
فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس
یمن میں حوثی باغیوں نے عبوری دارالحکومت عدن میں صدارتی محل کمپلیکس پر متعدد میزائل داغے۔ اس حملے میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ حملے کے وقت وزیر اعظم اور کئی وزراء کمپلیکس میں موجود تھے۔ تاہم اعلیٰ سرکاری اہلکار بال بال بچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق صدارتی محل کے احاطے کے ارد گرد کم از کم پانچ زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حملے کے بعد کمپلیکس کے اوپر دھوئیں کا ایک بڑا بادل نمودار ہوا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق کم از کم پانچ میزائل کمپلیکس پر گرے۔ حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدن میں سعودی عرب کے فوجی آپریشن ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔
حوثی فوج کے ترجمان یحیی ساری نے کہا کہ یہ حملہ سعودی عرب کی فوجی تعیناتیوں کو نشانہ بنانے کی ان کی بیان کردہ پالیسی کا حصہ ہے۔ جہاں کہیں بھی سعودی عسکری سرگرمی اور تعیناتی کا مشاہدہ کیا جائے گا، وہ ان مقامات کو نشانہ بنائے گا۔ ادھر سعودی حمایت یافتہ یمنی فوج کا الزام ہے کہ حوثیوں نے سعودی عرب میں کئی ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم مقامات پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں۔
یمنی فوج کے ترجمان ترکی المالکی نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے رواں ماہ ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 20 حملے کیے، جن میں 17 افراد ہلاک اور 333 زخمی ہوئے۔ اتحاد نے جنوب مغربی سعودی عرب کی سرحد کے قریب واقع ابہا ایئرپورٹ پر حملوں میں تین ہلاکتوں اور 28 کے زخمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔
سعودی زیرقیادت فوجی اتحاد کے ترجمان المالکی نے الزام لگایا کہ حوثی خطے میں بعض جماعتوں کی مدد سے جدید فوجی ٹیکنالوجی حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس گروپ کے پاس بیلسٹک میزائل، ڈرون اور دھماکہ خیز مواد سے بھری تیز کشتیاں ہیں۔ المالکی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اتحاد نے یمن کے پہاڑی علاقوں میں 127 ہتھیاروں کے ذخیرے اور میزائل لانچ کرنے کے مقامات کو تباہ کر دیا ہے۔ المالکی کے بیان کے فوراً بعد حوثی فوجی ترجمان نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے ایئر لائنز کو انتباہ کا اعادہ کیا۔ تاہم، اس انتباہ میں مکہ اور مدینہ کی فضائی حدود شامل نہیں تھیں۔
یمن میں تنازعہ 2014 میں اس وقت شروع ہوا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد، 2015 میں سعودی زیرقیادت فوجی اتحاد نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کی۔ اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 میں جنگ بندی ہوئی تھی جس کے بعد بڑے پیمانے پر لڑائی بڑی حد تک ختم ہو گئی تھی۔ چھ ماہ بعد رسمی معاہدہ ختم ہونے کے بعد بھی غیر رسمی جنگ بندی جاری رہی۔ تاہم دیرپا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔