بالی ووڈ

دہلی ہائی کورٹ نے سنجے کپور کی جائیداد کی فروخت پر لگائی روک، کرشمہ کپور کو بڑی راحت

دہلی ہائی کورٹ نے سنجے کپور کی جائیداد کی فروخت اور منتقلی پر عبوری پابندی لگا دی ہے۔ عدالت نے بینک کھاتوں کی نگرانی اور وصیت کی صداقت پر سوالات کے حل تک تمام اثاثوں کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا

<div class="paragraphs"><p>کرشمہ کپور / آئی اے این ایس</p></div>

کرشمہ کپور / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے سنجے کپور کی جائیداد سے متعلق اہم معاملے میں اداکارہ کرشمہ کپور اور ان کے بچوں سمایرا اور کیان کو بڑی راحت فراہم کی ہے۔ عدالت نے واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ جب تک بچوں کی جانب سے دائر مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک سنجے کپور کی کسی بھی جائیداد کو فروخت یا منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ جائیداد کو محفوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ ناانصافی سے بچا جا سکے۔ جسٹس جیوتی سنگھ نے سماعت کے دوران کہا کہ اگر بعد میں وصیت کو غیر مستند قرار دیا جاتا ہے تو اس کا براہ راست نقصان بچوں کو ہوگا، اس لیے فی الحال تمام اثاثوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

Published: undefined

ہائی کورٹ نے پریا کپور کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ تو کسی جائیداد کو فروخت کر سکتی ہیں اور نہ ہی اس کی منتقلی کر سکتی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وصیت کی صداقت پر جو سوالات اٹھائے گئے ہیں، ان کا تسلی بخش جواب دینا پریا کپور کی ذمہ داری ہے۔

Published: undefined

دالت نے سنجے کپور کے بینک کھاتوں کے حوالے سے بھی اہم ہدایات جاری کیں۔ حکم کے مطابق تمام بینک کھاتوں کے لین دین کی تفصیلات عدالت میں پیش کرنا لازمی ہوگا۔ مزید یہ کہ عدالت نے ان کھاتوں کے آپریشن پر عبوری روک لگاتے ہوئے انہیں فریز کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی مالی سرگرمی بغیر نگرانی کے انجام نہ دی جا سکے۔

Published: undefined

اس کے علاوہ عدالت نے سنجے کپور کے غیر ملکی بینک کھاتوں اور کرپٹو کرنسی سے متعلق سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف روایتی جائیداد بلکہ ڈیجیٹل اثاثوں کو بھی فروخت یا منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ انڈینب کمپنیوں میں موجود حصص یا ایکویٹی کو الگ کرنے، منتقل کرنے یا رہن رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ مقدمے کے فیصلے تک جائیداد کی اصل حالت برقرار رہے۔

Published: undefined

ہائی کورٹ نے کہا کہ وصیت کی قانونی حیثیت کا فیصلہ ٹرائل کے دوران ہوگا لیکن اس دوران کسی بھی قسم کی جلد بازی یا اثاثوں میں تبدیلی مستقبل میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے جمود کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے تاکہ تمام فریقین کو منصفانہ موقع مل سکے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined