بالی ووڈ

ایک ادھوری محبت اور درد کی شاعری، جس نے نداؔ فاضلی کو امر کر دیا

ادھوری محبت کے صدمے نے نداؔ فاضلی کو شاعری کی طرف مائل کیا۔ سادہ لفظوں میں محبت، جدائی اور زندگی کے احساسات بیان کرنے والے ان کے اشعار ذاتی درد سے نکل کر لاکھوں دلوں کی آواز بن گئے

<div class="paragraphs"><p>ندا فاضلی / آئی اے این ایس</p></div>

ندا فاضلی / آئی اے این ایس

 

شاعری کرنا شاید آسان ہو، لیکن ایسے الفاظ تخلیق کرنا مشکل ہے جو کسی کو اس کا درد یاد دلا دیں، کسی کے دل میں محبت کا احساس جگا دیں اور کسی کو زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا حوصلہ بخشیں۔ ہندی اور اردو ادب میں نداؔ فاضلی ایک ایسا ہی نام ہیں، جن کی شاعری سیدھی دل میں اترتی ہے۔ انہوں نے عام انسان کی زندگی، اس کی جدوجہد، رشتوں، محبت اور انسانیت کے جذبات کو اس قدر سادہ لفظوں میں بیان کیا کہ ان کے اشعار لوگوں کی زبان پر چڑھ گئے۔ آج بھی ان کی شاعری پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے، جیسے وہ ہمارے ہی دل کی بات کہہ رہے ہوں۔

نداؔ فاضلی کا اصل نام مقتدا حسن تھا۔ وہ 12 اکتوبر 1938 کو دہلی میں پیدا ہوئے، لیکن ان کا بچپن گوالیار میں گزرا، جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد مرتضیٰ حسن بھی شاعری کرتے تھے، اس لیے ادب سے ان کا تعارف بچپن ہی سے ہو گیا تھا۔ تاہم، ان کی شاعری کی اصل آواز زندگی کے تجربات اور احساسات کے درمیان آہستہ آہستہ نکھری۔

کالج کے زمانے میں انہیں ایک لڑکی سے محبت ہوگئی تھی۔ وہ لڑکی ان کے آگے والی قطار میں بیٹھا کرتی تھی۔ پھر ایک دن کالج کے نوٹس بورڈ پر یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ ایک حادثے میں اس لڑکی کی موت ہوگئی ہے۔ یہ خبر نداؔ فاضلی کے لیے ایک گہرا صدمہ ثابت ہوئی۔ ان کے اندر درد کا ایک طوفان اٹھا، لیکن اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں تھے۔ یہی بے بسی انہیں اپنے جذبات کو سمجھنے اور انہیں لفظوں میں ڈھالنے کی طرف لے گئی۔

یوں ایک ادھوری محبت اور جدائی کا ذاتی تجربہ ان کے تخلیقی سفر کا اہم موڑ بن گیا۔ ان کے اندر موجود احساسات نے اظہار کا راستہ تلاش کرنا شروع کیا اور شاعری رفتہ رفتہ ان کی زندگی کا لازمی حصہ بنتی چلی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک صبح نداؔ فاضلی ایک مندر کے قریب سے گزر رہے تھے، جہاں انہوں نے سور داس کا بھجن ’مدھوبن تم کیوں رہت ہرے؟‘ سنا۔ اس بھجن میں کرشن کی جدائی میں رادھا اور گوپیوں کے دکھ اور بے قراری کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کی تاثیر نے انہیں گہرائی سے متاثر کیا۔

انہیں احساس ہوا کہ جدائی اور بچھڑنے کا درد محض ان کا ذاتی تجربہ نہیں، بلکہ یہ انسانی احساسات کا ایسا حصہ ہے جسے مختلف زمانوں اور معاشروں کے لوگ اپنے اپنے انداز میں محسوس کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے کبیر، تلسی داس، سور داس، میرا بائی اور بابا فرید جیسے صوفیانہ اور بھکتی روایت کے شعرا کو پڑھا۔ میر اور غالب کی شاعری سے بھی انہیں تحریک ملی۔ ان ادبی تجربات نے ان کے شعری شعور کو وسعت دی اور انہیں ایسی زبان اختیار کرنے میں مدد دی جو سادہ ہونے کے باوجود گہرے جذبات اور زندگی کے پیچیدہ تجربات کو بیان کرسکے۔

تقسیم ہند کے دوران نداؔ فاضلی کے والدین پاکستان چلے گئے، لیکن انہوں نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ خاندان سے دور رہ کر اپنی زندگی بنانا آسان نہیں تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے روزگار اور ادبی دنیا میں اپنی جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کی۔

1964 میں وہ ممبئی چلے گئے اور وہاں مختلف رسائل و جرائد کے لیے لکھنے لگے۔ رفتہ رفتہ ان کی شناخت قائم ہونے لگی اور 1969 میں ان کا اردو شعری مجموعہ بھی شائع ہوا۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس میں بناوٹ یا لفظی پیچیدگی نہیں تھی۔ وہ زندگی کو جس طرح دیکھتے اور محسوس کرتے تھے، اسی طرح سادہ مگر اثر انگیز الفاظ میں بیان کردیتے تھے۔

نداؔ فاضلی نے ادب کے ساتھ ہندی فلموں میں بھی اپنی الگ پہچان بنائی۔ فلم ’رضیہ سلطان‘ سے ان کے فلمی نغموں کے سفر کا آغاز ہوا۔ بعد میں انہوں نے کئی ایسے گیت لکھے جو آج بھی سامعین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ فلم ’آہستہ آہستہ‘ کا گیت ’کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا‘ اور فلم ’سرفروش‘ کا گیت ’ہوش والوں کو خبر کیا، بے خودی کیا چیز ہے‘ ان کی مقبول تخلیقات میں شمار ہوتے ہیں۔ نداؔ فاضلی نے اپنی زندگی کے تجربات، محبت کے احساس اور جدائی کے درد کو شاعری میں ڈھالا، لیکن ان کی تخلیقات صرف ان کی ذاتی کہانی بن کر نہیں رہ گئیں۔ انہوں نے انفرادی جذبات کو اس انداز میں بیان کیا کہ وہ اجتماعی احساسات کا حصہ بن گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔