
علامتی تصویر / اے آئی
کسی بھی معاشرے کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے آئین، مذہبی متون، قوانین یا تاریخی عمارتوں کا مطالعہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زبان کو بھی پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔ زبان محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ اجتماعی لاشعور کا آئینہ بھی ہے۔ وہ یہ بتاتی ہے کہ ایک سماج کس سے محبت کرتا ہے، کس سے نفرت، کس سے خوف کھاتا ہے اور کس پر اپنی برتری قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے ماہرینِ سماجیات اور لسانیات گالیوں کو کسی بھی معاشرے کی اخلاقی ساخت، طاقت کے تعلقات اور ثقافتی نفسیات کو سمجھنے کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ گالیاں صرف الفاظ نہیں ہوتیں، بلکہ تاریخ، اقتدار اور سماجی ڈھانچے کی یادگار بھی ہوتی ہیں۔
ہندوستان میں یہ سوال اس لیے زیادہ اہم ہے کہ یہاں عورت کی تعظیم اور اس کی تذلیل، دونوں روایتیں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ مذہبی اور ثقافتی بیانیوں میں عورت کو شکتی، لکشمی، سرسوتی اور ماں کے مقدس روپ میں پیش کیا جاتا ہے، لیکن روزمرہ گفتگو اور عوامی زبان میں اسی عورت کو سب سے آسان ذریعۂ توہین بنا دیا جاتا ہے۔ یہ تضاد محض لسانی نہیں بلکہ ہندوستانی سماج کی تاریخی ساخت کا حصہ ہے۔ اس لیے گالیوں کا مسئلہ صرف تہذیبِ گفتگو کا نہیں بلکہ اقتدار، پدرشاہی، ذات پات، جمہوریت اور سماجی شعور کا مسئلہ بھی ہے۔
سوشل میڈیا کے فروغ نے اس رجحان کو پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ اب اختلافِ رائے کا جواب دلیل سے کم اور گالی سے زیادہ دیا جاتا ہے۔ سیاسی اختلاف ہو، نظریاتی بحث ہو یا ثقافتی مباحثہ، مخالف کے دلائل کا جواب دینے کے بجائے اس کی ماں، بہن یا بیوی کو زبان کے ذریعے نشانہ بنانا آسان سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر خواتین صحافیوں، ادیباؤں، سماجی کارکنوں، کھلاڑیوں اور عوامی زندگی میں سرگرم خواتین کے خلاف جس طرح کی نازیبا زبان استعمال ہوتی ہے، وہ ثابت کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی جدید ضرور ہو گئی ہے، لیکن اس کے پیچھے کام کرنے والی ذہنیت اب بھی اکثر قرونِ وسطیٰ کی ہے۔ انٹرنیٹ نے مکالمے کو جمہوری بنایا، مگر اس نے توہین اور نفرت کو بھی بے مثال وسعت دے دی۔
گالیاں اچانک پیدا نہیں ہوتیں بلکہ سماجی ڈھانچوں کے اندر جنم لیتی ہیں۔ جس چیز پر کسی معاشرے میں سب سے زیادہ سماجی کنٹرول قائم کیا جاتا ہے، وہی رفتہ رفتہ سب سے مؤثر ذریعۂ توہین بن جاتی ہے۔ ہندوستانی زبانوں کی بیشتر گالیاں عورت کے جسم، اس کی جنسیت اور اس سے وابستہ خاندانی رشتوں کے گرد گھومتی ہیں۔ کسی مرد کی تذلیل کے لیے اس کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کو ایک آزاد انسان کے طور پر نہیں بلکہ مرد کی عزت اور ملکیت کے توسیعی حصے کے طور پر دیکھا گیا۔ یوں مرد کو نیچا دکھانے کا آسان ترین طریقہ عورت کی عزت پر فرضی حملہ قرار پایا۔
سماجیات اور بشریات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ نجی ملکیت، وراثت اور پدرشاہی خاندان کے ارتقا کے ساتھ عورت کے جسم پر سماجی نگرانی بڑھتی گئی۔ نسب، جائیداد اور وراثت کے تحفظ نے عورت کی جنسیت کو سماجی نظم و ضبط کا موضوع بنا دیا۔ آہستہ آہستہ عورت خاندان کی ’عزت‘ اور ’غیرت‘ کی علامت قرار پائی۔ جب عزت عورت کے جسم سے وابستہ ہو گئی تو توہین بھی اسی جسم کے ذریعے ظاہر ہونے لگی۔ اس لحاظ سے گالیاں پدرشاہی تاریخ کی لسانی یادگاریں ہیں، جو بتاتی ہیں کہ پدرشاہی صرف قوانین اور اداروں میں نہیں بلکہ زبان کے اندر بھی زندہ رہتی ہے۔
ہندوستانی سماج کی پیچیدگی یہ ہے کہ یہاں پدرشاہی اکیلے کام نہیں کرتی بلکہ ذات پات کے نظام کے ساتھ مل کر اپنی طاقت قائم رکھتی ہے۔ ذات کی ’پاکیزگی‘ اور عورت کی جنسیت پر کنٹرول ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے رہے ہیں۔ بین ذات شادیوں کی مخالفت، نام نہاد خاندانی عزت کے نام پر تشدد، کھاپ جیسی برادریوں کی مداخلت اور خواتین کی آزادی پر مسلسل نگرانی اسی ذہنی ساخت کی مختلف شکلیں ہیں۔ اسی لیے ہندوستانی زبانوں میں بہت سے ذات پات سے متعلق الفاظ بھی گالیوں میں تبدیل ہو گئے۔ اس طرح ہندوستانی گالیوں کی سماجیات عورت اور ذات، دونوں کی محکومی کی تاریخ بیان کرتی ہے۔ جہاں طاقت غیر مساوی ہوگی، وہاں زبان بھی غیر مساوی ہوگی۔
زبان صرف سماج کا آئینہ نہیں بلکہ اس کی تشکیل کا ذریعہ بھی ہے۔ بچہ گالیاں لغت سے نہیں سیکھتا بلکہ گھر، محلے، کھیل کے میدان، فلموں، سیاسی جلسوں اور آج کے دور میں موبائل کی اسکرین سے سیکھتا ہے۔ اگر بچپن سے عورت مخالف گالیاں عام گفتگو کا حصہ ہوں تو اس کے ذہن میں عورت کی توہین ایک معمولی بات بن جاتی ہے۔ اسی طرح ذات پات پر مبنی تحقیر سنتے سنتے سماجی امتیاز بھی معمول کا رویہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس اعتبار سے زبان سماجی تربیت کا سب سے مؤثر وسیلہ ہے؛ وہ صرف خیالات کا اظہار نہیں کرتی بلکہ انہیں نسل در نسل منتقل بھی کرتی ہے۔
جدید ہندوستان کا سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ سماجی ادارے تو تبدیل ہو رہے ہیں، مگر زبان اس رفتار سے نہیں بدل رہی۔ آئین نے مساوات کو بنیادی قدر کے طور پر تسلیم کیا، خواتین کی تعلیم، روزگار، جائیداد کے حقوق اور سیاسی نمائندگی میں نمایاں پیش رفت ہوئی، عدلیہ، فوج، سائنس، انتظامیہ، کھیل اور صنعت میں ان کی موجودگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ خواتین کی تحریکوں نے گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، کام کی جگہ پر تحفظ اور مساوی مواقع جیسے مسائل کو قومی مباحثے کا حصہ بنایا، لیکن اس کے باوجود عوامی زبان کا بڑا حصہ آج بھی اسی پدرشاہی ذہنیت سے متاثر ہے جس میں عورت احترام نہیں بلکہ توہین کی علامت بن جاتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سماجی تبدیلی صرف قوانین سے نہیں آتی، بلکہ زبان اور ذہنیت کی تبدیلی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اسی حقیقت کی نشاندہی نسائی فکر نے بہت پہلے کر دی تھی۔ اس نے صرف یہ سوال نہیں اٹھایا کہ عورتوں کو برابر کے حقوق کیوں نہیں ملتے، بلکہ یہ بھی پوچھا کہ زبان عورت کے بارے میں کس قسم کے تصورات پیدا کرتی ہے۔
یہاں ایک اور اہم بات بھی قابلِ غور ہے۔ گالیوں کی مخالفت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ زبان کو مصنوعی طور پر شائستہ یا بے رنگ بنا دیا جائے۔ عوامی زبان، مزاح، طنز اور مزاحمت کی اپنی مضبوط روایتیں ہیں۔ ہندوستانی لوک ادب میں تیز اور کاٹ دار زبان بھی ملتی ہے، لیکن تندی اور عورت دشمنی ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ کبیر کی زبان سخت ہے، مگر اس کا نشانہ سماجی منافقت اور مذہبی ریاکاری ہے، نہ کہ عورت کی عزت۔ اسی طرح جدید طنز بھی تلخ ہو سکتا ہے، مگر اس کی ضرب اقتدار اور طاقت کے مراکز پر ہونی چاہیے، عورت کے وقار پر نہیں۔ اس لیے یہ سمجھ لینا کہ گالیاں ہی عوامی زبان کی اصل شناخت ہیں، زبان اور عوامی روایت دونوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
معاصر سیاست نے بھی عوامی زبان پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ شدید سیاسی قطبیت کے اس دور میں مختلف سیاسی گروہوں کے حامی اپنے مخالفین کو دلائل سے شکست دینے کے بجائے تحقیر اور گالی کا سہارا زیادہ لینے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا پر منظم ٹرول گروہ کسی بھی مصنف، صحافی، فنکار یا سماجی کارکن کو نشانہ بناتے ہیں۔ خواتین کے معاملے میں یہ حملے عموماً ان کے نظریات پر نہیں بلکہ ان کے جسم، کردار اور خاندان پر مرکوز ہوتے ہیں۔ یہ رجحان کسی ایک جماعت یا نظریے تک محدود نہیں بلکہ ہمارے عوامی مکالمے کے بگڑتے ہوئے معیار کی علامت ہے۔ جمہوریت کی روح اختلافِ رائے ہے، لیکن جب اختلاف، توہین میں بدل جائے تو جمہوریت کی اخلاقی بنیاد کمزور پڑنے لگتی ہے۔
اسی تناظر میں جنریشن زی یعنی جین زی کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ اس نسل نے صنفی مساوات، جنسی تنوع اور شخصی آزادی جیسے موضوعات پر پچھلی نسلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کشادہ ذہنی کا مظاہرہ کیا ہے اور بہت سی فرسودہ روایات کو چیلنج بھی کیا ہے۔ دوسری طرف انٹرنیٹ کلچر، گیمنگ، میمز، ریپ موسیقی اور ’روسٹ‘ کلچر نے جارحانہ زبان کو تفریح اور اظہار کا ذریعہ بھی بنا دیا ہے۔ اس طرح ایک عجیب تضاد پیدا ہوا ہے۔ نئی نسل ایک طرف پدرشاہی کی مزاحمت کرتی ہے اور دوسری طرف بعض اوقات انجانے میں اسی پدرشاہی کی لسانی روایت کو دہرا بھی دیتی ہے۔ تاہم ایک امید افزا تبدیلی یہ ضرور نظر آتی ہے کہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ صنفی غیر جانب دار زبان، باہمی رضامندی، انسانی وقار اور احترام جیسے موضوعات کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ حساس ہو رہا ہے۔ یہی شعور مستقبل میں زبان کو زیادہ جمہوری، مساوی اور انسانی بنانے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یہ خوش فہمی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ صرف قانون بنا دینے سے زبان بدل جائے گی۔ سزا کا خوف بعض رویوں کو وقتی طور پر روک سکتا ہے، لیکن اجتماعی شعور کی تشکیل تعلیم، خاندان، ادب، میڈیا اور عوامی ثقافت کے ذریعے ہوتی ہے۔ اگر اسکول صنفی مساوات کی تعلیم دیں، خاندان اپنے طرزِ عمل سے اس کی مثال قائم کریں، ادب اور سنیما عورت کو ایک مکمل انسان کے طور پر پیش کریں، سیاسی قیادت مہذب زبان کا نمونہ بنے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم نفرت انگیز اور ہدفی ہراسانی کے خلاف زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، تبھی پائیدار تبدیلی ممکن ہوگی۔ زبان پر کسی بیرونی سنسرشپ سے زیادہ اثر معاشرتی تربیت اور تہذیبی اقدار کا ہوتا ہے۔
آخرکار گالیوں کی سماجیات ہمیں زبان سے زیادہ خود معاشرے کے بارے میں بتاتی ہے۔ اگر کسی معاشرے میں عورت کا نام سب سے بڑی گالی بن جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کمزور ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مردانہ بالادستی پر مبنی ذہنیت اب بھی اپنی طاقت کے تحفظ کے لیے عورت کو ہی ذریعہ بناتی ہے۔ زبان میں پوشیدہ یہ تشدد اسی وقت کم ہوگا جب مساوات صرف آئین اور قانون کی دفعات تک محدود نہ رہے بلکہ روزمرہ زندگی، سماجی رویّوں اور باہمی تعلقات کی ایک فطری قدر بن جائے۔
کسی بھی تہذیب کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا یادگاروں یا پرجوش نعروں سے نہیں بلکہ اس کی روزمرہ بول چال سے ہوتی ہے۔ جس دن کسی شخص کی تذلیل کے لیے اس کی ماں، بہن یا بیٹی کا سہارا لینا سماجی طور پر باعثِ شرم سمجھا جانے لگے گا، اسی دن یہ کہا جا سکے گا کہ ہم عورت کی محض پوجا کرنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر واقعی اس کے احترام اور مساوات کی سمت ایک مہذب قدم اٹھا چکے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر: پریس ریلیز