بالی ووڈ

سادھنا: جس کے ’سادھنا کٹ‘ نے فیشن کی دنیا بدل دی

سادھنا شیوداسانی نے اپنی دلکش اداکاری، منفرد انداز اور ’سادھنا کٹ‘ سے ہندوستانی سنیما اور فیشن کی دنیا پر گہرا اثر چھوڑا۔ 34 فلموں کے اس سفر میں ’میرا سایہ‘ اور ’وہ کون تھی‘ یادگار رہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

ہندوستانی سنیما کی مایہ ناز اداکارہ سادھنا شیوداسانی کا شمار ان فنکاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے مختصر مگر شاندار فلمی سفر کے دوران نہ صرف اداکاری کے میدان میں اپنی منفرد شناخت قائم کی بلکہ اپنے انداز، لباس اور بالوں کے اسٹائل سے بھی ایک پورے عہد کے فیشن کو متاثر کیا۔ ان کا مشہور ہیئر اسٹائل ’سادھنا کٹ‘ آج بھی ہندوستانی فلمی فیشن کی تاریخ کا ایک یادگار حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

سادھنا کی پیدائش 2 ستمبر 1941 کو کراچی میں ہوئی تھی۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں۔ آٹھ برس کی عمر تک ان کی والدہ نے انہیں گھر پر ہی تعلیم و تربیت دی۔ ان کا نام ان کے والد کی پسندیدہ اداکارہ سادھنا بوس کے نام پر رکھا گیا تھا۔ ان کے خاندان کا تعلق بھی فلمی دنیا سے تھا۔ اداکار ہری شیوداسانی ان کے والد کے بھائی تھے اور مشہور اداکارہ ببیتا کے والد تھے۔

سادھنا نے 1955 میں راج کپور کی فلم ’شری 420‘ کے مقبول گیت ’مڑ مڑ کے نہ دیکھ‘ میں مختصر کردار کے ذریعے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ اس وقت ان کی عمر محض 15 برس تھی۔ تاہم بطور مکمل اداکارہ ان کی اصل شناخت فلم ’لو ان شملہ‘ سے بنی، جس نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

’لو ان شملہ‘ کی کامیابی کے بعد سادھنا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ان کی اداکاری میں ایک خاص وقار، نزاکت اور پراسرار کشش تھی، جس نے انہیں اپنے عہد کی دوسری اداکاراؤں سے ممتاز کیا۔ انہوں نے راج کپور، دیو آنند، راج کمار، راجندر کمار اور دیگر بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا اور متعدد کامیاب فلمیں اپنے نام کیں۔

ان کی نمایاں فلموں میں ’پرکھ‘، ’ہم دونوں‘، ’من موجی‘، ’دلہا دلہن‘، ’ایک پھول دو مالی‘، ’آرزو‘، ’میرے محبوب‘، ’وقت‘، ’میرا سایہ‘ اور ’وہ کون تھی‘ شامل ہیں۔ خاص طور پر ’میرا سایہ‘ اور ’وہ کون تھی‘ نے سادھنا کو ایک ایسی اداکارہ کے طور پر مستحکم کیا جو رومانوی کرداروں کے ساتھ ساتھ سنجیدہ اور پراسرار کردار بھی پوری مہارت سے ادا کرسکتی تھیں۔

سادھنا کی مقبولیت صرف ان کی اداکاری تک محدود نہیں تھی۔ ان کے بالوں کا منفرد انداز اس دور میں فیشن کا نیا رجحان بن گیا۔ پیشانی پر جھولتے قدرے چھوٹے اور ایک خاص انداز میں کٹے ہوئے بال ’سادھنا کٹ‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ ہندوستان بھر کی نوجوان لڑکیوں نے اس اسٹائل کو اپنایا اور یوں ایک فلمی اداکارہ کا ذاتی انداز ایک مقبول فیشن ٹرینڈ میں تبدیل ہو گیا۔

سادھنا نے اپنی پہلی فلم کے ہدایت کار رام کرشن نائر سے شادی کی۔ دونوں کی رفاقت طویل عرصے تک قائم رہی۔ رام کرشن نائر کا انتقال 1995 میں ہوا۔ سادھنا کی کوئی اپنی اولاد نہیں تھی، تاہم ان کے خاندان میں ایک گود لی ہوئی بیٹی تھی۔

فلمی اداکاری کے ساتھ سادھنا نے ہدایت کاری میں بھی قسمت آزمائی۔ انہوں نے ’گیتا میرا نام‘ کی ہدایت کاری کی، جس میں فیروز خان اور سنیل دت نے اداکاری کی تھی۔ بعد کے برسوں میں بھی انہوں نے فلم سازی اور ہدایت کاری سے وابستگی برقرار رکھی۔ 1989 میں ان کی پروڈکشن کمپنی نے ڈمپل کپاڈیا کے ساتھ ایک فلم بنائی، جس کی ہدایت کاری کی ذمہ داری بھی سادھنا نے سنبھالی۔

سادھنا کا فلمی کیریئر بہت طویل نہیں تھا۔ 1974 میں شمی کپور کے ساتھ ’چھوٹے سرکار‘ ان کی آخری فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے فلمی دنیا سے تقریباً کنارہ کشی اختیار کر لی، جبکہ ان کی آخری ریلیز ہونے والی فلم ’الفت کی نئی منزلیں‘ تھی، جو 1994 میں ریلیز ہوئی۔

انہیں 2002 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ عمر کے آخری برسوں میں سادھنا نے خود کو فلمی محافل اور عوامی تقریبات سے دور کرلیا تھا۔ ان کی قریبی سہیلیوں میں آشا پاریکھ، وحیدہ رحمان، ہیلن اور نندا جیسی معروف اداکارائیں شامل تھیں۔

سادھنا نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کرسمس کا تہوار بڑے جوش و خروش سے مناتی تھیں۔ مگر 2015 کا کرسمس ان کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا۔ 25 دسمبر 2015 کو ممبئی میں ان کا انتقال ہو گیا۔

سادھنا اپنے پیچھے 34 فلموں کی یادگار وراثت چھوڑ گئیں۔ ان کی فلمیں، اداکاری اور سب سے بڑھ کر ’سادھنا کٹ‘ آج بھی انہیں ان اداکاراؤں میں شامل رکھتے ہیں جنہوں نے پردۂ سیمیں سے نکل کر اپنے عہد کے معاشرتی اور فیشن رجحانات پر بھی گہرا اثر ڈالا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔