صنعت و حرفت

کانگو میں ایبولا پر قابو پانے کی کوششوں میں پیشرفت، چیلنجز اب بھی برقرار: عالمی ادارۂ صحت

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی کوششوں میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حفاظتی مسائل، عوامی بے اعتمادی اور علاج و ویکسین کی کمی اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

جنیوا: عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں جاری ایبولا وبا کے خلاف اقدامات کے نتیجے میں صورت حال میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، تاہم بیماری پر مکمل قابو پانے کی راہ میں متعدد سنگین چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسوس نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جمہوریہ کانگو کے حالیہ دورے کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مقامی آبادی، طبی عملے اور مختلف اداروں کے عزم اور تعاون نے انہیں حوصلہ دیا ہے۔ ان کے مطابق زمینی سطح پر جاری کوششوں سے امید پیدا ہوئی ہے، اگرچہ حالات اب بھی مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں ہیں۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق ٹیڈروس نے بتایا کہ ملک میں اب تک ایبولا کے 344 مصدقہ معاملات سامنے آ چکے ہیں جبکہ 60 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہ متاثرہ افراد تین صوبوں کے 24 صحتی علاقوں میں پائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ معاملات کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور یہ ایک ہزار سے زائد سے گھٹ کر 116 رہ گئی ہے، جو وبا پر قابو پانے کی کوششوں کی ایک مثبت علامت سمجھی جا رہی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے واضح کیا کہ ادارے کا خطرے کا موجودہ جائزہ تبدیل نہیں ہوا۔ ان کے مطابق جمہوریہ کانگو کے اندر خطرہ انتہائی زیادہ، علاقائی سطح پر زیادہ جبکہ عالمی سطح پر کم ہے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں وبا کو پھیلنے کا کافی وقت مل گیا تھا اور ردعمل میں تاخیر بھی ہوئی، لیکن اب حکومت کی قیادت میں صورتحال پر بہتر انداز میں قابو پایا جا رہا ہے۔

انہوں نے ان رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا جو انسدادی مہم کو متاثر کر رہی ہیں۔ ان میں مریضوں کی بروقت تشخیص کے لیے تجربہ گاہوں کی صلاحیت میں اضافہ، متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگانا، سفری پابندیوں کے باعث طبی سامان کی ترسیل میں مشکلات، مقامی آبادی کا عدم اعتماد اور یہ حقیقت شامل ہے کہ بنڈی بوگیو ایبولا وائرس کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔

Published: undefined

دریں اثنا شمالی کیوو کے مرکزی شہر گوما میں ایبولا سے متاثر ایک مریض کو مکمل صحت یابی کے بعد اسپتال سے رخصت کر دیا گیا۔ جمہوریہ کانگو کی حکومت کے مطابق پیر تک چھ مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے تھے۔ طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے کہا ہے کہ شمالی کیوو میں وبا سے نمٹنے کے لیے سابقہ ایبولا بحرانوں کے دوران قائم کیے گئے ڈھانچوں سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ گوما میں 80 بستروں پر مشتمل خصوصی علاجی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined