متحد کریں۔ ظاہر ہے یہ تبھی ممکن ہے جب کہ ملک میں بی جے پی مخالف سیکولر پارٹیوں میں آپسی اتحاد ہو۔ یہ بھی ایک مرحلہ ہے جس کو کھڑگے کو حل کرنا ہے۔ یہ کام بھی مشکل ہے کیونکہ مرکز میں کانگریس پارٹی کے کمزور پڑ جانے سے صوبائی لیڈران کے عزائم بلند ہیں۔ لیکن پھر بھی یہ کام ہو سکتا ہے۔ آخر سونیا گاندھی نے کچھ ایسے ہی حالات میں کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن کو متحد کر سنہ 2004 میں بی جے پی کو شکست دی تھی۔ اگر سونیا یہ کام کر سکتی ہیں، تو کھڑگے وہی کام کیوں نہیں کر سکتے۔ اس لیے کھڑگے کو اس کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں جلد از جلد صوبائی لیڈران سے گفت و شنید کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔

Published: 23 Oct 2022, 1:12 PM IST

تیسری اہم بات جس کا خیال کھڑگے کو کرنا ہوگا وہ یہ ہے کہ کوئی کچھ کہے، لیکن ابھی بھی گاندھی خاندان کانگریس کا پبلک فیس ہے۔ کانگریس چناؤ بغیر گاندھی خاندان کے تعاون کے نہیں جیت سکتی ہے۔ اس بات کا احساس بذات خود کھڑگے کو ہے۔ انھوں نے چناؤ سے قبل اور بعد میں بھی یہ کہا ہے کہ وہ سونیا اور راہل گاندھی کے رائے مشورہ سے ہی کام کریں گے۔ یہی کانگریس کے حق میں بھی ہے۔

حالات مشکل ضرور ہیں لیکن ایسا نہیں کہ ان پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے۔ پارٹی اور پارٹی کے باہر دونوں جگہوں پر کھڑگے کو اعتماد بنانا ہوگا۔ مثبت امر یہ ہے کہ کھڑگے اس کے لیے تیار ہیں۔ اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں کانگریس کو کھڑگے جیسا لیڈر چاہیے تھا، سو اس کو مل گیا۔ یہ کانگریس اور کھڑگے دونوں کی خوش قسمتی ہے۔

Published: 23 Oct 2022, 1:12 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 23 Oct 2022, 1:12 PM IST