فکر و خیالات

ڈھاکہ میں دنیش ترویدی کی تقرری: سفارتی روایت سے انحراف یا نئی حکمتِ عملی؟...آشیش رے

دنیش ترویدی کی ڈھاکہ میں تقرری سفارتی روایت سے انحراف ہے۔ ماہرین کے مطابق بغیر تجربہ ایسے وقت میں یہ فیصلہ خطرناک ہو سکتا ہے جب بنگلہ دیش میں علاقائی طاقتوں کا اثر بڑھ رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>دنیش تریویدی / Getty Images</p></div>

دنیش تریویدی / Getty Images

 
Hindustan Times

دنیش ترویدی کو ڈھاکہ میں ہندوستان کا ہائی کمشنر مقرر کرنے کے فیصلے نے ہندوستان-بنگلہ دیش تعلقات کے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ گزشتہ تقریباً پچاس برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس اہم سفارتی عہدے پر کسی سیاسی شخصیت کو تعینات کیا گیا ہو۔ اس سے قبل ہمیشہ پیشہ ور سفارت کاروں کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی رہی ہے۔

اس منصب پر حالیہ تعیناتی سے پہلے سمر سین جیسے تجربہ کار سفارت کار خدمات انجام دے چکے ہیں، جو اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے بھی رہ چکے تھے۔ ان کی خاص بات یہ تھی کہ ان کی پیدائش اور پرورش ڈھاکہ میں ہوئی تھی، جس کے باعث انہیں بنگلہ دیش کے سماجی و سیاسی ماحول کی گہری سمجھ حاصل تھی۔ ان سے پہلے سُبِمل دت تھے، جو 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد وہاں ہندوستان کے پہلے ہائی کمشنر مقرر ہوئے۔ ان کا تعلق بھی مشرقی بنگال (چٹگاؤں) سے تھا۔ سمر سین کے بعد سے اس عہدے پر ہمیشہ ہندوستانی فارن سروس (آئی ایف ایس) کے افسران ہی تعینات ہوتے رہے۔

Published: undefined

ہندوستانی حکومت میں خارجہ سکریٹری کے عہدے تک رسائی کا ایک اہم معیار یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ کسی افسر نے پڑوسی ممالک میں سفارتی خدمات انجام دی ہوں۔ اس تناظر میں ڈھاکہ ایک اہم سنگ میل رہا ہے۔ کے۔پی۔ایس۔ مینن (جونیئر)، مچکند دوبے، کرشنن سری نواسن، کرشنن رگھوناتھ اور ہرش وردھن شرنگلا جیسے افسران نے ڈھاکہ میں خدمات انجام دینے کے بعد خارجہ سکریٹری کا عہدہ حاصل کیا۔

بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات ہمیشہ حساس نوعیت کے رہے ہیں، جنہیں نہایت پیشہ ورانہ انداز میں سنبھالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مشرقی ہندوستان کے لیے سلامتی کے خطرات کم ہوئے، لیکن دہلی کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس نئے تعلق کو مضبوط بنیادوں پر قائم رکھے۔ تاہم اس راستے میں کئی چیلنجز بھی سامنے آئے۔ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن، جو ہندوستان کے قریبی حلیف تھے، ان کا قتل ایک بڑا دھچکہ ثابت ہوا۔ ان کے بعد آنے والی حکومتوں کے ساتھ تعلقات اتنے مستحکم نہیں رہے، یہاں تک کہ 1996 میں ان کی بیٹی شیخ حسینہ اقتدار میں آئیں۔

Published: undefined

درحقیقت، ہندوستانی علیحدگی پسند عناصر کو بنگلہ دیش میں پناہ ملنے کا مسئلہ اس وقت تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا جب تک کہ 2008 میں شیخ حسینہ دوبارہ اقتدار میں نہیں آئیں۔ ان کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون میں نمایاں بہتری آئی۔

ڈھاکہ میں حالیہ ہائی کمشنر پرنئے ورما نے تقریباً ساڑھے تین برس تک خدمات انجام دیں۔ اطلاعات کے مطابق، وزارت خارجہ نے ان کی جگہ انڈونیشیا میں ہندوستان کے سفیر سندیپ چکروتی کا نام تجویز کیا تھا، لیکن وزیر اعظم کے دفتر (PMO) کو ان کا سابقہ ریکارڈ متاثر نہ کر سکا۔ اس کے بعد پی ایم او اور قومی سلامتی کے ڈھانچے کے درمیان اختیارات کی کشمکش کے پس منظر میں آخرکار دنیش ترویدی کے نام پر اتفاق کیا گیا۔

Published: undefined

دنیش ترویدی کا تعلق ایک کاروباری پس منظر سے ہے۔ انہوں نے کولکاتا میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں امریکہ سے ایم بی اے کیا۔ ان کا سیاسی سفر بھی خاصا متنوع رہا ہے—وہ کانگریس، جنتا دل اور ترنمول کانگریس سے ہوتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئے۔ 2009 میں انہیں صحت و خاندانی بہبود کے وزیر مملکت بنایا گیا اور 2011 میں وہ ریلوے وزیر بنے۔ 2021 میں بی جے پی میں شمولیت کے بعد وہ عملی طور پر غیر فعال تھے۔

اگرچہ ترویدی تعلیم یافتہ ہیں، لیکن ایک ہائی کمشنر کے طور پر ان کی اہلیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ سفارتی یا خفیہ امور کا کوئی تجربہ نہ ہونے کے باعث ان کی تقرری کو غیر روایتی ہی نہیں بلکہ غیر موزوں بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک سابق ہائی کمشنر کے مطابق، یہ تقرری دراصل ایک سیاسی انعام ہے۔ جبکہ ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے یہ مؤقف پیش کیا کہ ڈھاکہ میں تعینات سفارت کار شیخ حسینہ کے خلاف بڑھتے عوامی عدم اطمینان کو سمجھنے میں ناکام رہے، جس کا نتیجہ ان کی اقتدار سے بے دخلی کی صورت میں نکلا۔

Published: undefined

اگرچہ اس ناکامی پر اختلاف نہیں، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ یہ محض سفارت کاروں کی کوتاہی تھی۔ اصل مسئلہ خفیہ ایجنسیوں، خصوصاً ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کی معلوماتی ناکامی کا تھا۔ مزید برآں، اگر وزارت خارجہ کو بعد میں اس صورت حال کا اندازہ ہوا، تو اس کا ذمہ دار سفارتی عملہ کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ترویدی اس مسئلے کا حل کیسے پیش کریں گے؟

موجودہ حالات میں، جب بنگلہ دیش نیشنل پارٹی اقتدار میں ہے، دونوں ممالک کے تعلقات کو مؤثر انداز میں سنبھالنا نہایت اہم ہے۔ شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد کے عرصے میں پاکستان اور آئی ایس آئی نے بنگلہ دیش میں اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے، جبکہ چین نے بھی اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے۔

ان حالات میں سیکورٹی تعاون کو دوبارہ بحال کرنا، باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنا اور گنگا آبی معاہدے کی تجدید جیسے اہم امور فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ اگر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ان پیچیدہ معاملات کو دور بیٹھ کر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، تو یہ ایک سنگین غلط فہمی ہوگی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined