
بجٹ 2025
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن آج یکم فروری 2025 کو ملک کا بجٹ پیش کریں گی۔ اس بجٹ میں کچھ خاص اعلانات کی توقع کی جا رہی ہے، جس کا عام لوگوں سے لے کر کارپوریٹ دنیا تک بے صبری سے انتظار ہے۔ اس بار ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت مہنگائی اور ٹیکس کے محاذ پر لوگوں کو بڑی راحتیں دینے کا اعلان کر سکتی ہے۔ ان میں سب سے بڑا تحفہ ٹیکس چھوٹ کی شکل میں ملنے کی امید کی جا رہی ہے۔ بجٹ سے جڑے تمام تازہ ترین اپڈیٹس یہاں پڑھیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 01 Feb 2025, 9:50 AM IST
بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت کا بجٹ سیاسی مفادات پر زیادہ اور عوام و قومی مفادات پر کم مبنی نظر آتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مایاوتی نے لکھا کہ مہنگائی، غربت، بیروزگاری کے شدید دباؤ کے ساتھ ساتھ سڑک، پانی، تعلیم اور سکونِ عامہ جیسی بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث تقریباً 140 کروڑ آبادی والے ہندوستان میں عوام کی زندگی کافی پریشان کن ہے، جس کا ازالہ مرکزی بجٹ کے ذریعے کیا جانا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر بی جے پی حکومت کا بجٹ واقعی عوامی اور قومی مفاد میں ہوتا تو لوگوں کی زندگی مسلسل پریشانیوں، بدحالی اور دکھوں کا شکار نہ ہوتی۔ 'ترقی یافتہ ہندوستان' کا خواب تبھی مکمل ہو سکتا ہے جب اس میں محروم طبقات کے مفادات کو بھی شامل کیا جائے۔
کانگریس نے مرکزی بجٹ میں وزیر خزانہ کی جانب سے ترقی کے چار انجنوں کا ذکر کیے جانے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اتنے انجن ہو گئے ہیں کہ بجٹ مکمل طور پر پٹری سے اتر گیا ہے۔ وہیں، منیش تیواری نے بجٹ میں صرف بہار کا ذکر کیا جانے پر اعتراض ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ مرکزی بجٹ ہے یا صرف بہار کا بجٹ؟
وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے بجٹ پیش کیا جس کے بعد سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے لیے بجٹ اہم نہیں ہے، بلکہ کمبھ کے میلے میں جان گنوانے والوں کے اعداد و شمار زیادہ اہم ہیں۔ ہم ان لوگوں کے اعداد و شمار کا کیا اعتبار کریں جو فوت ہونے والوں کے اعداد و شمار تک فراہم نہیں کر سکتے۔‘‘ اکھلیش نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ پر سوال اٹھایا اور عوامی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
بجٹ پیش ہونے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کے پاس پہنچے اور انہیں اچھے بجٹ کے لیے مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر کوئی آپ کی تعریف کر رہا ہے کیونکہ بجٹ بہت اچھا ہے۔ وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ کو پورے ملک میں سراہا جا رہا ہے اور وزیراعظم نے اس کی کامیابی کی تعریف کی۔
بجٹ تقریر پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اعلان کیا کہ انکم ٹیکس کے نئے نظام میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے اور اب سالانہ 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر کوئی انکم ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ اس سے قبل 7 لاکھ روپے کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا۔ اب 24 لاکھ روپے کی آمدنی پر 30 فیصد ٹیکس لگے گا، جبکہ 75,000 روپے تک اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن کی چھوٹ ملے گی۔ اس کے علاوہ 15-20 لاکھ روپے کی آمدنی پر 20 فیصد ٹیکس اور 8-12 لاکھ روپے کی آمدنی پر 10 فیصد ٹیکس لیا جائے گا۔
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی بجٹ تقریر جاری ہے اور ابھی تک انہوں نے مندرجہ ذیل اہم اعلانات کئے ہیں:
اگلے 6 سالوں میں مسور اور توئر کی دالوں کی پیداوار بڑھانے پر زور۔
کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے 5 سالہ مشن کا آغاز، جس سے کپڑا کاروبار کو مستحکم کیا جائے گا۔
کسان کریڈٹ کارڈ پر قرض کی حد 3 لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ کی جائے گی۔
بہار میں مکھانہ بورڈ کا قیام، چھوٹے کسانوں اور تاجروں کے لیے فائدہ مند۔
چھوٹی صنعتوں کے لیے خصوصی کریڈٹ کارڈز، پہلے سال میں 10 لاکھ کارڈز جاری کیے جائیں گے۔
آئندہ ہفتہ نیا انکم ٹیکس بل پیش کیا جائے گا۔
تمام اضلاع میں کینسر کے علاج کے لیے مراکز قائم کیے جائیں گے۔
بہار کے لیے 20 ہزار کروڑ کے پیکج کا اعلان، ریاست میں 3 نئے ایئر پورٹ تیار کرنے کا اعلان۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بجٹ 2025 میں ترقی کے مختلف شعبوں پر زور دیا اور اس کے فریم ورک میں چند اہم نکات شامل کیے۔ ان کے مطابق، حکومت کا مقصد ترقی میں تیزی لانا، محفوظ اور ہم آہنگ ترقی کو فروغ دینا، نجی شعبے کے سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا، گھریلو اخراجات میں اضافہ اور ہندوستان کے ابھرتے ہوئے مڈل کلاس کی خرچ کرنے کی طاقت کو بڑھانا ہے۔ سیتارمن نے کہا کہ یہ بجٹ حکومت کے ترقیاتی اقدامات کو مزید تیز کرے گا اور ملک کی معیشت کی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بجٹ میں کسانوں کے لیے ’پردھان منتری دھن دھانیہ‘ اسکیم کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد 1.7 کروڑ کسانوں کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ اسکیم ریاستوں کے ساتھ مل کر چلائی جائے گی۔ سیتارمن نے کہا کہ حکومت کا مرکز غریبوں، نوجوانوں، خواتین اور کسانوں کی بہتری پر ہوگا اور کسانوں کی مدد کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کھیتی، دیہی ترقی، مینوفیکچرنگ اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات پر زور دیا۔
حکومت کا زور سب کے ترقی پر ہے: وزیر خزانہ
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت کا مقصد سب کی ترقی ہے اور خاص طور پر مڈل کلاس کے لیے خریداری میں اضافے پر زور دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر سیاسی و جغرافیائی تنازعات کی وجہ سے عالمی ترقی میں کمی کی نشاندہی کی اور کہا کہ اس کے باوجود ہندوستان اپنی ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔ حکومت کا منصوبہ تمام طبقات کو فائدہ پہنچانے کے لیے ترقیاتی اقدامات پر مرکوز ہے۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہندوستان کی معیشت کو تیز رفتار دے گی۔ ان کے مطابق بجٹ کا مقصد معیشت کے مختلف شعبوں میں تیز رفتاری لانا ہے تاکہ اقتصادی ترقی میں تیزی آئے اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت میں تیزی لانے کے لیے حکومت نے کئی نئے اقدامات اٹھائے ہیں اور وہ ترقی کے اس عمل کو مزید تیز کریں گے۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت کا فوکس 'گیان' (جی وائی اے این) یعنی غریب، نوجوان، کسان اور ناری شکتی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں حکومت نے مختلف ترقیاتی اقدامات کے ذریعے ملک میں ہمہ جہتی ترقی کو فروغ دیا ہے۔ ان کے مطابق اس بجٹ کا مقصد تمام طبقوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے تاکہ ملک کے ہر شہری کو بہتر مواقع ملیں اور ترقی کے راستے پر گامزن رہیں۔
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں یونین بجٹ 2025 پیش کر دیا ہے اور وہ فی الحال بجٹ تقریر پیش کر رہی ہیں۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے بجٹ کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ ہر بجٹ میں ’ارادہ‘ اور ’مواد‘ ہوتا ہے لیکن اس بار ہمیں بجٹ سے کوئی امید یا توقع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت مڈل کلاس کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اس بجٹ سے کوئی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں ہے، کیونکہ پچھلے بجٹوں میں بھی عوامی فلاح کے لیے کم ہی اقدامات کیے گئے ہیں۔
بجٹ سیشن کے دوران اکھلیش یادو نے کہا کہ اگرچہ بجٹ آ رہا ہے لیکن سماج وادی پارٹی کی سب سے بڑی ترجیح ابھی بھی کمبھ ہیں۔ لوگوں کو اپنے نہیں مل رہے، لاشوں کو چھاپایا جا رہا ہے۔ اتنی رقم خرچ کر کے لوگوں کو بلایا گیا لیکن ان کے لیے انتظامات نہیں کئے گئے۔ خیال رہے کہ کچھ روز قبل کمبھ میں بھگدڑ مچنے سے 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ حزب اختلاف کا الزام ہے کہ حکومت لوگوں کو سچائی نہیں بتا رہی اور اموات کی اصل تعداد کو چھاپایا جا رہا ہے۔
مرکزی کابینہ نے بجٹ 2025-26 کو منظوری دے دی ہے۔ کابینہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں بجٹ کی تجاویز کو حتمی منظوری دی گئی۔ منظوری کے بعد وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کچھ دیر میں لوک سبھا میں بجٹ پیش کریں گی۔
وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ پہنچ گئے، کابینہ میٹنگ جلد شروع ہوگی۔ بجٹ پیش کیے جانے سے قبل پارلیمنٹ میں کابینہ کی میٹنگ 10:25 بجے ہوگی جس میں بجٹ کو منظوری دی جائے گی۔ دریں اثنا، صدر جمہوریہ سے ملاقات کے بعد وزیر خزانہ نرملا سیتارمن بھی پارلیمنٹ پہنچ گئی ہیں۔
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بجٹ پیش کرنے سے قبل ہفتہ کو صدر جمہوریہ سے ملاقات کی۔ اس رسمی ملاقات کے بعد وہ پارلیمنٹ روانہ ہوئیں جہاں کچھ ہی دیر میں کابینہ کی اہم میٹنگ ہونے والی ہے۔ اس میٹنگ میں بجٹ سے متعلق آخری منظوری دی جائے گی۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں آج بجٹ پیش ہونے سے پہلے صبح 10:25 بجے کابینہ کی میٹنگ ہوگی، جس میں بجٹ کو منظوری دی جائے گی۔ اس دوران بجٹ کی کاپی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکی ہے۔ اسی دوران وزیر خزانہ نرملا سیتارمن راشٹرپتی بھون پہنچ گئی ہیں۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن وزارت خزانہ پہنچ گئی ہیں۔ وہ تھوڑی دیر میں بجٹ پیش کریں گی۔ بتا دیں کہ حکومت کا بجٹ سیشن کل ہی شروع ہو چکا ہے۔ قبل ازیں، وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری اور معاشی مشیر وی اننت ناگیشورن وزارت خزانہ پہنچ گئے۔
مرکزی بجٹ 2025-26 کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن صبح 11 بجے پارلیمنٹ میں ملک کا بجٹ پیش کریں گی۔ اس میں کچھ خاص اعلانات کی توقع کی جا رہی ہے۔ عام لوگوں سے لے کر کارپوریٹ دنیا کو اس بجٹ کا بے صبری سے انتظار ہے۔