
خامنہ ای کے بعد ایران
سید علی خامنہ ای کے انتقال کی خبر نے عالمِ اسلام اور عالمی سیاست میں گہری بحث کو جنم دیا ہے۔ ہر مسلمان کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اسے شہادت کا درجہ نصیب ہو اور دنیا کے کروڑوں مسلمان خامنہ ای کو ایک شہید کے طور پر ہی یاد کر رہے ہیں۔
کافی عرصے سے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسے واقعات اچانک رونما نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے معلومات، تیاری اور حالات کا جائزہ شامل ہوتا ہے۔ 28 فروری کو بعض ایسے عوامل سامنے آئے جنہیں اس کشیدگی کے نقطۂ عروج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Published: undefined
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کسی بھی بڑی کارروائی کے لیے داخلی کمزوریاں یا معلوماتی رسائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کلہاڑی اس وقت تک درخت کو نہیں کاٹ سکتی جب تک اس میں لکڑی کا دستہ شامل نہ ہو۔ اسی طرح اگر کسی ملک کے اندر سے معلومات یا تعاون میسر نہ ہو تو بیرونی طاقتوں کے لیے کارروائی آسان نہیں ہوتی۔ دنیا کے تقریباً ہر ملک کے پاس خفیہ ایجنسیاں موجود ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتی رہی ہیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد عالمی سیاست پر اس کے اثرات کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے، تاہم بظاہر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والا دور مزید نظریاتی کشمکش اور مذہبی شدت کے مباحث کو جنم دے سکتا ہے۔ ایران میں مذہبی اقتدار کے فوری خاتمے کے آثار نظر نہیں آتے، کیونکہ وہاں کا نظام ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے پر قائم ہے۔
Published: undefined
اس جنگ یا کشیدگی نے عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کو مزید نمایاں کیا ہے۔ بعض لوگ اسے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ اسے ایران کی خارجہ پالیسی کے سخت مؤقف کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو درپیش قانونی معاملات اور امریکہ کی داخلی سیاسی پیچیدگیاں بھی اس بحث کا حصہ بنتی رہی ہیں۔
دوسری جانب ایران کی نئی نسل، جس نے محمد رضا شاہ پہلوی کا دور نہیں دیکھا، معاشی دباؤ اور افراطِ زر میں اضافے پر سوال اٹھاتی رہی ہے۔ یہ سوال بھی موجود ہے کہ مذہبی اور نظریاتی بنیاد پر جاری مزاحمت کو کب تک معاشی مشکلات پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ کہنا آسان ہے، جبکہ حکمرانی کے فیصلے اکثر پیچیدہ زمینی حقائق کے تحت کیے جاتے ہیں۔
Published: undefined
شیعہ سنی اختلافات کی بات کی جائے تو یہ تقسیم زیادہ تر پیدائشی شناخت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اور معاشرتی سطح پر سوائے چند استثنائی صورتوں کے بڑی حد تک جمود کا شکار رہتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حکمران طبقہ بعض اوقات ان اختلافات کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔
بلاشبہ حالیہ حالات نے عوام اور حکمرانوں کے درمیان خلیج کو وسیع کیا ہے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف جذبات میں شدت پیدا کی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کی مقبولیت میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ تاہم مستقبل کیا رخ اختیار کرے گا، یہ آنے والا وقت ہی واضح کرے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined