بالی ووڈ

محمود: مزاحیہ اداکاری سے دل جیتنے والا فنکار، جس کی فلم میں موجودگی کامیابی کی ضمانت تھی

محمود نے مزاحیہ اداکاری کو نئی شناخت دی اور چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک فلمی دنیا پر چھائے رہے۔ ان کی زندگی سے وابستہ کئی دلچسپ واقعات ایسے ہیں جن سے ان کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے

<div class="paragraphs"><p>اداکار محمود / تصویر سوشل میڈیا</p></div>

اداکار محمود / تصویر سوشل میڈیا

 

ہندوستانی سنیما میں محمود ان فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں جن کی اسکرین پر موجودگی ہی فلم میں جان ڈال دیتی تھی۔ انہوں نے مزاحیہ اداکاری کو ایک الگ شناخت دی اور کئی دہائیوں تک اپنی بے مثال اداکاری، مخصوص انداز اور برجستہ مکالموں سے ناظرین کو محظوظ کیا۔ اداکاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے فلم سازی اور ہدایت کاری میں بھی اپنی صلاحیتیں آزمائیں۔

محمود کی زندگی فلمی دنیا سے جڑے کئی دلچسپ واقعات سے بھری ہوئی تھی۔ ان کی شخصیت اور فلمی سفر کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ وہ نئے فنکاروں کی صلاحیت کو پہچاننے میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ انہی کی سرپرستی میں امیتابھ بچن کو بھی فلم ’بمبئی ٹو گوا‘ میں اہم موقع ملا، جو آگے چل کر ان کے کیریئر کے لیے اہم ثابت ہوا۔

محمود علی 29 ستمبر 1932 کو بمبئی، جو اب ممبئی کے نام سے جانا جاتا ہے، میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ممتاز علی اپنے دور کے معروف ڈانسر اور اداکار تھے۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کے باوجود محمود کا بچپن آسان نہیں تھا۔ خاندان کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو انہیں کم عمری میں ہی کام کرنا پڑا۔

انہوں نے 1943 میں ریلیز ہونے والی فلم ’قسمت‘ میں بطور چائلڈ آرٹسٹ فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ بعد میں انہوں نے کئی چھوٹے موٹے کام کیے اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ فلم ساز پی ایل سنتوشی کے ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ انہیں فلموں میں کام کے مواقع ملنے لگے۔ ’دو بیگھا زمین‘ اور ’پیاسا‘‘جیسی فلموں میں انہوں نے چھوٹے کردار ادا کیے۔

1958 میں ریلیز ہونے والی ’پرورش‘ ان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوئی، جس میں انہوں نے راج کپور کے بھائی کا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد انہیں مسلسل فلموں میں کام ملنے لگا اور 1960 اور 1970 کی دہائی میں ان کی مزاحیہ اداکاری نے انہیں گھر گھر مقبول بنا دیا۔ گمنام، پیار کیے جا، پڑوسن، بمبئی ٹو گوا، دو پھول، کنوارا باپ اور سب سے بڑا روپیہ جیسی فلموں میں ان کے کردار خاص طور پر پسند کیے گئے۔ فلم ’پڑوسن‘ میں ماسٹر پلئی کا کردار آج بھی ان کی یادگار پرفارمنس میں شمار کیا جاتا ہے۔

محمود کی خاص بات یہ تھی کہ وہ صرف کامیڈین بن کر محدود نہیں رہے۔ وقت کے ساتھ ان کا نام خود فلم کی کشش بن گیا تھا۔ ان کے بھائی انور علی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ایک دور ایسا بھی آیا جب محمود کی موجودگی کی خبر ہی فلم کے ڈسٹری بیوٹرز میں جوش پیدا کر دیتی تھی۔

اسی دوران محمود نے امیتابھ بچن کے ساتھ آئے ایک نوجوان کو دیکھا اور دلچسپ غلط فہمی کا شکار ہو گئے۔ مصنف حنیف زویری کی کتاب ’’محمود: اے مین آف مینی موڈز‘‘ کے مطابق، ’’بمبئی ٹو گوا‘‘ کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل امیتابھ بچن دہلی سے آئے اپنے ایک نوجوان دوست کو ممبئی لائے۔ محمود نے اس نوجوان کو دیکھا تو انہیں لگا کہ وہ نہایت اسمارٹ اور پرکشش ہے اور مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر بڑا نام بن سکتا ہے۔

محمود نے فوراً 5 ہزار روپے نکالے اور اپنے بھائی انور علی سے کہا کہ یہ رقم امیتابھ کے دوست کو دے دیں۔ ان کا مقصد اس نوجوان کو اپنی اگلی فلم کے لیے سائن کرنا تھا۔ انور علی کو جب اس معاملے کی وجہ سمجھ نہیں آئی تو انہوں نے محمود کو بتایا کہ وہ نوجوان کوئی نیا اداکار نہیں بلکہ راجیو گاندھی ہیں، جو اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بیٹے ہیں۔ یہ سن کر محمود نے رقم واپس لے لی۔ بتایا جاتا ہے کہ امیتابھ بچن اور راجیو گاندھی دونوں اس واقعے پر خوب ہنسے تھے۔

بعد میں جب راجیو گاندھی ملک کے وزیر اعظم بنے تو امیتابھ بچن نے مذاق میں کہا تھا کہ محمود کی بات بالآخر درست ثابت ہوئی؛ راجیو گاندھی واقعی ’انٹرنیشنل اسٹار‘بنے، لیکن فلمی دنیا میں نہیں بلکہ سیاست کے میدان میں۔ محمود کو ان کی اداکاری کے لیے چار فلم فیئر ایوارڈز بھی ملے۔ ’پیار کیے جا‘، ’وارث‘ اور ’وردان‘ سمیت مختلف فلموں میں ان کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں انہوں نے 300 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔

محمود کا انتقال 23 جولائی 2004 کو 71 برس کی عمر میں امریکہ کی ریاست پنسلوانیا میں ہوا۔ تاہم اپنی مخصوص اداکاری، مزاحیہ انداز اور یادگار کرداروں کے باعث وہ آج بھی ہندی سنیما کے مقبول ترین مزاحیہ فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔