بالی ووڈ

کشور کمار: وہ آواز جو وقت سے آگے نکل گئی، مگر دلوں سے کبھی رخصت نہ ہوئی

کشور کمار ایک گلوکار نہیں بلکہ برصغیر کی اجتماعی یادداشت کی آواز تھے۔ ان کی گائیکی، اداکاری، ہدایت کاری اور بے ساختہ شخصیت نے انہیں ایک ایسا فنکار بنایا جس کے نغمے آج بھی نسلوں کے دلوں میں زندہ ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

کبھی الوداع نہ کہنا… یہی تو کشور کمار کی اصل پہچان ہے۔ ان کی آواز صرف فلمی پردے تک محدود نہیں رہی بلکہ محبت، جدائی، خوشی، شرارت، تنہائی اور زندگی کے بے شمار رنگوں کی ترجمان بن کر کروڑوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے بس گئی۔ یہی وجہ ہے کہ 4 اگست کو ان کی سالگرہ محض ایک عظیم گلوکار کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ اس آواز کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع بھی ہے جو وقت گزرنے کے باوجود آج بھی تازہ محسوس ہوتی ہے۔

4 اگست 1929 کو مدھیہ پردیش کے شہر کھنڈوا میں ایک متوسط بنگالی خاندان میں پیدا ہونے والے آبھاس کمار گنگولی بعد میں پوری دنیا کے لیے کشور کمار بن گئے۔ ان کے والد کنجی لال گنگولی وکیل تھے اور چاہتے تھے کہ بیٹا بھی اسی پیشے سے وابستہ ہو، مگر کشور کا دل موسیقی میں دھڑکتا تھا۔ وہ بچپن ہی سے کے ایل سہگل کے دیوانے تھے اور انہی کی طرح گلوکار بننے کا خواب آنکھوں میں سجائے ممبئی پہنچے۔

ممبئی میں ان کے بڑے بھائی اشوک کمار فلمی دنیا کے معروف اداکار تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ کشور بھی ہیرو بنیں، لیکن کشور کی منزل کچھ اور تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی استاد سے باقاعدہ موسیقی نہیں سیکھی، مگر قدرت نے انہیں ایسی منفرد آواز عطا کی تھی جو آگے چل کر ہندوستانی فلمی موسیقی کی پہچان بن گئی۔

فلمی سفر کا آغاز اگرچہ اداکار کے طور پر ہوا، لیکن قسمت نے انہیں گلوکاری کے لیے چنا تھا۔ 1948 میں فلم ضدی میں دیو آنند کے لیے گایا گیا نغمہ ’مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں‘ ان کا پہلا فلمی گیت تھا، جس میں کے ایل سہگل کا واضح اثر محسوس ہوتا ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ انہوں نے اپنی الگ شناخت قائم کی اور پھر وہ انداز وجود میں آیا جس کی نقل ممکن نہ تھی۔

1958 میں چلتی کا نام گاڑی اور بعد ازاں پڑوسن جیسی فلموں نے انہیں ایک شاندار مزاحیہ اداکار کے طور پر بھی امر کر دیا۔ ان کی بے ساختہ اداکاری، منفرد چہرے کے تاثرات اور فطری مزاح نے ثابت کیا کہ وہ صرف گلوکار نہیں بلکہ مکمل فنکار تھے۔

لیکن کشور کمار کی زندگی کا اصل موڑ 1969 میں آیا، جب شکتی سامنت کی فلم آرادھنا ریلیز ہوئی۔ راجیش کھنہ پر فلمائے گئے ’میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو‘اور ’روپ تیرا مستانہ‘ نے نہ صرف پورے ملک کو اپنی دھن پر جھومنے پر مجبور کر دیا بلکہ کشور کمار کو گائیکی کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بنا دیا۔ اسی فلم پر انہیں پہلا فلم فیئر ایوارڈ ملا اور پھر کامیابیوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو برسوں جاری رہا۔

اس کے بعد رومانوی نغمہ ہو یا درد بھرا گیت، شوخ و شرارتی دھن ہو یا فلسفیانہ کلام، کشور کمار ہر کیفیت کو اپنی آواز میں اس طرح سمو دیتے تھے جیسے گیت انہی کے لیے لکھا گیا ہو۔ یہی ان کی سب سے بڑی خوبی تھی کہ وہ ہر اداکار کی شخصیت کے مطابق اپنی آواز کا رنگ بدل لیتے تھے۔ راجیش کھنہ، امیتابھ بچن، دیو آنند، جتیندر اور متھن چکرورتی سمیت کئی بڑے ستاروں کی اسکرین شخصیت کو ان کی آواز نے نئی زندگی دی۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ کشور کمار صرف گلوکار اور اداکار ہی نہیں تھے بلکہ ہدایت کار، موسیقار، شاعر، مصور اور غیر معمولی تخلیقی ذہن کے مالک بھی تھے۔ دور گگن کی چھاؤں میں، دور کا راہی، بڑھتی کا نام داڑھی، شاباش ڈیڈی، چلتی کا نام زندگی اور ممتا کی چھاؤں جیسی فلموں کی ہدایت کاری نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا ایک اور رخ سامنے رکھا۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے اور ’کوی کشور دا‘ کے نام سے اپنا کلام لکھتے تھے۔

کشور کمار کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو ان کی فیاضی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جب ستیہ جیت رے اپنی شہرۂ آفاق فلم پاتھیر پانچالی بنانے کے لیے مالی مشکلات سے دوچار تھے تو کشور کمار نے خاموشی سے ان کی مالی مدد کی۔ شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود ان میں سادگی اور انسان دوستی برقرار رہی۔

آٹھ فلم فیئر ایوارڈز اپنے نام کرنے والے کشور کمار نے 600 سے زائد ہندی فلموں کے علاوہ بنگلہ، مراٹھی، آسامی، گجراتی، کنڑ، بھوجپوری اور اڑیہ زبانوں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔ ان کی ہم عصر شخصیات میں محمد رفیع اور منا ڈے جیسے عظیم گلوکار موجود تھے، لیکن کشور نے اپنی انفرادی طرزِ گائیکی سے الگ مقام حاصل کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب محمد رفیع نے کشور کمار کے لیے گیت گائے تو اس کی اجرت صرف ایک روپیہ لی، جو دونوں فنکاروں کے باہمی احترام کی خوبصورت مثال ہے۔

زندگی کے آخری برسوں میں کشور کمار اکثر کہا کرتے تھے، ’دودھ جلیبی کھائیں گے، کھنڈوا میں بس جائیں گے۔‘ ان کی خواہش تھی کہ فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد اپنے آبائی شہر لوٹ جائیں، مگر یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ 13 اکتوبر 1987 کو دل کا دورہ پڑنے سے وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔

آج ان کی آواز کو خاموش ہوئے دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کشور کمار نے کبھی الوداع نہیں کہا۔ جب بھی ریڈیو پر ان کا کوئی نغمہ گونجتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت چند لمحوں کے لیے ٹھہر گیا ہو۔ یہی کسی عظیم فنکار کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ جسمانی طور پر رخصت ہونے کے بعد بھی اپنی آواز، اپنے فن اور اپنی یادوں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

(ان پٹ: یو این آئی)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔