
قومی آواز بلیٹن: پیش خدمت ہیں آج کی کچھ اہم خبریں
ہندوستان میں کورونا انفیکشن کے شکار مریضوں کا علاج کر رہے ڈاکٹروں اور دیگر طبی اہلکاروں کے کورونا کی زد میں آنے کا سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ تازہ معاملہ نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا کا ہے جہاں ایک ڈاکٹر اور ایک نرس کووڈ-19 پازیٹو پائے گئے ہیں۔ 16 اپریل کو ان دونوں میں کورونا وائرس ہونے کی تصدیق کی گئی۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر مودی حکومت کی لاپروائی کے خلاف آواز اٹھنے لگی ہے کہ آخر کب وہ سنبھلے گی اور کب وہ مشکل وقت میں اپنی جان جوکھم میں ڈال کر علاج کر رہے طبی اہلکاروں کو ضروری پی پی ای یعنی پرسنل پروٹیشن اکوپمنٹ دستیاب کرائے گی۔
ہندوستان میں تیزی کے ساتھ پاؤں پسار رہے کورونا وائرس انفیکشن کے دوران کئی طرح کے مذہبی مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ کووڈ-19 سے ہلاک ہونے والے افراد کی مذہبی رسومات سے لوگوں کی دوری کی خبریں کئی مقامات سے آ چکی ہیں اور مسلمانوں میں یہ سوال کافی گشت کر رہا ہے کہ مردہ کو غسل، کفن اور دفن کس طرح کیا جائے۔ اس سلسلے میں فرنگی محل دارالافتاء لکھنؤ سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا ہے جس میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کے مشوروں کے مطابق چیزیں عمل میں لائی جائیں۔
چین میں کورونا وائرس کے اصل مرکز رہے ووہان نے جمعہ کے روز متاثرین اور اموات کے نظر ثانی شدہ اعداد و شمار جاری کئے۔ چین کی خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے بتایا کہ چین کے ووہان میں جاری نظر ثانی شدہ اعدادوشمار کے مطابق 16 اپریل کے اواخر تک کورونا وائرس متاثرین کی تعداد بڑھ کر 50،333 ہو گئی ہے اور ہلاکتوں کی تعدادبڑھ کر 3869 ہو گئی ہے۔چین میں تازہ اعداد و شمار کے مطابق متاثرین کی تعداد 82 ہزار سے زائد ہے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4632 ہے۔چین پر اب بھی مریضوں کی اموات کو چھپانے کا الزام عائد ہو رہا ہے۔
16 اپریل کو تحریر کردہ اپنے خط میں پرینکا گاندھی نے یوگی آدتیہ ناتھ کے سامنے 6 پوائنٹس میں اپنی بات رکھی ہے۔ ان 6 پوائنٹس میں انھوں نے یوگی آدتیہ ناتھ سے کہا ہے کہ وہ سب سے زیادہ اس بات پر فوکس کریں کہ کسانوں کو درپیش مسائل کا حل جلد از جلد نکالا جائے کیونکہ یہ وقت فصل کی کٹائی کا ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ کسانوں کی فصل کٹائی میں مدد کے ساتھ ان کی پیداوار کی خرید بھی یقینی کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں کوئی بہتر قدم اٹھایا جانا چاہیے۔
پوری دنیا میں اس وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 47 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد 22 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔
بانکوڑہ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سبھاس سرکار کے خلاف انڈین پینل کوڈ کے مختلف دفعات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ ، 2005 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات فراہم کرکے عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا ہے۔ دودن قبل وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’کورونا وائرس سے متعلق غلط خبریں اور افواہ پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اس کے بعد بانکوڑہ ضلع پولس نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سبھاش سرکار کے خلاف کیس درج کیا ہے۔
(قومی آواز قارئین سے ضروری گزارش، لاک ڈاؤن ہمارے اور آپ کے لئے ہی ہے، اس کی پابندی ہم پر لازم ہے۔ ماہ رمضان میں بھی عبادات گھر میں ادا کریں، آپ پرسب کی نظریں ہیں اس لئے اچھے انسان ہونے کا ثبوت دیں ، کورونا اور منافرت پھیلانے والوں کو شکست دیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔