بالی ووڈ

ریما لاگو: بالی ووڈ کی وہ ماں جس نے ہر کردار میں محبت اور وقار کو زندہ کیا

ریما لاگو نے ہندی اور مراٹھی سنیما میں ماں کے کردار کو نئی شناخت دی۔ فلم، ٹی وی اور تھیٹر میں ان کی شاندار اداکاری نے انہیں لاکھوں ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا

<div class="paragraphs"><p>ریما لاگو / سوشل میڈیا</p></div>

ریما لاگو / سوشل میڈیا

 

ریما لاگو ہندوستانی سنیما کی اُن اداکاراؤں میں شمار کی جاتی ہیں جنہوں نے معاون کرداروں کو بھی مرکزی حیثیت عطا کر دی۔ ہندی اور مراٹھی فلموں کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن اور تھیٹر میں ان کی خدمات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ نوے کی دہائی میں انہوں نے فلموں میں ماں کے کردار کو ایک نئی شناخت دی۔ وہ صرف جذباتی یا روایتی ماں کے کردار تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے کرداروں میں شفقت، خود اعتمادی، وقار اور جذباتی گہرائی نمایاں نظر آتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ریما لاگو گھر گھر میں پہچانی جانے لگیں اور ناظرین نے انہیں حقیقی زندگی کی ماں جیسی محبت دی۔

ریما لاگو کی پیدائش 21 جون 1958 کو نین بھڈبھڈے کے نام سے ہوئی۔ ان کی والدہ منداکنی بھڈبھڈے مراٹھی تھیٹر کی معروف اداکارہ تھیں۔ فنکارانہ ماحول نے بچپن ہی سے ریما لاگو کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی اداکاری شروع کر دی تھی اور بطور چائلڈ آرٹسٹ کئی فلموں میں کام کیا۔ درگا کھوٹے کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’ماسٹر جی‘ سمیت متعدد پروجیکٹس میں ان کی ابتدائی اداکاری کو پسند کیا گیا۔

Published: undefined

تعلیم کے دوران بھی ان کی فنکارانہ صلاحیتیں نمایاں رہیں۔ پونے کے ہُزُورپاگا ایچ ایچ سی پی ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے وہ اسٹیج سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہیں۔ ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اداکاری کو باقاعدہ پیشہ بنا لیا۔ اگرچہ بچپن کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ اداکاری سے دوری اختیار کی لیکن بعد میں مراٹھی تھیٹر کے ذریعے انہوں نے شاندار واپسی کی۔

ممبئی آنے کے بعد ان کے فن کو نئی پہچان ملی۔ پی ایل دیشپانڈے کے ڈرامے ’مائی فیئر لیڈی‘ ایڈاپشن میں اداکاری نے انہیں تھیٹر حلقوں میں ممتاز کر دیا۔ اسی دوران انہوں نے یونین بینک آف انڈیا میں تقریباً دس برس ملازمت بھی کی۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ وہ تھیٹر، ٹی وی اور فلمی دنیا میں مسلسل سرگرم رہیں۔ بینکوں کے ثقافتی پروگراموں میں بھی ان کی شرکت نمایاں رہی۔

Published: undefined

ریما لاگو نے 1979 میں مراٹھی فلم ’سنگھاسن‘ کے ذریعے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ بعد ازاں انہوں نے ہندی فلموں میں بھی اپنی جگہ بنائی۔ 1988 میں ریلیز ہونے والی فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ نے انہیں وسیع پیمانے پر پہچان دلائی، جس میں انہوں نے جوہی چاولہ کی ماں کا کردار ادا کیا تھا۔ اسی سال فلم ’رہائی‘ میں ان کے کردار نے سنجیدہ اور متنازع موضوعات پر ان کی اداکاری کی صلاحیت کو بھی نمایاں کیا۔

اس کے بعد ان کے کیریئر کا وہ دور شروع ہوا جس نے انہیں ہندستانی سنیما کی سب سے مقبول اسکرین ماں بنا دیا۔ ’میں نے پیار کیا‘ میں انہوں نے سلمان خان کی ماں کا کردار ادا کیا۔ فلم بے حد کامیاب رہی اور ریما لاگو کے کردار کو بھی بے حد پسند کیا گیا۔ پھر ’ساجن‘ میں بھی ان کی اداکاری نے ناظرین کے دل جیت لیے۔

Published: undefined

انہوں نے متعدد کامیاب فلموں میں بڑے اداکاروں کی ماں کا کردار ادا کیا لیکن ہر کردار میں ایک نئی کیفیت اور انفرادیت پیدا کی۔ ’گمراہ‘ میں انہوں نے سری دیوی کی ماں کا کردار ادا کیا، جبکہ ’جے کشن‘ میں اکشے کمار کی والدہ بنیں۔ ’رنگیلا‘ میں ارملا ماتونڈکر کی ماں کے طور پر ان کی اداکاری کو بھی کافی سراہا گیا۔

ریما لاگو صرف جذباتی کرداروں تک محدود نہیں تھیں۔ انہوں نے فلم ’آکروش‘ میں رقاصہ جبکہ ’یہ دل لگی‘ میں ایک سخت مزاج کاروباری خاتون کا کردار بھی ادا کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کے کردار نبھانے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ ان کے کیریئر میں کئی بڑی ہٹ فلمیں شامل ہیں، جن میں ’ہم آپ کے ہیں کون‘، ’دل والے‘، ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘، ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘، ’واستو: دی ریئلٹی‘ اور ’کل ہو نہ ہو‘ شامل ہیں۔

Published: undefined

فلم ’واستو: دی ریئلٹی‘ میں انہوں نے ایک گینگسٹر کی ماں کا کردار ادا کیا تھا، جس کے لیے انہیں بہترین معاون اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ ٹیلی ویژن کی دنیا میں بھی ریما لاگو نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ ’شری مان شری متی‘ میں کوکیلا کلکرنی اور ’تو تو میں میں‘ میں دیوکی ورما کے کردار آج بھی ناظرین کو یاد ہیں۔ ان دونوں سیریلز نے انہیں گھر گھر میں مقبول بنا دیا۔ ان کی مزاحیہ اداکاری، مکالمہ ادا کرنے کا انداز اور گھریلو کرداروں میں حقیقت پسندی ناظرین کو بے حد متاثر کرتی تھی۔

مراٹھی سنیما میں بھی ان کی خدمات قابل ذکر رہیں۔ فلم ’ریشم گاٹھ‘ میں بہترین اداکاری پر انہیں مہاراشٹر اسٹیٹ فلم ایوارڈ دیا گیا۔ 2011 کی فلم ’جنما‘ میں ان کے کردار کو ناقدین نے ان کے بہترین کرداروں میں شمار کیا۔ مراٹھی تھیٹر اور سنیما میں خدمات کے اعتراف میں انہیں وی شانتارام ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

Published: undefined

ذاتی زندگی میں ریما لاگو نے 1978 میں تھیٹر اداکار وویک لاگو سے شادی کی۔ شادی کے بعد انہوں نے ’لاگو‘ سرنیم اختیار کیا۔ بعد میں دونوں کی راہیں جدا ہو گئیں، تاہم ان کی ایک بیٹی مرنیما لاگو ہے، جو اداکارہ اور تھیٹر ہدایت کار کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

17 مئی 2017 کو بھی ریما لاگو معمول کے مطابق شوٹنگ میں مصروف تھیں۔ وہ ٹی وی سیریل ’نام کرن‘ کی شوٹنگ کر رہی تھیں اور بظاہر مکمل طور پر صحت مند دکھائی دے رہی تھیں۔ اسی رات سینے میں درد کی شکایت کے بعد انہیں ممبئی کے کوکیلا بین دھیروبھائی امبانی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی اچانک موت نے فلم اور ٹی وی انڈسٹری سمیت لاکھوں مداحوں کو غمزدہ کر دیا۔

ریما لاگو نے ہندستانی سنیما میں ماں کے کردار کو محض ایک رسمی کردار نہیں رہنے دیا بلکہ اسے جذبات، وقار اور انسانیت کی ایک مکمل تصویر بنا دیا۔ ان کی اداکاری آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں زندہ ہے، اور آنے والی نسلیں انہیں ہندستانی فلمی دنیا کی سب سے باوقار اور یادگار اداکاراؤں میں شمار کرتی رہیں گی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined