
تصویر سوشل میڈیا
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے گریٹ نکوبار منصوبے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دو ماہرین کے ساتھ ایک تفصیلی ویڈیو گفتگو جاری کی ہے، جس میں ماحولیات، مرجانی چٹانوں (کورل ریف) اور مقامی قبائلی برادریوں پر اس منصوبے کے ممکنہ اثرات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ گفتگو میں مرجانی چٹانوں کے ماہر ڈاکٹر وردھن پاٹنکر اور انڈمان و نکوبار میں طویل عرصے سے تحقیق کرنے والے محقق ڈاکٹر منیش چانڈی نے حصہ لیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ وہ حال ہی میں انڈمان و نکوبار جزائر کے دورے پر گئے تھے، جہاں انہوں نے گریٹ نکوبار کے جنگلات، ساحلی علاقوں اور مقامی آبادی سے ملاقات کی۔ ان کے مطابق وہاں موجود قدرتی وسائل اور حیاتیاتی تنوع غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں اور مجوزہ منصوبے کے اثرات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
ڈاکٹر وردھن پاٹنکر نے بتایا کہ وہ 2005 سے نکوبار کی مرجانی چٹانوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ علاقہ دنیا کے اہم ترین سمندری حیاتیاتی خطوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں مرجانی چٹانوں کی غیر معمولی تنوع پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سونامی اور سمندری درجہ حرارت میں اضافے جیسے چیلنجوں کے باوجود کئی علاقوں میں مرجانی چٹانوں نے قابل ذکر بحالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ منصوبے کے علاقے کے قریب موجود چٹانیں حیاتیاتی اعتبار سے انتہائی اہم ہیں اور بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمیوں سے ان پر اثر پڑ سکتا ہے۔
گفتگو کے دوران ڈاکٹر پاٹنکر نے یہ بھی کہا کہ مرجانی چٹانوں کو ہندوستانی جنگلی حیات تحفظ قانون کے تحت اعلیٰ درجے کا قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اسی تناظر میں راہل گاندھی نے کہا کہ اگر نکوبار کی مرجانی چٹانوں کو نقصان پہنچتا ہے تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے ملک میں بڑی تعداد میں شیروں کا مسکن تباہ کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پہلو پر عوامی سطح پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
Published: undefined
ڈاکٹر منیش چانڈی نے جزائر میں آباد شومپن اور نکوباری برادریوں کے روایتی علم اور طرز زندگی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ برادریاں صدیوں سے قدرتی وسائل کے ساتھ توازن قائم رکھتے ہوئے زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے مطابق 2004 کی سونامی کے دوران مقامی قبائلی برادریوں نے قدرتی علامات کو پہچان کر بروقت محفوظ مقامات کا رخ کیا تھا، جس سے ان کے ماحول سے گہرے تعلق کا اندازہ ہوتا ہے۔
ماہرین نے گریٹ نکوبار کی حیاتیاتی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں گھنے بارانی جنگلات، نایاب جانور، سمندری مخلوقات اور دیوقامت لیدربیک کچھوے پائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق گالاتھیا بے ان چند مقامات میں شامل ہے جہاں یہ کچھوے افزائش نسل کے لیے آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ساحلی ترقیاتی منصوبوں اور مصنوعی روشنیوں سے ان کے قدرتی رویوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
Published: undefined
گفتگو میں جنگلاتی حقوق قانون کے نفاذ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ڈاکٹر منیش چانڈی نے دعویٰ کیا کہ منصوبے سے متعلق فیصلوں میں ان قبائلی برادریوں کی رائے کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا جو ان جنگلات اور زمینوں پر انحصار کرتی ہیں۔ ان کے مطابق جنگلات مقامی آبادی کے لیے صرف زمین نہیں بلکہ خوراک، پانی اور روزمرہ زندگی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
ڈاکٹر چانڈی نے یہ بھی کہا کہ شومپن اور نکوباری برادریوں کے زمین اور وسائل سے متعلق تصورات روایتی اور اجتماعی نوعیت کے ہیں، جنہیں عام ملکیتی نظام کے پیمانوں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ان برادریوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔
Published: undefined
گفتگو کے اختتام پر راہل گاندھی نے کہا کہ ترقی کا عمل ماحولیات، مقامی آبادی اور آنے والی نسلوں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گریٹ نکوبار منصوبے سے متعلق بحث میں حصہ لیں اور اس کے ممکنہ اثرات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined