ویڈیوز

ویڈیو: جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی...سید خرم رضا

قومی آواز کے پروگرام ’میری بات‘ میں سید خرم رضا نے امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے عالمی معیشت، توانائی، سفارت کاری اور عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کا تجزیہ پیش کیا

<div class="paragraphs"><p>قومی آواز گرافکس</p></div>

قومی آواز گرافکس

 

چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے جب مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسی جنگ کی لپیٹ میں آیا جس نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سیاست، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی کے پورے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اگرچہ جنگ بندی کی متعدد کوششیں ہوئیں، مذاکرات کے کئی دور چلے، لیکن آج بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا یہ تنازع واقعی ختم ہونے جا رہا ہے یا دنیا ایک اور بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بحران سے قبل عمان میں سفارتی رابطے جاری تھے۔ مختلف ذرائع کے مطابق کشیدگی کم کرنے، ممکنہ تصادم کو روکنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ لیکن سفارت کاری کی میز پر ہونے والی بات چیت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور حالات اچانک فوجی تصادم کی طرف بڑھ گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا کو احساس ہوا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا راستہ کتنا نازک اور غیر یقینی ہے۔

ابتدائی دنوں میں عالمی مبصرین کی ایک بڑی تعداد کا خیال تھا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی عسکری برتری، جدید ٹیکنالوجی اور فضائی قوت کے باعث جلد ہی ایران کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیں گے۔ لیکن واقعات نے یہ تاثر مکمل طور پر درست ثابت نہیں ہونے دیا۔ ایران نے مختلف طریقوں سے جواب دیا اور یہ واضح کیا کہ وہ صرف دفاع تک محدود رہنے کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس کے بعد جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئی جہاں ہر حملے کے جواب میں ایک نیا حملہ سامنے آنے لگا اور کشیدگی مسلسل بڑھتی گئی۔

اس تنازع کا ایک اہم پہلو خلیج فارس میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور اڈے بھی رہے۔ ایران نے متعدد مواقع پر یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اگر اس کی سرزمین یا مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں موجود امریکی مفادات کو بھی محفوظ نہیں رہنے دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک بھی شدید دباؤ کا شکار ہوئے۔ ان ممالک نے برسوں سے اپنی سلامتی کے لیے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون کو بنیادی ستون سمجھا تھا، لیکن جنگ کے دوران انہیں پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں وہ خود بھی براہِ راست خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔

اس جنگ نے صرف حکومتوں کو نہیں بلکہ عوامی رائے کو بھی متاثر کیا۔ عرب اور مسلم دنیا کے مختلف حصوں میں ایران کے بارے میں رائے میں تبدیلی دیکھی گئی۔ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ صرف ایران کی عسکری حکمت عملی نہیں تھی بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم عنصر فلسطین، خصوصاً غزہ میں جاری انسانی بحران تھا۔ گزشتہ برسوں میں غزہ میں ہونے والی تباہی، عام شہریوں کی ہلاکتیں، بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد اور انسانی حقوق سے متعلق سوالات نے مسلم دنیا کے عوام میں اسرائیل اور اس کے اہم اتحادی امریکہ کے خلاف شدید غصہ پیدا کیا۔ اسی تناظر میں ایران کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جانے لگا جو اسرائیل کے مقابلے میں کھڑا ہے، چاہے اس کی علاقائی پالیسیاں بحث کا موضوع کیوں نہ ہوں۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جنگیں صرف محاذ پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ اطلاعات، بیانیے اور میڈیا کے میدان میں بھی جاری رہتی ہیں۔ ہر فریق اپنی کامیابیوں کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے، مخالف کے نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور اپنی ناکامیوں کو کم سے کم دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے کسی بھی جنگ کے دوران سامنے آنے والی ہر خبر کو احتیاط سے دیکھنے اور متعدد مستند ذرائع سے جانچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جدید دور میں اطلاعات کی جنگ بعض اوقات گولیوں کی جنگ سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

اس تنازع کا ایک اور اہم پہلو عالمی معیشت ہے۔ ایران دنیا کے اہم توانائی پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اگر خطے میں جنگ طویل ہو جائے یا تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ سمیت پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی، شپنگ انشورنس کی لاگت میں اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں ایسے عوامل ہیں جو دنیا کی ہر معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ دنیا کے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اگر یہاں کشیدگی بڑھ جائے یا جہاز رانی متاثر ہو تو عالمی منڈیوں میں فوری بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو محض ایک جغرافیائی راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔ اس راستے کی سلامتی صرف ایران، امریکہ یا خلیجی ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے معاشی استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔

جنگ کے دوران مختلف قسم کی قیاس آرائیاں بھی سامنے آتی رہیں۔ بعض حلقوں نے اس تنازع کو داخلی سیاسی مسائل سے جوڑا، بعض نے عالمی طاقتوں کے مفادات کو اس کا سبب قرار دیا، جبکہ کچھ لوگوں نے مختلف سازشی نظریات بھی پیش کیے۔ مثال کے طور پر بعض تبصروں میں ایپسٹین فائلز جیسے موضوعات کو بھی اس جنگ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

اصل سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ کیا امریکہ اور ایران کسی ایسے معاہدے تک پہنچ سکیں گے جو مستقل امن کی بنیاد بنے؟ کیا اسرائیل اور ایران کے درمیان تصادم کم ہوگا؟ یا پھر یہ کشیدگی ایک طویل پراکسی جنگ کی شکل اختیار کر لے گی؟ ان سوالات کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں۔ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ جنگ جتنی لمبی ہوگی، نقصان اتنا ہی زیادہ ہوگا۔

سب سے زیادہ قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔ فوجی، بچے، خواتین، بزرگ، بے گھر ہونے والے خاندان، تباہ ہونے والے اسپتال، بند ہوتے اسکول اور برباد ہوتی معیشتیں کسی بھی جنگ کا اصل چہرہ ہوتی ہیں۔ سیاسی قیادتیں بدل جاتی ہیں، حکومتیں آتی جاتی ہیں، لیکن جنگ کے زخم نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔

دنیا کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے وقتی برتری حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن پائیدار امن صرف مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی اعتماد سے ہی قائم ہوتا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنے اختلافات کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے میں ناکام رہیں تو اس کے نتائج صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

جس بڑی تعداد میں ایرانی عوام نے اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کی تقریب میں شرکت کی اس نے ایران میں ان کی مقبولیت  پر مہر ثبت کر دی ہے اور ایک مرتبہ پھر ایران میں امریکہ اور اسرائیل مخالف نفرتوں کو اجاگر کر دیا ہے ۔

آخر میں ساحر لدھیانوی کے وہ اشعار یاد آتے ہیں جو جنگ کی ہولناکی کو چند لفظوں میں بیان کر دیتے ہیں:

"جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے،
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی۔
آگ اور خون آج بخشے گی،
بھوک اور احتیاج کل دے گی۔"

شاید آج بھی دنیا کو اسی پیغام کی ضرورت ہے کہ جنگ میں کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوتا۔ اگر کوئی چیز جیتتی ہے تو وہ صرف تباہی، نفرت اور انسانی المیہ ہوتا ہے، اور اگر کچھ ہارتا ہے تو وہ انسان، انسانیت اور امن ہوتا ہے۔ میری بات کا یہ ایپی سوڈ آپ کو کیسا لگا، آپ اپنی آرا سے نوازتے رہئے اور میری بات کو دیکھنے کے لئے چینل کو سبسکرائب  کیجئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔