
اسرائیل و امریکہ کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملوں نے تباہی کا ایک دردناک منظر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ مذاکرات کی کوششیں جاری ضرور ہیں، لیکن یہ جنگ فی الحال ختم ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس درمیان ایران نے 5 عرب ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے علاقوں کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اسی اجازت کے سبب امریکہ و اسرائیل کو طاقت ملی، اور اس نے حملوں کا ایک دراز سلسلہ شروع کر دیا۔
Published: undefined
’پریس ٹی وی‘ کے مطابق ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے بحرین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اردن کے ذریعہ معاوضہ سے متعلق کیے گئے مطالبات کو خارج کر دیا ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیریس اور سیکورٹل کونسل کے سربراہ جمال فاریس الرووائی کو اس سلسلے میں ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں کہا ہے کہ عرب ممالک نے اپنے علاقوں کو کھول کر امریکہ و اسرائیل کی مدد کی ہے۔ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حملہ کا شکار ہوا ہے، اور اپنی حفاظت کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کر رہا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ امریکی بحریہ نے پیر سے سبھی ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ اس سے ایران سخت ناراض ہو گیا ہے۔ جواب میں ایران نے خلیج فارس اور خلیج عمان کے سبھی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ اس سے دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی ناکام ہونے اور جنگ پھر سے شروع ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: یو این آئی، Pappi Sharma