فکر و خیالات

دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں...سہیل انجم

اوڈیشہ میں ایک شخص اپنی بہن کے ڈھانچے کے ساتھ بینک پہنچا تاکہ اس کی موت ثابت کر کے رقم نکال سکے۔ یہ واقعہ نظام کی بے حسی اور سرکاری اداروں کی ناکامی کی دردناک علامت بن کر سامنے آیا

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی سے تیار کردہ</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی سے تیار کردہ

 

اوڈیشہ کے کیونجھر ضلع میں ایک شخص کے ذریعے اپنی بہن کے ڈھانچے کو کندھے پر لاد کر بینک پہنچ جانے کا دل دہلا دینے والا واقعہ دراصل اس ملک میں نظام کی ناکامی کی ایک علامت ہے۔ اس واقعے نے یہ یاد دلایا کہ ملک کا نظام بھی ایک لاش میں تبدیل ہو گیا ہے بس اس کی تدفین کی دیر ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک بھائی کو بینک میں جمع اپنی مردہ بہن کے کچھ پیسے نکالنے کے لیے یہ انتہائی قدم نہیں اٹھانا پڑتا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس سے قبل ہی بینک کا عملہ انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور بینکنگ کے سخت ترین نظام میں لچک پیدا کرتے ہوئے حقدار کو اس کا حق دے دیتا۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور بالآخر جیتو منڈا کو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس کی بہن دو ماہ قبل مر چکی ہے اس کی قبر کھود کر اس کی لاش کا ڈھانچہ نکال کر اسے اپنے کندھے پر رکھ کر بینک لے جانا پڑا۔

بینکنگ نظام کی سرد مہری ملاحظہ فرمائیں کہ جب بھی اس نے بینک میں جا کر بہن کے جمع شدہ 19 ہزار 300 روپے نکالنے کی کوشش کی تو اس سے کہا گیا کہ وہ اکاؤنٹ ہولڈر کو لے کر آئے۔ اس کی اس بات پر بینک ملازمین کو یقین نہیں تھا کہ اس کی بہن مر چکی ہے اور اب وہ زندہ ہو کر بینک میں حاضری نہیں دے سکتی۔ انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اوڈیشہ گرامین بینک کے مالی پوسی برانچ کے ملازمین جیتو منڈا اور اس کی مردہ بہن کالرا منڈا کو جانتے تھے۔ وہ دونوں پہلے بھی جا کر وہاں سے پیسے نکالتے رہے ہیں۔ لیکن جب اس کی موت کے دو ماہ بعد جیتو باقی ماندہ پیسہ نکالنے گیا اور کیشیر، منیجر اور دیگر لوگوں سے ملا تو اسے مایوسی ہوئی۔ جب بینک منیجر نے اسے سختی سے واپس کر دیا تو وہ بہت مایوس ہوا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اپنی بہن کی موت کا کیا ثبوت پیش کرے۔

Published: undefined

بینک ملازمین کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اس سے کہا تھا کہ وہ اپنی بہن کی موت کا ثبوت لائے یعنی ڈیتھ سرٹیفکیٹ لائے۔ لیکن ملازمین یا تو اسے سمجھا نہیں پائے یا وہ سمجھ نہیں سکا۔ جیتو منڈا ایک ان پڑھ قبائلی شخص ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا ہو۔ لہٰذا بینک کے کسی ملازم کو اس کی مدد کرنی چاہیے تھی۔ بہرحال اس واقعے نے پورے ملک میں سنسنی سی دوڑا دی۔ پھر کیا تھا؟ اوڈیشہ حکومت نے اس واقعے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی بنا دی۔ جانچ کرنے والے ریونیو ڈویژنل کمشنر سنگرام کیشاری موہاپاترا کے مطابق انہوں نے کیونجھر کے ضلع کلکٹر کے ساتھ 27 اپریل 2026 کو بینک کے ایک گھنٹے کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی تو انتظامیہ کی کوتاہی اور خامی کا پتہ چلا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں کوئی آواز تو نہیں ہے لیکن اس میں دیکھا جا سکتا کہ جیتو منڈا بینک میں 11 بج کر 26 منٹ سے لے کر 11 بج کر 58 منٹ تک موجود تھا۔ یاد رہے کہ جیتو 27 اپریل کو ہی اپنی بہن کی لاش کا ڈھانچہ لے کر وہاں پہنچا تھا۔

اس دل دہلا دینے والے واقعے نے جب پورے ملک کو صدمے میں مبتلا کر دیا تو کیونجھر ضلع انتظامیہ نے آناً فاناً اگلے روز ہی ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور قانونی وارث سرٹیفکیٹ بنا کر دے دیا۔ واضح رہے کہ پیسہ نکالنے کے لیے ان کاغذات کی ضرورت تھی۔ کیونکہ اس کی بہن کالرا منڈا نے جس شخص کو اپنا نامنی بنایا تھا اس کی بھی موت واقع ہو چکی ہے۔ موہاپاترا کے مطابق ’یہ واقعہ حقیقتاً بہت شرمناک ہے۔ حیرت ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈر یا فیملی کو اے ٹی ایم کارڈ کیوں ایشو نہیں کیا گیا۔ اگر اے ٹی ایم کارڈ ہوتا تو وہ لوگ آسانی سے پیسہ نکال سکتے تھے۔ لیکن بینک کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ناخواندہ فیملی کو اے ٹی ایم کارڈ ایشو نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ اسے آپریٹ کرنا نہیں جانتے۔‘ حالانکہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ جب ہر اکاؤنٹ ہولڈر کو اے ٹی ایم کارڈ ایشو کیا جاتا ہے تو اس کو کیوں نہیں ایشو کیا گیا۔ وہ کسی دوسرے کی مدد سے اپنا پیسہ نکال سکتا تھا۔

Published: undefined

موہاپاترا نے میڈیا میں جو بیان دیا ہے اس سے اسپتال انتظامیہ کی بھی نااہلی ثابت ہوتی ہے۔ 30 مارچ کو ہی ایک حلف نامہ کے ساتھ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دی گئی تھی۔ حالانکہ حلف نامہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ضابطے کے مطابق چار اپریل تک ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو جانا چاہیے تھا لیکن نہیں ہوا۔ اس تکلیف دہ واقعے کے بعد منڈا کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ جب یہ سب کچھ ہو گیا تو 28 اپریل کو بینک کے ملازمین نے جیتو منڈا کے گھر جا کر بینک میں جمع رقم اس کے حوالے کی۔ اسی لیے ہم نے شروع میں لکھا ہے کہ صرف جیتو منڈا کی بہن نہیں مری ہے بلکہ پورا نظام مر گیا اور لاش میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک ناخواندہ قبائلی کو سنجیدگی کے ساتھ صورت حال سمجھائی جا سکتی تھی اور اس کے ساتھ انسانی رویہ اختیار کرتے ہوئے اس کا مسئلہ حل کر دیا گیا ہوتا۔

اس ملک میں اس قسم کے واقعات اکثر و بیشتر ہوتے رہتے ہیں جو کہ نظام کے ساتھ ساتھ معاشرے کے بھی مردہ ہو جانے کا ثبوت ہے۔ بالخصوص سرکاری دفاتر میں جس طرح بے ضابطگی پائی جاتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ کبھی کوئی شخص اپنی ماں یا بیٹے یا بھائی کی لاش کندھے پر لاد کر گھر لے جانے پر مجبور ہوتا ہے تو کبھی اسپتال کے بلوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں ورثا کو متوفی کی لاش نہیں دی جاتی ہے۔ کہیں ایمبولنس نہ ملنے کی وجہ سے مریض اسپتال نہیں پہنچ پاتے ہیں اور ان کی جان چلی جاتی ہے۔ کہیں رشوت نہ دے پانے کی وجہ سے لوگوں کے ضروری کام نہیں ہو پاتے ہیں۔ ایسا صرف اسپتالوں اور بینکوں میں نہیں ہوتا بلکہ تمام سرکاری دفاتر میں ہوتا ہے۔ عام شہری جن مسائل سے دوچار ہے اس کا بظاہر کوئی علاج نہیں ہے۔ ہاں علاج ہے لیکن اس کے لیے تمام لوگوں کو ذمہ دار بننا پڑے گا۔

Published: undefined

ایک طرف ملکی نظام کی یہ تلخ حقیقت ہے اور دوسری طرف ہم ہیں کہ عالمی قائد بن جانے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ ہم بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہیں۔ ہم بہت جلد دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن جائیں گے۔ ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا کا کوئی ملک اس ملک کی طرح اچھا نہیں ہے۔ اصولی طور پر ایک محب وطن شہری یہی کہے گا کہ اس کا ملک دنیا کا سب سے خوبصورت اور اچھا ملک ہے۔ لیکن کڑوی سچائیوں پر بھی نظر ڈالنی چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا واقعی ہم وہ ہیں جس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کا نظام دن بدن سڑتا جا رہا ہے۔ لیکن ارباب اختیار ایک ایسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں اور عوام کو اس میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔

ملک زادہ منظور احمد نے سچ کہا تھا:

دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں

ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined