
گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia
گزشتہ دنوں ٹرینڈ کرتا ہیش ٹیگ #JantarMantarSatyagraha صرف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ تک محدود نہیں تھا۔ یہ ہمارے لیے ایسا لمحہ تھا جیسے ہندوستانی ایک نئی جنگ آزادی کا نقارہ بجا رہے ہوں۔ جیسے ہی آزاد صحافیوں، سماجی کارکنوں، طلبا اور اپوزیشن لیڈروں سمیت 700 سے زیادہ مظاہرین کو دہلی کے الگ الگ تھانوں میں حراست میں لیا گیا، جیسے ہی ممبئی کے شیواجی پارک میں سخت پولیس سیکورٹی کے درمیان ہزاروں لوگ ’گیانو اٹھا لے جھولا‘ گاتے ہوئے جمع ہوئے، یہ صاف ہو گیا کہ گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی شروعات سڑکوں پر تو ہو ہی چکی ہے۔ ہم یہ نہ بھولیں کہ یہ مہم صرف گیانیش کمار کو رخصت کرنے کی کوشش تک محدود نہیں، یہ اس نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے کی شروعات ہے جس نے ’آزاد‘ ہندوستانیوں کو اپنے ہی ملک میں غلام بنا دیا ہے۔ اس جدوجہد میں شامل ہمارے ’دماغی نکسل‘ بھائیوں کے لیے کچھ سوالات ہیں، جن پر آپ کو غور کرنا چاہیے۔
سال 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں استعمال کی گئی ووٹر فہرستیں ملک بھر میں غیر متنازعہ اور عدالتی طور پر قابل قبول آخری فہرست بنی ہوئی ہیں۔ اس کے بعد سے، خاص طور پر جون 2025 میں ایس آئی آر شروع ہونے کے بعد سے، ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کیا گیا ہے۔ متنازعہ اعداد و شمار اور بغیر کسی وضاحت کے نام جوڑنے اور کاٹنے کے سنگین الزامات تیزی سے سامنے آئے ہیں۔ مہاراشٹر، کرناٹک اور ہریانہ کے اسمبلی حلقوں کی رپورٹیں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں: ہزاروں کی تعداد میں دوہرے ووٹر، فرضی یا نامعتبر پتے، ووٹروں کی ناقابل اعتبار عمریں اور مشتبہ طور پر جوڑے گئے نئے نام... جہاں 5 سال میں ہونے والے عام ووٹروں کے اضافے کو چھ ماہ میں ہی سمیٹ دیا گیا۔ گزشتہ سال اگست، ستمبر اور نومبر میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کرناٹک، مہاراشٹر اور ہریانہ میں کھلی ہیرا پھیری کے ذریعے ووٹر فہرستوں میں کی گئی بے ضابطگیوں، نام جوڑنے اور کاٹنے کے کھیل کو بے نقاب کیا تھا۔
ووٹر فہرستیں عام طور پر بتدریج تیار ہوتی ہیں، جو پیدائش، اموات، نقل مکانی اور ضروری اصلاحات کو ظاہر کرتی ہیں۔ مناسب عوامی اطلاع یا سماعت کے بغیر نام جوڑے اور کاٹے جانے میں یہ اچانک اضافہ شفافیت اور غیر جانب داری کے بنیادی اصولوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایس آئی آر نے قائم روایات کے برخلاف اہلیت ثابت کرنے کی پوری ذمہ داری شہریوں پر ڈال دی، جبکہ اصول یہ رہے ہیں کہ نام کاٹے جانے پر افسر اس کی وجہ بتائے۔
2024 کی ووٹر فہرستوں کی بحالی کا مطالبہ اس لیے نہیں ہے کہ وہ مکمل طور پر درست تھیں، بلکہ اس لیے ہے کہ وہ آخری متفقہ پیمانہ ہیں۔ وہ سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور ووٹروں کو تبدیلیوں کی قانونی حیثیت کی جانچ کرنے اور بعد کی ترامیم کو پرکھنے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس بنیادی فہرست کو مسترد کرکے متنازعہ ایس آئی آر کے بعد کی فہرستوں کو اپنانا انتخابی اعتبار اور عوامی اعتماد دونوں کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنر (تقرری، سروس کی شرائط اور مدتِ کار) ایکٹ، 2023، جسے حکومت نے دسمبر میں نوٹیفائی کیا تھا، مارچ 2023 کے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی بنیادی روح کے بالکل برخلاف تھا جس میں جسٹس کے۔ ایم۔ جوزف کی سربراہی والی آئینی بنچ نے حکم دیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی آزادی کو انتظامیہ کی مداخلت سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ عبوری انتظام کے طور پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمشنروں کی تقرری کے لیے وزیراعظم، چیف جسٹس آف انڈیا اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر پر مشتمل ایک کالجیم بنانے کی سفارش کی تھی۔ تاہم، بغیر کسی معقول وجہ کے، اسی سال بعد میں 2023 کا یہ ایکٹ منظور کر دیا گیا، جس نے وزیراعظم اور ان کی پسند کے ایک مرکزی وزیر کو کالجیم کا حصہ بنا دیا۔ اس سے تقرری کے عمل پر انتظامیہ کا کنٹرول پوری طرح مضبوط ہو گیا—وہی کنٹرول جسے سپریم کورٹ کمزور کرنا چاہتا تھا۔
ایسا انتظام الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری کو سنگین طور پر متاثر کرتا ہے۔ آزادی میں یہ نقب اس تصور کو مزید ہوا دیتی ہے کہ الیکشن کمیشن حکمراں جماعت کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ الیکشن کمشنروں کو مجرمانہ مقدمات سے تاحیات استثنیٰ دینے کی یہ شق تو عوامی جذبات کو مزید بھڑکانے والی ہے۔ یہ ایسا غیر متوقع خصوصی استحقاق ہے جو جواب دہی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ آخر حکومت ایسا کیا مان کر چل رہی تھی کہ وہ کس طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوں گے؟ الیکشن کمیشن کی آزادی یقینی بنانے اور انتظامیہ کی من مانی مداخلت پر روک لگانے کے لیے ایک نئے قانون کی سخت ضرورت ہے، جس میں غیر حکمراں اپوزیشن جماعتوں کی لازمی شرکت ہو۔
’ایرونیٹ‘ کو بنیادی طور پر ایک ایسے فیصلہ جاتی معاون نظام کے طور پر تیار کیا گیا تھا جو اسمبلی حلقے کی سطح پر ووٹر فہرستوں کی نظرثانی میں انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر او) کی مدد کرتا۔ یہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے میں مدد تو کرتا تھا، لیکن عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت حاصل قانونی اختیارات کے مطابق آخری فیصلہ ای آر او کی صوابدید پر ہی چھوڑتا تھا۔ اس کے برعکس، ’ای سی آئی نیٹ‘ ایک مرکزی فیصلہ سازی کا نظام ہے اور یہ الیکشن کمیشن کے آئی ٹی ڈویژن کو آخری اتھارٹی بنا دیتا ہے۔ یہ قدم حکمراں جماعت کے آئی ٹی سیل کے ذریعے انتخابی اعداد و شمار کی ہم آہنگی اور کنٹرول کے الزامات کے لیے براہ راست دروازے کھولتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مہاراشٹر کے چیف الیکشن آفیسر اور دونوں الیکشن کمشنروں (ایس ایس سندھو اور وویک جوشی) نے آزادانہ طور پر یہ بات اٹھائی تھی کہ ای آر او کو ای سی آئی نیٹ تک رسائی نہیں دی جا رہی تھی اور انسانی صوابدید کے بغیر صرف مشینی الگورتھم ہی ’منطقی بے ضابطگیوں‘ کی شناخت کر رہے تھے۔ اس کے باوجود، الیکشن کمیشن نے جنوری 2026 میں ایرونیٹ سے ای سی آئی نیٹ پر زبردستی منتقلی کر دی، جبکہ ایس آئی آر کا عمل ابھی جاری ہی تھا اور لاکھوں ریکارڈ کی جانچ ہو رہی تھی۔
ای سی آئی نیٹ کو ایک تکنیکی اپ گریڈ کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جو الیکشن کمیشن کی 40 سے زیادہ ایپلی کیشنز اور خدمات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر ساتھ لاتا تھا۔ عمل کے درمیان ٹیکنالوجی کی یہ غیر متوقع تبدیلی نہ صرف بوتھ لیول افسران (بی ایل او) اور ای آر او جیسے زمینی سطح کے افسران کے لیے رکاوٹ بنی، بلکہ اس نے جواب دہی بھی انسانوں سے چھین کر ایسے مرکزی الگورتھم کے حوالے کر دی۔ یہ تبدیلی اس بات کی مثال ہے کہ انتخابی ٹیکنالوجی کا استعمال شفافیت ختم کرنے کے ایک آلے کے طور پر کیسے کیا جا سکتا ہے۔ غلطیوں کے لیے ای آر او اور بی ایل او کی تو جواب دہی طے کی جا سکتی ہے، لیکن ووٹر کسی تکنیکی پلیٹ فارم کو کٹہرے میں کیسے کھڑا کریں گے؟
’دی انڈین ایکسپریس‘ کی 22 ستمبر کی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ سندھو اور جوشی نے ای سی آئی نیٹ، ای آر او کو رسائی سے محروم کیے جانے اور مغربی بنگال میں ووٹروں کے نام ہٹانے کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی غیر مجاز اپیلوں پر تحریری طور پر گہری تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے آئی ٹی ڈویژن کی نگرانی کر رہے ڈپٹی الیکشن کمشنر سنجے کمار (جو ڈیپوٹیشن پر الیکشن کمیشن میں تعینات تھے) کو ای سی آئی نیٹ کا آزادانہ آڈٹ اور متوازی محکمانہ آڈٹ کرانے کی ہدایت دی تھی۔ کمار نے ڈائریکٹر جنرل (آئی ٹی) ڈاکٹر سیما کھنہ کو خط لکھ کر دونوں الیکشن کمشنروں کی تشویش سے آگاہ کیا اور آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔ تاہم، جب کمار کچھ دنوں کی چھٹی پر تھے، انہیں ان کے اصل کیڈر میں واپس بھیج دیا گیا اور ان کا چارج سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر سندیپ گرگ کو سونپ دیا گیا، جنہوں نے فوراً ہی آڈٹ کی ضرورت کو مسترد کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی واقعے کے بعد دونوں کمشنروں نے کابینہ سکریٹری کو باضابطہ شکایت بھیجی تھی۔
ڈیمیج کنٹرول کی مشق میں الیکشن کمیشن نے بعد میں دعویٰ کیا کہ گرگ کی جانب سے جاری احکامات کبھی نافذ نہیں کیے گئے تھے، کمار اپنے عہدے پر واپس آ چکے ہیں اور آئی آئی ٹی دہلی کے ایک پروفیسر کی مہارت والی ایک کمیٹی ای سی آئی نیٹ کے کام کاج کا جائزہ لے گی۔
قانونی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو سپریم کورٹ نے ووٹر فہرستوں کی دیکھ بھال اور نظرثانی کے الیکشن کمیشن کے آئینی اختیار کی توثیق کی، جس میں غیر شہریوں اور نااہل ووٹروں کو ہٹانے کا اختیار بھی شامل ہے۔ لیکن درخواست گزاروں نے جہاں ایس آئی آر کے ناقص نفاذ پر سنگین تشویش ظاہر کی تھی (جس میں شہریوں پر ہی اہلیت ثابت کرنے کا بوجھ ڈالنا اور بڑے پیمانے پر طریقہ کار کی بے ضابطگیاں شامل تھیں) وہیں عدالت کی توجہ بنیادی طور پر کمیشن کے اختیارات کی قانونی حیثیت پر ہی مرکوز رہی، نہ کہ اس پوری مشق کے نفاذ یا غیر جانب داری پر۔
ناقدین کا استدلال ہے کہ کسی عمل کی قانونی حیثیت اور اس کے نفاذ کی قانونی حیثیت دو الگ الگ باتیں ہیں، جن پر عدالت کو غور کرنا چاہیے تھا۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ ایس آئی آر کو ملک بھر میں نافذ کیا گیا، جبکہ انتخابی قوانین صرف مخصوص آبادیاتی حالات میں اور پیشگی تحریری وضاحت کے ساتھ ہی ایسے ’خصوصی‘ نظرثانی کی اجازت دیتے ہیں۔ عدالت کے اس رویے کے پیچھے فیصلے کا وقت ایک وجہ ہو سکتا ہے، کیونکہ تمام بے ضابطگیاں حالیہ دنوں میں ہی کھل کر سامنے آئی ہیں۔ بہرحال، ایس آئی آر کو چیلنج کرنے والی کئی درخواستیں اب بھی زیر التوا ہیں، جس سے مزید عدالتی نظرثانی کی امید ابھی باقی ہے۔
حکومت، الیکشن کمیشن اور عدلیہ پر عوام کا اعتماد آج انتہائی نچلی سطح پر ہے۔ ایس آئی آر کے عمل میں سنگین خامیاں ہیں اور اس کا نفاذ انتہائی مشتبہ رہا ہے۔ اس کے باوجود، بہت کم لوگوں کو امید ہے کہ یہ ادارے اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں گے اور اصلاح کے لیے تیار ہوں گے۔ ایسے میں سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے سامنے اس سنگین صورت حال سے براہ راست دو دو ہاتھ کرنے کا مشکل چیلنج ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر سے غیر منصفانہ طور پر متاثر ووٹروں کے پاس اب بھی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کا راستہ کھلا ہے۔ جیسا کہ ایک معروف سماجی کارکن نے کہا—اگر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف پارلیمنٹ میں مواخذہ نہیں چلایا گیا تو عوام سڑکوں پر ان کا فیصلہ کریں گے۔
ایک تجویز یہ بھی ہے کہ الیکشن کمشنروں کو اگرچہ قانونی استثنیٰ حاصل ہے، لیکن سیما کھنہ جیسے انتظامی افسران کو یہ تحفظ حاصل نہیں ہے۔ ان کی مدتِ کار کے دوران ہوئے معاہدوں، سافٹ ویئر کی تنصیب (ای سی آئی نیٹ کا ڈھانچہ) اور وینڈروں کے انتخاب کی آزادانہ جانچ کرائے جانے کی کافی بنیاد موجود ہے۔ مسلسل جاری شہری مزاحمت اور درست قانونی اقدامات ہی بالآخر اداروں کو اپنی نظامی خامیوں کو درست کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ سوال یہی ہے کہ کیا ملک اب اس چیلنج کے خلاف اٹھ کھڑا ہوگا؟
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔