
بیشتر مسلمان جو اپنا روایتی پیشہ چھوڑ کراس لاک ڈاؤن کے دوران سبزی اور پھل بیچنے کا کام کر رہے ہیں ان سے ہندو طبقہ دوری بناتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ لوگوں نے یہ جاننے کا ذریعہ تلاش کر لیا ہے کہ ان کے محلے میں آنے والا ہاکر ہندو ہے یا مسلمان۔ وہ ان کے پاس آتے ہیں اور رام رام کہتے ہیں۔ جو جواب میں رام رام کہہ دے تو اس کو گراہک مل جاتا ہے باقی کو وہاں سے دھکے دے کر نکال دیا جاتا ہے۔
ساری دنیا اس وقت کورونا وائرس کی زد میں ہے اور اس کے خلاف متحد ہو کر جنگ لڑ رہی ہے لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرتوں کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ تبلیغی جماعت کے نام پر میڈیا نے ایسا ہنگامہ برپا کیا ہے کہ شہر شہر اور گلی گلی مسلمانوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ معروف مصنفہ اروندھتی رائے نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس ماحول کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سماج مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف گامزن نظر آ رہا ہے۔ دیگر سماجی کارکنان نے بھی اس ماحول کے حوالہ سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بی بی سی ہندی نے اس ضمن میں کئی سماجی کارکنان کے بیان پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں کورونا وائرس انفیکشن کے مدنظر اس وقت مسجدوں میں نماز پڑھنے پر پابندی عائد ہے اور سبھی گھروں میں ہی عبادات کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور لوگ مسجدوں کی جگہ اپنے اپنے گھروں میں ہی پنج وقتہ نمازیں پڑھ رہے ہیں۔ اس درمیان سعودی عرب کے مفتی اعظم نے رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر نمازِ تراویح کے تعلق سے ایک فرمان جاری کیا ہے۔ مفتی اعظم نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ماحول کو دیکھتے ہوئے گھروں میں ہی تراویح اور عید کی نماز ادا کی جائے گی۔
مستقیم نے جو سینیٹائزر مشین بنائی ہے وہ 15 سیکنڈ میں کسی بھی شخص، موٹر سائیکل یا دونوں کو پوری طرح سینیٹائز کر دیتی ہے۔ اس کے لیے صرف ایک بار اس مشین کے اندر داخل ہونا ہوتا ہے۔ مستقیم کے اس کارنامہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کورونا سے لڑائی کے لیے عام آدمی بھی کس طرح کمر کس چکا ہے اور وہ صرف حکومت کے اوپر منحصر نہیں رہنا چاہتا۔
قومی آواز کے قارئین سے گزارش: لاک ڈاؤن ہمارے اور آپ کے لئے ہی ہے، اس کی پابندی ہم پر لازم ہے۔ ماہ رمضان میں بھی عبادات گھر میں ہی ادا کریں، آپ پر سب کی نظریں ہیں اس لئے اچھے انسان ہونے کا ثبوت دیں، کورونا اور منافرت پھیلانے والوں کوشکست دیں۔ شکریہ
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔