
راج کمار / سوشل میڈیا
راج کمار ہندی سنیما کی تاریخ کے ان عظیم اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد شخصیت، رعب دار آواز، باوقار اندازِ گفتگو اور جاندار اداکاری کے ذریعے فلمی دنیا میں ایک ایسا مقام حاصل کیا جو آج بھی شائقین کے دلوں میں محفوظ ہے۔ تین جولائی کو ان کی برسی کے موقع پر فلمی حلقے اور مداح انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ ان کا اصل نام کل بھوشن پنڈت تھا اور وہ آٹھ اکتوبر انیس سو چھبیس کو بلوچستان میں پیدا ہوئے تھے، جو اس وقت متحدہ ہندوستان کا حصہ تھا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ممبئی کے ماہم پولیس اسٹیشن میں سب انسپکٹر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک رات گشت کے دوران ایک سپاہی نے ان کی وجاہت اور شخصیت کی تعریف کرتے ہوئے انہیں فلموں میں قسمت آزمانے کا مشورہ دیا۔ یہ بات ان کے دل میں گھر کر گئی۔ اسی دوران پولیس اسٹیشن میں فلم ساز بلدیو دوبے کسی کام سے آئے۔ وہ راج کمار کے اندازِ گفتگو سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں اپنی فلم ’’شاہی بازار‘‘ میں کام کرنے کی پیشکش کر دی۔ راج کمار نے فوراً ملازمت سے استعفیٰ دے کر فلمی دنیا کا رخ کر لیا۔
Published: undefined
اگرچہ ’شاہی بازار‘ کی تکمیل میں کافی وقت لگا، اس دوران معاشی مشکلات کے باعث انہوں نے انیس سو باون میں فلم ’رنگیلی‘ میں ایک مختصر کردار قبول کیا، مگر یہ فلم کامیاب نہ ہو سکی۔ بعد ازاں ’شاہی بازار‘ بھی باکس آفس پر ناکام رہی۔ مسلسل ناکامیوں کے باعث کئی لوگوں نے انہیں فلموں کے لیے ناموزوں قرار دیا، جبکہ بعض کا خیال تھا کہ وہ منفی کرداروں میں زیادہ موزوں رہیں گے۔ اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور جدوجہد جاری رکھی۔
انیس سو باون سے انیس سو ستاون کے درمیان انہوں نے متعدد فلموں میں مختلف کردار ادا کیے، مگر کامیابی ان سے دور رہی۔ ان کی قسمت اس وقت بدلی جب انہیں فلم ’مدر انڈیا‘ میں ایک کسان کا کردار ملا۔ اگرچہ فلم کی مرکزی شخصیت نرگس تھیں، لیکن مختصر کردار میں بھی راج کمار نے اپنی مضبوط اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا۔ فلم کی عالمی کامیابی نے انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان دلائی اور فلمی دنیا میں ان کی حیثیت مستحکم ہو گئی۔
Published: undefined
اس کے بعد ’پیغام‘ میں انہوں نے دلیپ کمار کے مدمقابل اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ ’دل اپنا اور پریت پرائی‘، ’گھرانہ‘، ’گودان‘، ’دل ایک مندر‘ اور ’دوج کا چاند‘ جیسی فلموں نے انہیں صفِ اول کے اداکاروں میں شامل کر دیا۔ وقت کے ساتھ وہ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں وہ اپنی پسند کے کردار منتخب کرنے لگے۔
1965 میں ریلیز ہونے والی فلم ’کاجل‘ نے ان کی شہرت میں مزید اضافہ کیا، جبکہ اسی برس بی آر چوپڑا کی فلم ’وقت‘ نے انہیں بے مثال مقبولیت عطا کی۔ اس فلم میں ادا کیے گئے ان کے مکالمے آج بھی زبان زدِ عام ہیں اور ان کی آواز و انداز کی نقل آج بھی فنونِ اداکاری کے شائقین کرتے ہیں۔ ان کے مکالموں کی ادائیگی نے فلمی تاریخ میں ایک منفرد روایت قائم کی جس نے آنے والی نسلوں کے اداکاروں کو بھی متاثر کیا۔
Published: undefined
راج کمار نے ’نیل کمل‘، ’میرے حضور‘، ’ہیر رانجھا‘ اور ’پاکیزہ‘ جیسی فلموں میں رومانوی کردار بھی ادا کیے۔ اگرچہ ان کی شخصیت زیادہ تر باوقار اور مضبوط کرداروں سے منسوب رہی، تاہم انہوں نے ہر طرح کے کردار میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔ فلم ’پاکیزہ‘ میں ان کا ادا کیا گیا مکالمہ ’آپ کے پاؤں دیکھے، بہت حسین ہیں، انہیں زمین پر مت رکھیے گا، میلے ہو جائیں گے‘ آج بھی ہندی سنیما کے یادگار ترین مکالموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
راج کمار نے اپنی پوری فلمی زندگی میں یہ ثابت کیا کہ اداکار کی اصل طاقت صرف ظاہری شخصیت نہیں بلکہ آواز، مکالمے کی ادائیگی، اعتماد اور کردار میں ڈھل جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کے برسوں بعد بھی ان کا نام ہندی سنیما کے عظیم ترین اداکاروں میں احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے اور ان کا منفرد انداز آج بھی فلمی دنیا کے لیے ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined