
علامتی تصویر / اے آئی
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی تارکین وطن کو ان کے آبائی وطن کے بجائے تیسرے ممالک منتقل کرنے کی وسیع تر مہم کے تحت حالیہ کارروائیوں کے دوران کیوبا اور افغانستان کے شہریوں کو گیانا اور وسطی افریقی جمہوریہ جیسے ممالک بھیجا گیا ہے، جن میں سے بیشتر کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ امریکی حکومت نے اس منتقلی کے لیے دنیا بھر کے تیس سے زائد ممالک کے ساتھ معاہدے کیے ہیں تاکہ ان لوگوں کو پناہ دی جا سکے جنہیں ان کے اپنے ممالک قبول نہیں کر رہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پالیسی پر شدید تنقید کر رہی ہیں کیونکہ جلاوطن کیے گئے افراد کو ایسے مقامات پر بھیجا جا رہا ہے جہاں وہ زبان اور ثقافت سے ناواقف ہیں یا وہاں سخت بدامنی کا خطرہ ہے۔ اس صورتحال نے خاص طور پر ان افغان شہریوں کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں جن کے خاندانوں نے افغانستان میں امریکی فوج کی مدد کی تھی۔
تارکین وطن کی زندگی میں بے بسی کا ایک ایسا موڑ آ گیا ہے جہاں انہیں نہ صرف پناہ دینے سے انکار کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں ایک ایسے ملک بھیجا جا رہا ہے جس سے ان کا کوئی لسانی، ثقافتی یا جغرافیائی تعلق نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اختیار کی جانے والی یہ سخت گیر پالیسی انسانی حقوق کے عالمی تقاضوں اور ریاستی مفادات کے درمیان ایک گہرا 'تزویراتی تضاد' پیدا کر رہی ہے۔ ذرا سوچیے، کیا گزرتی ہوگی اس شخص پر جسے اس کے وطن بھیجنے کے بجائے، جہاں اسے خطرہ لاحق ہے، کسی ایسے ملک کی فلائٹ میں بٹھا دیا جائے جس کا نام تک اس نے پہلے کبھی نہ سنا ہو؟ یہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کے ساتھ ایک ایسا تجربہ ہے جو عالمی ضمیر پر کئی سنگین سوالات ثبت کر رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی ہے جس کے تحت غیر ملکی شہریوں کو ان کے اصل ملک کے بجائے کسی 'تیسرے ملک' منتقل کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، حال ہی میں کیوبا اور افغانستان کے شہریوں کو جنوبی امریکی ملک گیانا روانہ کیا گیا، حالانکہ گیانا کا ان کی زندگیوں یا پس منظر سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ عمل ان تارکین وطن کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے کیونکہ وہ وہاں کی زبان اور ماحول سے مکمل ناواقف ہوتے ہیں اور وہاں ان کی مستقل آبادکاری کا بھی کوئی منصوبہ نہیں ہوتا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 30 سے زائد ممالک کے ساتھ ایسے خفیہ یا خاموش معاہدے کیے گئے ہیں جن کے تحت 'تھرڈ کنٹری ڈی پورٹیشن' کو وسعت دی جا رہی ہے۔ ان میں سے 15 ممالک کا تعلق محض امریکی خطے سے ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پالیسی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ دور میں ملک بدری اب محض "وطن واپسی" کا نام نہیں رہی، بلکہ یہ ریاستوں کے درمیان ایک ایسی 'سیاسی مفاہمت' بن چکی ہے جہاں انسانی جانوں کو تزویراتی یا اسٹریٹجک شطرنج کی بساط پر مہروں کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔
عوامی سطح پر اکثر یہ بیانیہ پیش کیا جاتا ہے کہ ملک بدری کی یہ مہم صرف "خطرناک مجرموں" کے خاتمے کے لیے ہے۔ تاہم، سیراکیوز یونیورسٹی کی تحقیقی تنظیم ’ٹرانزیکشنل ریکارڈز ایکسیس کلیئرنگ ہاؤس (ٹی آر اے سی)‘ کے اعداد و شمار اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، امریکی امیگریشن حراست میں موجود 70.6 فیصد غیر ملکی شہریوں کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ گیانا بھیجے گئے حالیہ گروپ کے بارے میں بھی وہاں کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی مجرمانہ پس منظر نہیں تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، "مجرموں کی ملک بدری" کے سیاسی نعرے اور زمینی حقائق کے درمیان یہ واضح تضاد ظاہر کرتا ہے کہ اس مہم کا اصل نشانہ وہ عام پناہ گزین ہیں جن کا واحد قصور قانونی دستاویزات کی عدم دستیابی ہے، نہ کہ کوئی سنگین جرم۔
اس پالیسی کا ایک نہایت ہولناک پہلو یہ ہے کہ جلاوطن افراد کو ایسے خطوں میں دھکیلا جا رہا ہے جو خود بدترین عدم استحکام کا شکار ہیں۔ 5 ستمبر کو وسطی افریقی جمہوریہ کے دارالحکومت بنگوئی میں ایک پرواز اتری جس میں 12 افغان اور 8 ایرانیوں سمیت نیپال اور نکاراگوا کے متعدد شہری سوار تھے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ رواں برس امریکہ سے وسطی افریقی جمہوریہ کے لیے یہ تیسری بڑی فلائٹ تھی۔ حقیقت یہ ہے امریکی محکمہ خارجہ کی اپنی ٹریول ایڈوائزری اس ملک کو سخت سول بدامنی اور مسلح گروہوں کے درمیان لڑائی، دہشت گردی کے منظم اور مسلسل خطرات کی وجہ سے انتہائی خطرناک ملک قرار دیتی ہے۔ ایسے حالات میں کسی شخص کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کے بجائے جان بوجھ کر ایک ایسے 'وار زون' میں بھیجنا جہاں اس کی بقا کو براہ راست خطرہ ہو، بین الاقوامی انسانی حقوق اور اخلاقی معیارات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اس پالیسی کی سب سے تکلیف دہ مثال 'خلیل' نامی افغان نوجوان کی کہانی ہے، جس کے خاندان نے برسوں امریکی فوج کی خدمت کی۔ خلیل کا ایک بھائی جو افغان نیشنل آرمی میں تھا، امریکہ میں مقیم ہے جبکہ دوسرا بھائی، جو امریکہ سے تربیت یافتہ پائلٹ تھا، طالبان کے ہاتھوں مارا گیا۔ خلیل کی بہن اور والد نے بھی امریکی افواج کا ساتھ دیا۔ ایک امریکی جج نے طالبان کے انتقام کے پیش نظر خلیل کی افغانستان ملک بدری کے خلاف حکمِ امتناع (تحفظ) جاری کر رکھا تھا، مگر امریکی انتظامیہ نے اس عدالتی تحفظ کو 'بائی پاس' کرنے کے لیے اسے وسطی افریقی جمہوریہ ڈی پورٹ کر دیا۔ امریکہ کا اپنے دیرینہ اتحادیوں کو اس طرح غیر متعلقہ اور خطرناک ممالک میں لاوارث چھوڑ دینا نہ صرف ایک اخلاقی دھوکہ ہے بلکہ یہ مستقبل میں امریکہ کا ساتھ دینے والے عالمی شراکت داروں کے لیے ایک نہایت منفی اور حوصلہ شکن پیغام ہے۔
دستاویزات سے انکشاف ہوتا ہے کہ ان ملک بدریوں کو ممکن بنانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف پسماندہ ممالک کے ساتھ "خاموش معاہدے" کیے ہیں۔ ان میں سے بعض ممالک کو ان جلاوطن افراد کو قبول کرنے کے عوض کروڑوں ڈالر (ملٹی ملین ڈالر) کی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ عمل تارکین وطن پر دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ ہے تاکہ وہ تنگ آ کر امریکہ میں اپنے جائز قانونی دعوے ترک کر دیں۔یہ لمحہ فکریہ ہے کیونکہ جب ریاستوں کے لیے پناہ گزینوں کی حیثیت ایک تجارتی شے (کموڈیٹی) جیسی ہو جائے، تو وہاں سے انسانی حقوق کا خاتمہ اور عالمی انصاف کے نظام کی پامالی شروع ہو جاتی ہے۔
امریکہ کی موجودہ امیگریشن پالیسی، جس میں 'انسانی بنیادوں پر پیرول 'اور 'عارضی تحفظ کی حیثیت'جیسے پروگراموں کی منسوخی شامل ہے، لاکھوں افراد کے لیے ایک نیا انسانی بحران پیدا کر رہی ہے۔ پناہ کے متلاشی تقریباً 2 لاکھ افراد سے ویزا کی سہولت چھیننے کا منصوبہ اس سنگین صورتحال کو مزید ابتر بنا دے گا۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سرحدوں کی حفاظت اور سیاسی مفادات، انسانی جانوں کی حرمت اور عالمی اخلاقی اقدار سے زیادہ مقدم ہو چکے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔